0
Tuesday 2 Apr 2019 21:30

ہلال احمر کے اکاونٹ بند، انسانیت کی بدترین تذلیل

ہلال احمر کے اکاونٹ بند، انسانیت کی بدترین تذلیل
تحریر: نذرحافی
nazarhaffi@gmail.com

یہ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملہ ہوا، مسلمان شہید ہوئے لیکن ساری ہمدردیاں اہلِ مغرب نے حاصل کر لیں، ہر طرف نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم جاسنڈا آرڈرن کا چرچا ہوا۔ ہم اور ہمارا میڈیا شہیدوں کے بجائے نیوزی لینڈ کی وزیرِاعظم کے حسنِ اخلاق کے گن گاتا رہا۔ ہم بھی یہی راگ الاپتے رہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور ہم بھی یورپ کی انسانیت دوستی کا ڈھول پیٹتے رہے۔ ہم دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنے کے بجائے، یورپ کے قصیدے لکھنے میں مصروف ہوگئے۔ چونکہ ہم نہیں جانتے کہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ مثلاً دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے تقریباً 65 ہزار پاکستانی قربان کر دیئے، لیکن اس کے باوجود ہمیں ہی دہشت گرد کہا جاتا ہے، ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہر بڑی طاقت نے دہشت گردی کی من مانی تعریف کر رکھی ہے اور اپنے مخالفین کو کچلنے کے لئے اس تعریف کا استعمال کیا جاتا ہے، چنانچہ جو ساری دنیا میں شدت پسندوں کی نرسریاں لگاتے ہیں، خودکُش حملہ آور تیار کرتے ہیں، دہشت گردوں کے ٹریننگ سنٹروں کو مالی، عسکری اور قانونی مدد فراہم کرتے ہیں، ان کے نزدیک یمن کی انصاراللہ، فلسطین کی حماس، لبنان کی حزب اللہ، کشمیر کی حریت کانفرنس دہشت ہے۔

اسی طرح ایک اصطلاح، دینِ اسلام کی بھی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ اس اصطلاح کو بھی امریکی و یورپی عناصر نے اپنے مقاصد کے لئے خوب استعمال کیا ہے، ہمارے ہاں قرآن و روایات کا جتنا استفادہ لوگوں کو دہشت گرد بنانے، انہیں عقب ماندہ رکھنے،  قتل و غارت پر ابھارنے اور ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کیا گیا، اگر اتنا استفادہ انسانوں کو بچانے، برائیوں کے خاتمے، فلاح و بہبود، رفاہِ عامہ، عدل و انصاف، باہمی بھائی چارے اور محبت و اخوت کی خاطر کیا جاتا تو آج ہمارے ملک کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ ہمیں پتہ ہونا چاہیئے کہ دنیا میں یہی کچھ جمہوریت کی اصطلاح کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ امریکی و یورپی ممالک کو شام کی بادشاہت تو کھٹک رہی ہے، لیکن خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب کی بادشاہت سے انہیں کوئی مشکل نہیں، بلکہ وہ شام میں سعودی عرب کے ذریعے ہی جمہوریت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی انسانیت کے نعرے تو لگاتے ہیں، لیکن ہمیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ انسانیت اور humanity کی اصطلاح بھی امریکی و یورپی دنیا اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔

موجودہ صدی میں عالمِ انسانیت کو ایٹم بم کے خطرے سے نجات دلانے کے نام پر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی، پاکستان پر اس کی قوت برداشت سے زیادہ دباو ڈالا گیا، ایران پر انسانیت سوز پابندیاں لگائی گئیں۔ حالانکہ نہ عراق نے کہیں ایٹم بم پھینکا، نہ پاکستان نے اور نہ ایران نے۔ جن کے پاس آن دی ریکارڈ ایٹم بم موجود ہیں، جو ایٹم بم استعمال بھی کرچکے ہیں اور جو عالمِ انسانیت کے لئے حقیقی خطرہ ہیں، وہی انسانیت کے بچاو کے نام پر دیگر ممالک پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ انسانیت کے نام  پر بغض اور کینہ نکالنے کا یہ عالم ہے کہ افغانستان میں انسانیت کی دھجیاں اڑائی گئیں، افغانی جوانوں، بوڑھوں، خواتین اور بچوں کو جی بھر کر قتل کیا گیا اور انہیں ہجرت پر مجبور کیا گیا، افغانی تہذیب و تمدن کا بھرکس نکال دیا گیا، حتیٰ کہ آج بھی ہزاروں افغانی مہاجرین کیمپوں میں دھکے کھا رہے ہیں، امریکی و یورپی مفادات کے لئے افغان بچوں کو دہشت گردی کی ٹریننگ دے کر افغانستان کے مستقبل کو تاریک کر دیا گیا۔

ہمیں یا تو پتہ نہیں اور یا پھر ہمیں احساس ہی نہیں کہ اس وقت بھی یمن میں نہتے یمنیوں پر بارود پھینکا جا رہا ہے اور غذائی قلت کے باعث اوسطاً ہر دس منٹ میں ایک  یمنی بچہ مر رہا ہے۔ جس وقت میں یہ کالم لکھ رہا ہوں، ان دنوں ایران میں دو ہفتوں سے سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث انسانی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے، کتنے ہی گاوں پانی کے محاصرے میں ہیں، کتنی ہی بستیاں ڈوب گئی ہیں اور کتنے ہی انسان موت کے منہ میں مدد کے منتظر ہیں۔ ایسے میں امریکہ نے ایران میں لوگوں کی مدد کرنے کی والی انجمن ہلال احمر کے اکاؤنٹ بھی بند کر دیئے ہیں۔ ایران میں انجمن ہلال احمر کے سربراہ علی اصغر پیوندی نے کہا ہے کہ ہلال احمر کے سوئیفٹ اکاؤنٹ کے ذریعے ہم عالمی امداد حاصل کرتے تھے، لیکن اب یہ اکاؤنٹ بند کر دیئے گئے ہیں۔ یہ ہے امریکہ و یورپ کا اصلی چہرہ اور ان کی انسانیت دوستی اور یہ ہے عالمی برادری کے سینے میں مسلمانوں کے لئے دھڑکتا ہوا دل۔ مقام فکر  ہے اربابِ فکر کے لئے کہ عالمی برادری کا جو دل نیوزی لینڈ کی ایک مسجد میں صرف پچاس مسلمانوں کے شہید ہونے پر اتنا نرم ہوگیا تھا، وہ ایران میں ہونے والی سیلابی تباہ کاری اور انسانی تلفات پر کیوں اتنا سخت ہوگیا ہے کہ اس نازک موقع پر مدد کرنے کے بجائے ہلال احمر جیسے ادارے کے اکاونٹ بھی بند کر دئیے گئے ہیں۔

انسانی فطرت اگر صحیح و سالم ہو تو مساجد میں مرنے والوں کے درمیان کوئی فرق نہیں، مسجد چاہے نیوزی لینڈ میں ہو یا پاکستان میں اور نہ سیلاب، آفات اور زلزلوں میں جان دینے والوں کے درمیان کوئی تقسیم ہوسکتی ہے، انسان، انسان ہی ہوتا ہے، چاہے مشرق سے تعلق رکھتا ہو یا مغرب سے۔ نیوزی لینڈ کی خون آلود مسجد ہم سے پوچھ رہی ہے کہ کہاں ہے وہ انسان دوستی! کہاں ہیں وہ آنسو! کہاں ہیں وہ ہمدردیاں! کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سب سے بڑھ کر کہاں ہے وہ موم بتی مافیا! جو امریکہ و مغرب کی انسان دوستی کا قصیدہ گو ہے۔ کیا افغانستان، یمن، بحرین اور ایران میں انسان نہیں رہتے اور یا پھر انسانی ہمدردی بھی امریکی و یورپی  رضامندی کی محتاج ہے۔ ایرانی حکومت سے دشمنی کا بدلہ اقتصادی پابندیوں کے ذریعے عوام سے لینا سراسر اقتصادی دہشت گردی ہے اور زلزلے میں گھرے ہوئے لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے ہلالِ احمر کے اکاونٹ بند کر دینا، یہ انسانیت کی بدترین تذلیل ہے۔
خبر کا کوڈ : 786556
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب