0
Wednesday 3 Apr 2019 12:28

پاکستان کو بدنام نہ کریں۔۔۔۔!

پاکستان کو بدنام نہ کریں۔۔۔۔!
تحریر: تصور حسین شہزاد

اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے نو مسلم بہنوں کی عمروں سے متعلق رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ پمز ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ڈاکٹر ثانیہ نے رپورٹ مرتب کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روینا کی عمر 19 سال 6 ماہ، رینا کی عمر 18 سال 6 ماہ ہے۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق دونوں نو مسلم بہنوں کی عمر کا تعین ہڈیوں کے ریڈیالوجیکل تجزیے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جبکہ رپورٹ میں عمر کی مزید تصدیق کیلئے دانتوں کے تجزے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمر کے مزید تعین کیلئے ڈینٹل اور کلینکیل چیک اَپ کرایا جائے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہڈیوں کے ریڈیالوجیکل تجزیے کو دنیا بھر میں موثر ترین مانا جاتا ہے تاہم لڑکیوں کے لواحقین کی تسلی کیلئے ڈینٹل اور کلینیکل ٹیسٹ بھی کروائے جا رہے ہیں۔
 
لڑکیوں کی عمر کے حوالے سے حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے بعد ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ پاکستان مخالف ایجنڈے پر کاربند این جی اوز اور موم بتی مافیا خاموش ہو جاتا، مگر اب انہوں نے یہاں سے ہونیوالی سبکی کے بعد اس معاملے کو چھوڑ کر نیا ایشو کھڑا کر دیا ہے اور وہ اقلیتوں کے تحفظ کیلئے سندھ اسمبلی سے پاس ہونیوالا بل ہے۔ اب یہ مافیا اس بل کو لے کر شور برپا کرنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ اقلتیوں کے تحفظ کیلئے اس بل کو قانون بنا کر نافذ کیا جائے۔ سندھ اسمبلی نے نومبر 2016ء میں مینارٹیز پروٹکشن بل منظور کیا تھا، جس کے تحت جبری طور پر مذہب کی تبدیلی اور اس میں معاونت پر 3 سے 5 سال قید کی سزا اور مقدمات کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ بل مسلم لیگ فنکشنل کے اقلیتی رکن نند کمار گوکلانی نے پیش اسمبلی میں کیا تھا، اس بل کے ابتدائیہ میں کہا گیا ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی ایک مکروہ جرم ہے، جو پورے سندھ میں نظر آتا ہے اور جس کی روک تھام ضروری ہے۔

سندھ اسمبلی میں پیش کئے گئے اس بل میں جبری مذہب کی تبدیلی میں سہولت کاری کو بھی جرم قرار دیا گیا، متن کے مطابق اگر کوئی شخص جس کو معلوم ہے کہ ایک فریق یا دونوں فریقین کا مذہب جبری تبدیل کیا گیا ہے اور وہ شادی میں معاونت یا سہولت فراہم کرتا ہے، تو وہ بھی سزا کا مستحق ہوگا۔ اس کو 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ شادی کا انتظام کرنے، نکاح پڑھنے والے مولوی اور دیگر سہولتیں فراہم کرنیوالوں کو بھی شریک جرم تصور کیا جائے گا۔ اس بل کے مطابق اگر کوئی کم عمر بچی یا بچہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مذہب تبدیل کر لیا ہے تو اس کے دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا تاہم بچے کے والدین یا کفیل اپنے خاندان سمیت مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی مختلف حوالوں سے ہو سکتی اس کو صرف جبری شادی یا جبری مشقت تک محدود نہیں سمجھا جائے گا۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی پر جبری مذہب تبدیل کرنے کا الزام ثابت ہو جاتا ہے، تو ملزم کو 5 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی اور یہ جرمانہ متاثرہ فریق کو دیا جائے گا۔ بل میں بتایا گیا ہے کہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کے مقدمے میں سندھ چائلڈ میریج ایکٹ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 498، 375، 376، 365 اور 361 کو بھی شامل رکھا جائے گا، اس کے علاوہ جبری مشقت کے خاتمے کے قانون کی شقیں بھی اس قانون میں شامل ہوں گی۔ اس بل کے منظور ہونے پر ہماری کچھ مذہبی جماعتوں نے احتجاج بھی کیا کہ یہ جانبدارانہ بل ہے۔ مذہبی جماعتوں کے تحفظات بہر حال اپنی جگہ پر ہیں۔  لیکن اس بل میں کو اب بنیاد بنا کر موم بتی مافیا میدان میں اترنے جا رہا ہے۔ نو مسلم لڑکیوں کے معاملے میں سبکی کی بعد ملک دشمنی کا ایجنڈا تبدیل کر لیا گیا ہے۔

اس بل کو نافذ کروانا اسمبلی کا کام ہے، لیکن این جی اوز کی جانب سے اس حوالے سے دباو ملکی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے ان این جی اوز کی حدودو قیود مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ ان این جی اوز کو بتایا جائے کہ پاکسان کو بدنام نہ کریں، اگر کام ہی کرنا ہے تو غربت، بے روزگاری، انتہاء پسندی کیخلاف کام کریں، معاشرے میں رواداری کو فروغ دیں۔ بے بنیاد نظریات اور مفروضوں پر ملک کو تو بدنام نہ کریں۔ اب نیا پاکستان ہے اور نئے پاکستان میں اقلتیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، کیوں کہ حکومت پہلے ہی اقلتیوں کو تحفظ دینے کا عزم رکھتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 786606
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب