0
Wednesday 3 Apr 2019 18:14

دوحہ اور ریاض، مزید کشیدہ ہوتے تعلقات

دوحہ اور ریاض، مزید کشیدہ ہوتے تعلقات
تحریر: مہران کام روا

اگرچہ ذرائع ابلاغ پر قطر اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں آنا کم ہو گئی ہیں لیکن علاقائی سطح پر سفارتی اور سیاسی میدان میں موجود حقائق سے چشم پوشی کرنا ممکن نہیں۔ اس بات کی تصدیق کیلئے خلیج تعاون کونسل کے اجلاس کیلئے بھیجے گئے حالیہ دعوت نامے کا جائزہ لینا ہی کافی ہے۔ یہ دعوت نامہ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے قطر کے خارجہ امور کے مشیر کی جانب ارسال کیا گیا ہے۔ قطر کے سب سے بڑے نیوز چینل کے طور پر الجزیرہ نیوز چینل اور دنیا کے دیگر ذرائع ابلاغ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ عرب دنیا کے امور سے آگاہ تجزیہ کار اس رائے کا اظہار کر رہے تھے کہ یہ دعوت نامہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر جمی برف پگھلنے کا باعث بنے گا اور ان میں موجود کشیدگی کی شدت میں کمی واقع ہو گی۔ اس سے ملتے جلتے تاثرات اس وقت بھی دیکھے گئے تھے جب ریاض میں تجارتی کانفرنس کا انعقاد ہوا تھا۔ اس اہم اقتصادی اجلاس میں سعودی عرب کے ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قطر کی تجارتی صورتحال کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ دوحہ اور ریاض کے تعلقات اسی طرح باقی نہیں رہیں گے۔
 
اس وقت اکثر تجزیہ کاروں نے سعودی ولیعہد کے اس بیان سے یہ نتیجہ نکالنے کی کوشش کی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آنے والی ہے لیکن ان کی یہ خوش بینی بھی درست ثابت نہ ہوئی۔ دوسری طرف معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کیس میں جو شدید دباو سعودی ولیعہد پر آیا تھا اس کے تناظر میں بعد ماہرین کا خیال تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان اس بحرانی صورتحال سے نکلنے کیلئے قطر کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے لیکن گذشتہ مدت میں سب نے دیکھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کوئی خوشگوار تبدیلی نہیں آئی اور حتی قطر کی جانب سے خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ چھوڑ دینے کی باتیں بھی سامنے آ چکی ہیں۔ ان تمام حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بدستور باقی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی کشیدگی باقی رہنے کی بڑی وجہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کے بارے میں قطری حکام کا زاویہ دید ہے۔ قطری حکام یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہیں سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے جس کی ایک بڑی نشانی تیل درآمد کرنے والے ممالک کے اتحاد "اوپیک" سے قطر کا باہر نکل جانا ہے۔
 
اگرچہ قطر نے اوپیک ترک کرنے کی وجہ واضح طور پر بیان نہیں کی لیکن قطری حکام نے اشاروں کنایوں میں یہ بات کہہ دی ہے کہ اوپیک چھوڑنے کی اصل وجہ اس بین الاقوامی ادارے کے رکن ممالک پر سعودی عرب کی جانب سے حد سے زیادہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا ہے۔ اس مدت میں بحرین کی جانب سے بھی علاقائی اور عالمی سطح پر قطر کے اقدامات اور موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حتی بعض مواقع پر سعودی عرب سے ہم آہنگی کے باعث بحرین کی جانب سے قطر کے خلاف بیانات میں بہت زیادہ شدت بھی دیکھی گئی ہے۔ اوپیک سے زیادہ اہم مسئلہ قطر کی جانب سے خلیج تعاون کونسل چھوڑ دینے کا امکان ہے۔ اگر حقیقت پسندانہ طور پر اس علاقائی تنظیم کی پوزیشن کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ماضی کی نسبت اس کی پوزیشن زیادہ کمزور ہو چکی ہے اور اب اس کی پہلے جیسی افادیت نہیں رہی۔ ماضی میں امریکہ کی پالیسی یہ تھی کہ وہ خلیج تعاون کونسل کو خطے میں اپنی سکیورٹی ڈھال کے طور پر استعمال کرے اور وہ اس مقصد میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا لیکن موجودہ امریکی اسٹبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ خلیج تعاون کونسل ماضی کی طرح مفید نہیں رہی۔
 
لہذا خلیج تعاون کونسل کے 39 ویں اجلاس کے اختتامی بیان میں ایران اور اس کے اتحادی ممالک سے مقابلہ کرنے کیلئے نیٹو طرز پر عربی فوجی اتحاد تشکیل دینے پر زور دیا گیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ موجودہ حالات میں خلیج تعاون کونسل کا کوئی رکن ملک اس علاقائی تنظیم سے باہر نکل کر اس الزام کا نشانہ بننا نہیں چاہتا کہ وہ اس تنظیم کے ختم ہونے کا باعث بنا ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ خلیج تعاون کونسل کی اہمیت دو بنیادی ارکان، سیاسی اور تکنیکی، پر استوار ہے۔ سیاسی اعتبار سے یہ کونسل علاقائی سطح پر دفاعی نظام تشکیل دینے اور میزائل ڈیفنس سسٹم کی ہم آہنگی کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان سکیورٹی اور فوجی اتحاد کو مزید مضبوط بنانا ہے جبکہ دوسری طرف عالمی سطح پر دیگر ممالک سے رکن ممالک کے تعلقات کو بھی بہتر بنانا ہے۔ تکنیکی اعتبار سے خلیج تعاون کونسل کی ذمہ داری رکن ممالک کے درمیان انجام پانے والی مہاجرت اور روزگار کے مواقع پر نظر رکھنا اور ان کی مدیریت کرنا ہے۔ ان دو شعبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کی افادیت ختم ہونے کے قریب ہے جس کی ایک واضح دلیل سعودی عرب اور قطر کے کشیدہ تعلقات ہیں۔
 
آج ہم اہم علاقائی ایشوز میں بھی قطر کی بے طرفی کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اگرچہ قطر مصر، لیبیا، شام، عراق یا ترکی جیسے ممالک کے سیاسی میدانوں سے مکمل طور پر باہر نہیں نکلا لیکن ماضی کی طرح ان سے مربوط امور میں مداخلت نہیں کر رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قطر نے اپنی ترقی اور قومی سلامتی کے تحفظ کو پہلی ترجیح قرار دے رکھا ہے۔ قطر اپنی معیشت کی ترقی کیلئے ترکی کی جانب جھکاو پیدا کر چکا ہے۔ شاید بعض ماہرین کی رائے یہ ہو کہ قطر ماضی کی طرح سعودی عرب سے سبقت لینے کی کوشش نہیں کرے گا لیکن امریکہ سے قریب ہونے میں قطر اور سعودی عرب کے درمیان دوڑ جاری ہے۔ اسی مسئلے کی وجہ سے خطے کے سیاسی مقررات میں قابل توجہ تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ حال ہی میں قطر میں جو چیز ابھر کر سامنے آئی ہے وہ قطری عوام کے اندر سعودی عرب سے نفرت کے بڑھتے ہوئے جذبات ہیں۔ قطری عوام سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب نے علاقائی اور عالمی سطح پر قطر کے وقار اور عزت کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
 
قطر کے شہری سعودی عرب کے بارے میں بغض آلود اظہار خیال کرتے ہیں۔ قطر کی مختلف یونیورسٹیز کی جانب سے انجام پانے والی سروے رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطری عوام کے دل میں سعودی خاندان کی نسبت پیدا ہونے والا کینہ اور نفرت آئندہ کئی نسلوں تک جاری رہے گا۔ قطر کے عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ سعودی حکمرانوں نے ان کی تذلیل کی ہے اور انہیں نقصان پہنچایا ہے۔ لہذا قطری شہریوں کے دل میں سعودی عرب سے دشمنی باقی ہے۔ سیاسی ماہرین خاص طور پر سیاسی ماہر سماجیات کا خیال ہے کہ حتی اگر قطر اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری بھی آ جاتی ہے تب بھی عوام کے اندر موجود یہ دشمنی اور نفرت باقی رہے گی۔ دوسری طرف حالیہ تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطری عوام ایران کو اپنے لئے اصلی خطرہ تصور نہیں کرتے بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 786659
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے