1
Friday 5 Apr 2019 07:38

شام سے وینزویلا تک

شام سے وینزویلا تک
اداریہ
امریکی سازش کا شکار ملک وینزویلا اس وقت مشکل صورت حال سے گزر رہا ہے۔ امریکہ عرصے سے اس ملک پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن ماضی میں ہوگو شاوز اور اس وقت نیکلوس مادورو اپنی عوامی حمایت کے بدولت امریکہ کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن کی کھلم کھلا حمایت اور مادورو کو عوام کی نفرتوں کا شکار بنانے کے لیے امریکہ مسلسل سیاسی، اقتصادی اور سفارتی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ ایک آزاد و خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں امریکہ بہادر جس طرح کھلم کھلا مداخلت کا مرتکب ہو رہا ہے، اس کی نہ اقوام متحدہ اجازت دیتی ہے اور نہ ہی دنیا میں رائج سفارتی و سیاسی اقدار۔ وینزویلا کا تیل امریکہ کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے، وہ اس پر قبضے کے لئے بے تاب ہے، لیکن کاراکاس ابھی تک گھٹنے ٹیکنے پر تیار نہیں ہے۔

وینزویلا کے وزیر خارجہ "خورخہ آریاسا" آج کل شام کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے شامی صدر بشار الاسد سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں امریکہ کی طرف سے انجام پانے والے تمام اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بشار الاسد کو بتایا کہ امریکہ نے وینزویلا کے بارے میں غلط اندزاہ لگایا، جس کے نتیجے میں اس نے وینزویلا کی عوامی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ وینزویلا کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ہماری قوم اپنے وسائل، جمہوریت اور نظام کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے اور امریکہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ شام کے صدر بشار الاسد نے اس ملاقات میں بڑے پتے کی بات کی۔ ان کا کہنا تھا شام اور وینزویلا کے حالات بہت زیادہ ملتے جلتے ہیں، یہاں پر بھی امریکہ نے ایک کمزور اپوزیشن کو ساتھ ملا کر علاقائی عرب اتحادیوں کی مدد سے دنیا بھر سے دہشت گردوں کو اکٹھا کرکے شام کی قانونی حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کی، یہاں پر بھی امریکہ کے اندازے غلط ثابت ہوئے اور آج امریکہ اور اس کے حواری شام میں زخم چاٹ رہے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ لینے کے لیے جگہ نہیں مل رہی۔

امریکہ اور سامراجی طاقتیں دنیا پر تسلط کے لیے اپنے تھنک ٹینکس کے ذریعے سازشیں تیار کرتی ہیں، لیکن اندازوں کی غلطیوں کی وجہ سے انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ امریکہ ایران کے اسلامی انقلاب اور انقلابی عوام کے خلاف بھی گذشتہ چالیس برسوں سے غلط اندازے لگا رہا ہے اور ہر سازش کے بعد اس پر ثابت بھی ہو جاتا ہے کہ انہیں اندازے کی غلطی کا سامنا ہے، لیکن کچھ عرصے بعد وہی غلطی دہرائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس ملک کی قیادت اور عوام اپنے ملک اور نظام سے مخلص ہیں، اس کو کوئی بیرونی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ مسلمان ملک واشنگٹن کی طرف دیکھنے کی بجائے اگر اپنے عوام پر توجہ دینا شروع کر دیں تو انہیں نہ کسی کا ڈرائیور بننا پڑے گا اور نہ آئی ایم ایف اور دوسرے ممالک کی کاسہ لیسی کرنا پڑے گی۔
خبر کا کوڈ : 786960
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب