0
Wednesday 10 Apr 2019 17:47

مایوس کن معاشی صورتحال

مایوس کن معاشی صورتحال
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کمال ڈھٹائی کیساتھ امید دلائی ہے کہ ملکی معیشت کو آئی سی یو سے نکال کر وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے، ملک سے معیشت کی بحرانی کیفیت ختم ہوگئی ہے، اب ہم استحکام کے مرحلے میں ہیں، جو ڈیڑھ سال تک رہے گا، اقتصادی فریم ورک پر عمل درآمد کے نتیجے میں 2022ء اور 2023ء میں اقتصادی ترقی کی شرح گذشتہ 15 سال کی بلند ترین سطح پر ہوگی، جبکہ شرح تبادلہ کا پائیدار نظام قائم ہوگا، غربت اور قرضوں میں کمی آئیگی، جبکہ 40 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف بھی حاصل کیا جائے گا۔ لیکن وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک میں بے پناہ مہنگائی سے عوام پریشان ہیں، شدید مالی بحران پر قابو پانے کی کوششیں کی جا رہی ہے، مگر حالات بہتر ہونے میں عوام کو 6 سے 7 سال تک صبر کرنا ہوگا۔ بے یقینی بھی ختم ہونی چاہیئے۔ بلاشبہ حکومتی معاشی ٹیم کو اعصاب شکن چیلنجز درپیش ہیں، مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول کارے دارد ہے، جبکہ معیشت سے متعلق افواہوں، حکومتی دعوئوں اور وزراء کے متضاد بیانات نے حقیقت اور خرافات کو گڈ مڈ کر دیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت کو بجلی اور گیس مہنگی کرنے کا کہا ہے اور حکومت کو بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنا پڑیں گی۔ انھوں نے کہا مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے والا ہے۔ حکومت نے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے، جبکہ اعداد و شمار کچھ اور کہانی بتا رہے ہیں۔ مہنگائی، بے چینی اور بے بسی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے، سوال یہ ہے کہ یہ مہنگائی کیسے ہو رہی ہے؟ کیا یہ خود ساختہ ہے یا حقیقی؟ کہانی صرف اتنی سی ہے کہ غریب آدمی کا جینا دو بھر ہوگیا ہے۔ کوئی یہ نہیں بتا پا رہا کہ آج ملک پر کھربوں روپے کا قرضہ کیسے چڑھا ہے۔ ماضی میں لیے جانے والے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم قرضوں کو چکانے کا وقت (2019-20) آن پہنچا ہے۔ آیندہ چند ماہ میں پاکستان نے 12 سے 14 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ ہمارا تجارتی خسارہ بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی زیادہ ہے۔

آئی ایم ایف کے ساتھ بار بار مس کمٹمنٹ کے باعث ہمیں نچلے درجے کے ممالک کی فہرست میں پھینک دیا گیا ہے۔ کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ جب حکومت آئی تو اربوں ڈالر کے امپورٹ بل ادا کرنے والے تھے، جس سے زر مبادلہ کے ذخائر ریکارڈ سطح تک نیچے چلے گئے۔ یہ سب باتیں شاید متعدد مرتبہ کی جاچکی ہوں، مگر سوال یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کو اس نہج تک پہنچانے والوں میں کیا تحریک انصاف قصور وار ہے؟ میں تحریک انصاف کا نمایندہ تو نہیں، مگر بطور پاکستانی یہ جاننے کا حق ضرور رکھتا ہوں کہ میرے ملک کی بدحال معیشت میں کس نے کتنا حصہ ڈالا اور کون کتنا قصوروار ہے۔ جتنی جلد مریض معیشت صحت یاب ہو، اتنا ہی بہتر ہے، تاہم عوامی حلقوں اور اپوزیشن کے اس استدلال پر حکمراں سنجیدگی سے غور کریں کہ جب بحران ختم ہوچکا، پانچ سال میں معیشت مستحکم ہوگی، ساری مشکلیں آسان ہوں گی۔

ملازمتوں کی بارش برسے گی، ریڑھی اور چھابڑی والا کہے کا آئو مجھ سے ٹیکس لے لو، حالات ایک دو ہفتہ میں بدل جائیں گے، لوگ آسودہ ہو جائیں گے، اگر واقعی ایسا دل خوش کن منظر نامہ ممکن ہے تو حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کو کیوں بے تاب ہے؟ valid سوال ہے۔ بہرحال یہ بات حقیقت ہے کہ ملک کی معاشی حالت انتہائی خراب ہے اور موجودہ حکومت پر اس کا بہت شدید دباؤ ہے۔ ماضی کے حکمران تو اپنا کام کرکے چلے گئے، اب سب سے زیادہ ذمے داری تحریک انصاف پر ہی عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کو اس بحران سے نکالے۔ عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے، اس کے ساتھ ساتھ عالمی صف بندی میں اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنا بھی ایک اہم ترین بات ہے، دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت اپنے آپ کو کس حد تک مشکل صورت حال سے نکالنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ بہرحال ملک کی بہتری اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے مثبت پالیسی پیش رفت ہی مناسب ہے۔ عوام معاشی تبدیلی کو محسوس کریں، یہی حکومت کا اصل امتحان ہے۔
خبر کا کوڈ : 787976
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب