0
Friday 12 Apr 2019 07:42

دہشتگردی کا منبع اور سراپا

دہشتگردی کا منبع اور سراپا
اداریہ
دہشت گردی کی بہت سے تعریفیں اور مفاہیم بیان کیے گئے ہیں، لیکن اس میں سب سے آسان فہم اور رائج تعریف یہ ہے کہ ہر وہ عمل جس میں کوئی شخص ہدف نہ ہو، لیکن ایسی کارروائی انجام پائے جسے سننے، دیکھنے، محسوس کرنے والے اور حتیٰ اس واقعے کو پڑھنے والے فرد پر خوف و ہراس طاری ہو جائے، اسے سیاسی اصطلاح میں دہشت گردی کہا جائے گا۔ لفظ دہشت گردی خود دو لفظوں کا مرکب ہے، دہشت یعنی خوف و ہراس اور گردی جیسے آوارہ گردی۔ آیئے دہشت گردی کی اس رائج تعریف میں یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آج دنیا میں سب سے بڑا دہشت گرد کون ہے۔؟ کس کے اقدام سے دنیا، ممالک اور انسان خوف و ہراس کا شکار ہو جاتے ہیں یا ماضی میں ہوچکے ہیں۔ مسئلے کو سمجھنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کے بعد اور اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کے قیام کے بعد کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں کہ کس ملک کی سرگرمیاں اور اقدامات عالمی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں۔

آغاز ہیروشیما اور ناگاساگی سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد ویت نام چلتے ہیں، ویت نام کے بعد افغانستان کے راستے ایران آتے ہیں اور بذریعہ ایران، عراق، شام اور لبنان کا رخ کرتے ہیں، لیکن ان کے تذکرے کے ساتھ ساتھ غاصب صہیونی حکومت کے قیام اور غزہ کے محاصرے تک آتے ہیں۔ مذکورہ ہر قصے اور واقعے میں جس ملک اور مملکت کا نام سب سے نمایاں اور سرفہرست آتا ہے، وہ "امریکہ" ہے۔ سوال یہ ہے کہ عالمی دہشت گردی کا خالق و مالک کیا کسی دوسرے ملک یا کسی ادارے کو دہشت گرد قرار دے سکتا ہے؟ جب دہشت گرد خود دہشت گردوں کی فہرستیں بنانے لگیں گے تو اس فہرست مین دہشت گردوں کے حامیوں سے زیادہ دہشت گردی مخالف ممالک اور اداروں کا نام ہی آئے گا۔ کبھی حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینا، کبھی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنا، اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ البتہ یاد رہے مستقبل میں جو ملک، ادارہ، فورس اور تنظیم امریکہ کے خوف و ہراس اور رعب و دبدبے کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کرے گی، وہ آئندہ کی دہشت گرد تنظیم، ادارہ، ملک اور فورس کہلوانے کے لیے تیار رہے۔
"جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے"
خبر کا کوڈ : 788237
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب