1
Friday 12 Apr 2019 14:54

سنٹکام، خطے میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا امریکی ذریعہ

سنٹکام، خطے میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کا امریکی ذریعہ
تحریر: مہدی پور صفا

دہشت گردانہ نوعیت کی حامل مختلف فوجی کاروائیوں میں امریکی افواج کی بھرپور شرکت ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں سرد جنگ آغاز ہونے کے بعد گذشتہ ستر برس کے دوران کافی حد تک ٹھوس شواہد پائے جاتے ہیں۔ 1974ء ایران میں فوجی بغاوت اور ڈاکٹر مصدق کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے سے لے کر 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں لاطینی امریکہ میں وسیع قتل و غارت کے ہمراہ بغاوتیں اور افغانستان اور عراق پر کھلم کھلا فوجی جارحیت ایسے وسیع مجرمانہ اقدامات کی چند مثالیں ہیں جن کا نتیجہ اقوام عالم کی دسیوں سال پر مبنی تباہی اور نابودی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ مشرق وسطی خطے میں امریکی مداخلت اور دہشت گردانہ نوعیت کے فوجی اقدامات دنیا کے باقی حصوں کی نسبت سب سے زیادہ جانی نقصان کا باعث بنے ہیں۔
 
سنٹکام کا آغاز کیسے ہوا؟
1979ء میں ایران میں امام خمینی رح کی قیادت میں اسلامی انقلاب فتح و کامرانی سے ہمکنار ہوا۔ اس کے نتیجے میں ایران خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کی فہرست سے نکل گیا۔ اس دن کے بعد سے لے کر آج تک امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ مشرق وسطی خطے میں موجود تیل اور گیس کے وسیع قدرتی ذخائر پر اپنا قبضہ اور تسلط کیسے برقرار رکھے؟ افغانستان میں کمیونسٹ حکومت برسراقتدار آنے اور سابق سوویت یونین کی افغانستان پر فوجی چڑھائی کے بعد جمی کارٹر حکومت کے آخری چند مہینوں میں یہ پریشانی امریکہ کی قومی سلامتی کی اہم ترین اسٹریٹجیز میں شامل ہو گئی۔ خطے سے امریکہ کی جانب تیل کی منتقلی میں خلل ایجاد کرنے والی ہر قسم کی رکاوٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے ریپڈ ری ایکشن فورس کی تشکیل، افغان مجاہدین کی حمایت اور دنیا بھر سے عرب مجاہدین کو افغانستان منتقل کرنے کیلئے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کی تشکیل جیسے اقدامات اسی اہم ترین اسٹریٹجی کا حصہ تھے۔
 
مزید برآں، اسٹریٹجک اعتبار سے دنیا کے اہم ترین حصے پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کی خاطر امریکہ نے اصلی قدم 1983ء میں اٹھایا۔ اس قدم کے تحت امریکہ نے دنیا کے حساس ترین خطے مشرق وسطی میں اپنی مسلح افواج کی کمان کیلئے سنٹرل کمانڈ سنٹر یا "سنٹکام" تشکیل دیا۔ اس کمانڈ سنٹر کا ابتدائی مقصد سابق سوویت یونین کو گرم پانی تک پہنچنے سے روکنا تھا۔ امریکی حکام اس خوف کا شکار تھے کہ کہیں سابق سوویت یونین ایران پر قبضہ کر کے خلیج فارس تک رسائی حاصل نہ کر لے۔ لہذا سنٹکام کا بنیادی مقصد ایسی صورت میں ایران کے جنوب میں واقع زاگروس پہاڑی سلسلے پر ایک مضبوط دفاعی لائن قائم کرنا تھا۔ دوسری طرف سنٹکام کے پہلے چیف کمانڈر نارمین شوارٹسکف کا خیال تھا کہ سوویت یونین میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے باعث اس خطے کو مشرقی بلاک کی جانب سے کوئی خطرہ درپیش نہیں اور اگر اس بارے میں کوئی خطرہ پایا جاتا ہے تو وہ عراق کے صدر صدام حسین کی جانب سے ہے اور وہ تیل کے ذخائر سے مالامال عرب ممالک پر قبضہ جمانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
 
نارمین شوارٹسکف کی یہ پیشن گوئی چند سال بعد ہی سچ ثابت ہوئی اور عراق نے کویت پر چڑھائی کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ البتہ اسی وقت عراق کے بعض اہم ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ حملہ بغداد میں امریکی سفیر کی جانب سے صدام حسین کو سبز جھنڈی دکھائے جانے کے بعد انجام پایا ہے۔ اس دن سے لے کر آج تک سنٹکام سرکاری طور پر خطے میں انجام پانے والے تمام امریکی ملٹری آپریشنز کی کمان سنبھالے ہوئے ہے۔ ان آپریشنز کی چند مثالیں طوفان صحرا (Desert Storm)، افغانستان اور عراق پر فوجی قبضے کیلئے انجام پانے والے ملٹری آپریشنز اور مغرب کی جانب خطے سے تیل کی سپلائی لائن کو بحال رکھنے کیلئے انجام پانے والے اقدامات ہیں۔ البتہ سنٹکام کی سرگرمیوں کا بڑا حصہ خفیہ رکھا جاتا ہے اور سرکاری طور پر پیش کی جانے والی رپورٹس میں ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ اس امریکی مرکز کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی زیادہ تر فعالیت باقاعدہ فوجی مرکز کی بجائے ایک دہشت گرد تنظیم سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔
 
اصلی مقصد ایران ہے
امریکہ ہمیشہ سے خطے میں اپنے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور مزاحمت کا اصلی سبب ایران کو قرار دیتا آیا ہے۔ عراق پر فوجی قبضے کے بعد بھی جب امریکی قبضے کے خلاف عوامی سطح پر تحریک کا آغاز ہوا اور امریکی فوجیوں پر حملے شروع ہوئے تو امریکی حکام نے اس کا الزام ایران پر عائد کرنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف عراق میں ایرانی فورسز کی موجودگی سے متعلق ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث امریکی صدر جرج بش نے ایران کے مغربی اور جنوبی صوبوں میں خفیہ فوجی اقدامات انجام دینے کا حکم جاری کر دیا۔ لہذا امریکی صدر جرج بش کے حکم پر امریکی مسلح افواج نے مشرق وسطی میں قائم سنٹرل کمانڈ سنٹر یا سنٹکام کی کمان میں ایران میں سرگرم علیحدگی پسند گروہوں کے سربراہان سے تعلقات استوار کر کے انہیں بھرپور مالی اور فوجی امداد کا سلسلہ شروع کر دیا۔ اس بارے میں معروف امریکی صحافی سیمور ہرش (Seymour Hersh) نے 2008ء میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنٹکام کی جانب سے ایران میں ان خفیہ کاروائیوں کیلئے امریکی کانگریس نے 400 ارب ڈالر کا بجٹ بھی منظور کیا تھا۔
 
سنٹکام کے تحت ایران میں انجام پانے والی یہ خفیہ سرگرمیاں عرب اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت اور دیگر دہشت گردانہ گروہوں کی مدد کے ساتھ ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جاسوسی اور اہم معلومات حاصل کرنے کی کوشش پر مشتمل تھیں۔ یہ تمام اقدامات جوائنٹ اسپشل آپریشنز کمانڈ (JSOC) کی سربراہی میں انجام پاتے تھے اور امریکی انٹیلی جنس ایجنسی سی آئی اے بھی ایک ذیلی ادارے کے طور پر مربوطہ معلومات فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی تھی۔ البتہ ان تمام سرگرمیوں اور اقدامات کی سرپرستی کرنے والا ادارہ سنٹکام ہی تھا جس نے عراق پر امریکی فوجی حملے کی بھی کمان اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی۔ امریکہ کے دفاعی بجٹ میں ان تمام سرگرمیوں کیلئے جس عنوان کا انتخاب کیا گیا وہ “potential defensive lethal action” یا قتل پر منتج ہونے والے دفاعی اقدام کی صورت میں تھا۔ یہ منصوبہ ایران کے اندر حکومت مخالف گروہوں کی مالی امداد اور ان سے باہمی تعاون پر مشتمل تھا اور اس کیلئے ایران کے جنوبی اور مشرقی حصوں کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ایران کے جنوب مغربی علاقوں میں یہ خفیہ سرگرمیاں افغانستان کے صوبے ہرات میں موجود ایک خفیہ امریکی اڈے سے کنٹرول کی جاتی تھیں۔
 
ایران کے اندر ان امریکی خفیہ سرگرمیوں کی وسعت اس حد تک زیادہ تھی کہ خطے میں موجود امریکی فوجی کمانڈرز نے اپنے سیاست دانوں کو ممکنہ منفی نتائج سے خبردار بھی کیا۔ دھیرے دھیرے یہ مخالفت بھرپور اعتراض اور نافرمانی میں تبدیل ہو گئی اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ حتی عراق میں امریکی فوجیوں کے چیف کمانڈر ایڈمرل ولیم فیلن نے وائٹ ہاوس کے دباو کے تحت ملک سے باہر اسپشل ٹاسک فورس کی انجام پانے والی ان سرگرمیوں کے مقابلے میں اعتراض کرتے ہوئے استعفی دے دیا۔ آخرکار یہ پراجیکٹ اس دلیل کے ساتھ روک دیا گیا کہ امریکی حکام کے مطلوبہ اہداف کے حصول میں ناکام رہا ہے۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے حال ہی میں امریکی مسلح افواج کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی مخالفت اس دور میں ان خفیہ سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی مخالفت کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ سنٹکام کی کمان میں ایران کے اندر ان خفیہ سرگرمیوں کا نتیجہ صرف بیگناہ ایرانی شہریوں کے قتل عام کی صورت میں ظاہر ہوا۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ اس پراجیکٹ کو شروع کرنے کیلئے کوشش کا آغاز کر دیا ہے۔
 
اس قدر وسیع مقدار میں اسلحہ شام کیسے پہنچا؟
شام میں 2011ء سے تکفیری دہشت گرد گروہوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر مسلح کاروائیوں کا آغاز ہوا۔ اس بارے میں ایک انتہائی اہم نکتہ جو پردہ راز میں رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تکفیری دہشت گرد عناصر کے پاس موجود وسیع پیمانے پر جدید ہتھیار ان تک کیسے پہنچے؟ اور دسیوں ہزار پر مشتمل اتنی بڑی مقدار میں افراد کو فوجی تربیت کیسے فراہم کی گئی؟ یہ منصوبہ درحقیقت سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور اقتدار میں شروع ہوا جبکہ اس کی کمان اس وقت سی آئے اے کے سربراہ ڈیوڈ پیٹراوس کے ہاتھ میں تھی۔ شام میں دہشت گرد عناصر تک اسلحہ پہنچانے پر مبنی اس منصوبے کا نام "ٹیمبر سائکامور آپریشن" (Timber Sycamore operation) رکھا گیا اور اسے عملی شکل دینے کی ذمہ داری سنٹکام کے سپرد کر دی گئی۔ اس آپریشن کے تمام مالی اخراجات کی ذمہ داری خطے کے عرب ممالک نے اپنے ذمے لے رکھی تھی۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس آپریشن پر عرب حکمرانوں نے 30 ارب ڈالر خرچ کئے۔ اس اسلحے کا بڑا حصہ مشرقی یورپ میں سرگرم مافیا گروپس کے ذریعے خریدا گیا اور ہوائی جہازوں کے ذریعے لبنان اور اردن منتقل کیا گیا جہاں سے آگے شام میں بھیج دیا گیا۔
 
مثال کے طور پر امریکہ کی سمندری شپنگ کمپنیز نے پولینڈ اور چیک جمہوریہ سے خریدا گیا اسلحہ اٹلی کی ایک بندرگاہ سے جدہ کی بندرگاہ منتقل کیا اور وہاں سے یہ اسلحہ شام کے دہشت گرد عناصر کو بھیج دیا گیا۔ اس کے علاوہ بلغاریہ سے بھی ہوائی جہازوں کے ذریعے مشرقی یورپ ساختہ اسلحہ باقاعدگی سے ترکی بھیجا جاتا رہا اور ترکی کے صوبے اڈونیا سے امریکی فوجیوں کے ذریعے شام کے شمالی علاقوں میں منتقل ہوتا رہا۔ یہ سلسلہ 2015ء تک جاری رہا لیکن روس کی جانب سے شام میں فوجی آپریشن کے آغاز اور اسلحہ منتقل کرنے والے النصرہ فرنٹ کے قافلوں کو نشانہ بنانے کے بعد بند ہو گیا۔ شام کی مسلح افواج کے خلاف لڑنے کیلئے تکفیری دہشت گرد عناصر کی فوجی تربیت وہ دوسرا اہم مشن تھا جو سنٹکام کے ذمے لگایا گیا تھا۔ اخوان المسلمین کے ہزاروں متعصب ترین سلفی طرز فکر کے حامل افراد عرب ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے تعاون سے اردن اور ترکی منتقل کئے گئے تاکہ فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد شام میں سرگرم عمل ہو جائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب شام میں دہشت گردی کی آگ ٹھنڈی ہونے کے بعد یہی تربیت یافتہ افراد مغربی ممالک کیلئے ایک نئی اور غیر متوقع سکیورٹی خطرے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
 
ایک پرانے منصوبے کا تسلسل
مذکورہ بالا دو کیسز ان بے شمار اقدامات کا حصہ ہیں جو سنٹکام کی سرپرستی میں ایران کے خلاف انجام پائے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران مشرق وسطی خطے میں وسیع پیمانے پر جاری تنازعات اور جھڑپوں کو ختم کرنے کا دعوی کیا تھا لیکن ان کے برسراقتدار آنے کے بعد اس خطے میں دہشت گردانہ اور شدت پسندانہ سرگرمیوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان سرگرمیوں کا بڑا حصہ امریکہ اور ایران کے ان علیحدگی پسند گروہوں کے درمیان باہمی تعاون پر مشتمل ہے جو عراق کے علاقے کردستان اور ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں سرگرم عمل ہیں۔ اس تعاون کا نتیجہ ایران میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جس کی چند مثالیں ایران کے سرحدی علاقوں میں ایف سی فورسز پر فائرنگ اور بم دھماکے ہیں۔ البتہ ایران نے ان اقدامات کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ دوسری طرف گذشتہ دو برس کے دوران تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے افغانستان میں اپنی سرگرمیوں میں خاطرخواہ اضافہ کر دیا ہے۔ پاکستان سے داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد عناصر کو افغانستان منتقل کرنے والے چند اہم ترین ذرائع ایسے ہیں جن کے افغانستان میں سنٹکام کے تحت کام کرنے والے امریکی فوجیوں سے انتہائی قریبی تعلقات استوار ہیں۔
 
مستقبل سے خوف زدہ امریکی حکام
حال ہی میں ایران نے امریکہ کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے بعد جوابی کاروائی کے طور پر سنٹکام کے تحت سرگرم عمل امریکی فوجیوں کے نیٹ ورکس کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ اگرچہ ایران کا یہ اقدام امریکی اقدام کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے لیکن زمینی حقائق سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے۔ گذشتہ چالیس برس کے دوران امریکی سرگرمیوں اور اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردانہ نوعیت کی کاروائیاں سنٹکام کی سرپرستی میں انجام پا رہی ہیں۔ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مستقبل قریب میں اسلامی مزاحمتی قوتوں اور سنٹکام کی سرپرستی میں سرگرم عمل قوتوں کے درمیان ٹکراو کی شدت میں اضافہ ہو گا۔ اس بات نے امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے سربراہان کو شدید خوف زدہ کر دیا ہے اور ان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کی بھی یہی وجہ ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 788251
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے