0
Saturday 13 Apr 2019 12:25

میں نے ملک تباہ کر دیا۔۔۔۔ سوری

میں نے ملک تباہ کر دیا۔۔۔۔ سوری
تحریر: تصور حسین شہزاد

آج سے ٹھیک ایک سو سال قبل جب پاکستان ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا، برصغیر پر برطانوی پرچم لہرا رہا تھا۔ 1919ء میں امرتسر میں موجود جلیانوالہ باغ میں کچھ قوم پرست برطانوی راج کے نئے ٹیکس اور ہندوستانیوں کی فوج میں جبری بھرتی کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے اسی باغ میں جمع تھے جبکہ عوام کی بڑی تعداد بیساکھی کے میلے میں شرکت کیلئے بھی وہاں موجود تھی۔ اس وقت برطانوی حکومت نے بڑے عوامی اجتماعات کو روکنے کیلئے شہر میں کرفیو نافذ کر رکھا تھا۔ ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے بریگیڈیئر جنرل آر ای ایچ ڈائر کو بھیجا گیا۔ مسٹر ڈائر نے لوگوں کو متنبہ کئے بغیر گولی چلانے کا حکم دیدیا۔ جب تک سپاہیوں کی گولیاں ختم نہ ہوئیں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا اور ایک ہزار سے زائد افراد کو ابدی نیند سلا دیا گیا۔ جلیانوالہ باغ کے اس واقعے کے 100 برس مکمل ہونے پر بدھ کے روز برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم ٹریزامے نے اس واقعے پر محض افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ 1919ء کا سانحہ جلیانوالہ باغ برطانوی انڈین تاریخ پر شرمناک داغ ہے۔ وزیراعظم کے خطاب پر برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر جیرمی کوربن نے کہا کہ امرتسر قتل عام پر واضح معافی مانگنی چاہیئے، محض افسوس کر دینا کافی نہیں۔ سانحہ جلیانوالہ کی جب بھی برسی آتی ہے، پاکستان اور انڈیا میں موجود بعض تنظیموں کی جانب سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ برطانیہ اس پر باضابطہ معافی مانگے۔

امریکہ نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ اپنے ہی کٹھ پتلی صدام حسین کو اپنے مقاصد میں استعمال کیا اور جب مزید ضرورت نہ رہی تو اسے پھانسی کی صورت میں "انعام" سے نواز دیا۔ (اپنی ہی قوم کے غداروں کیساتھ ہمیشہ سے یہی سلوک ہوتا آیا ہے)۔ امریکہ نے عراق کو تباہ کرنے کیلئے کیمیائی ہتھیاروں کا الزام عائد کیا۔ جب صدام کو انجام تک پہنچا لیا تو معافی مانگ لی کہ کیمیائی ہتھیاروں کی اطلاعات غلط ثابت ہوئی ہیں۔ امریکہ نے ہی افغانستان سے سوویت یونین کو نکالنے کیلئے طالبان "بنوائے" اور پھر سوویت یونین کا "کریا کرم" ہونے پر اُنہی طالبان کو "انعام" یہ دیا کہ انہیں دہشتگرد قرار دے دیا۔ اب امریکہ افغانستان سے بھی بوریا بستر گول کر رہا اور اس پر معافی کا خواستگار ہے کہ افغانستان آنا ایک غلط فیصلہ تھا۔ امریکہ نے اس پر معافی مانگ لی۔ ہیرو شیما اور ناگا ساگی پر ایٹم بم گرا دیا گیا۔ ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس پر بھی ایک لفظ "معافی" ہی سارے جرم کی تلافی بن گیا۔

امریکہ نے شام میں داعش کو وجود بخشا۔ شام اور ایران کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ کام دکھا گیا اور تہران و دمشق نے مل کر داعش کے فتنے کو شکست دی۔ شام سے تذلیل کے بعد بھی امریکہ نادم ہوا اور یہاں آنے کے فیصلے کو بھی غلطی قرار دیدیا۔ یمن کے محاذ پر بھی امریکہ کے تمام حربے ابھی تک ناکام جا رہے ہیں۔ یمن کے عوام ابھی بھی کہہ رہے ہیں کہ
آ اے ستم  گر، ہنر  آزمائیں
تُو تیر آزما، ہم جگر آزمائیں

یمن میں نہتے عوام سعودی و امریکی خنجروں کا مقابلہ گردنوں سے کر رہے ہیں۔ اس میں بھی امریکہ کو کامیابی نصیب ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ لبنان کے محاذ پر بھی امریکہ نے اسرائیل کو استعمال کیا اور وہاں سے بھی جوتے ہی واشنگٹن کا مقدر بنے۔ فلسطین میں ارض مقدس پر قبضے کے اسرائیلی خواب کو بھی حریت پسندوں نے چکنا چور کر دیا۔ اس پر بھی معافی تلافی سے کام لیا گیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عالمی دہشتگرد امریکہ نے ایران کی فوج "پاسدارانِ انقلاب" کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا ہے، جبکہ ایران نے اس کے جواب میں خوفزدہ ہونے کے بجائے بھرپور جوابی حملہ کیا ہے اور امریکی فوج کو ہی نہیں بلکہ امریکی حکومت کو ہی دہشتگرد قرار دے دیا ہے۔ امریکہ نے پاسداران انقلاب کو اپنی سی آئی اے کی مخالفت کے باوجود دہشتگرد قرار دیا ہے۔

دوسرے لفظوں میں لگتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تہیہ کرچکے ہیں کہ امریکہ کا بیڑہ غرق کرکے ہی جانا ہے۔ اوباما نے اپنے دورِ صدارت میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا اور ایران کیساتھ ایٹمی معاہدہ کیا، لیکن ٹرمپ نے آکر جہاں اس معاہدے کو ختم کر دیا، وہیں ایرانی فوج کو دہشت گرد قرار دے کر مشرق وسطیٰ سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں موجود اپنے فوجیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ امریکی مبصرین نے بھی اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ خود امریکہ نے اس اعلان کے بعد اپنے خوف کا اظہار کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ بالخصوص عراق، شام، ترکی اور پاکستان سمیت دیگر ملکوں میں موجود اپنے شہریوں کیلئے "ٹریول الرٹ" جاری کرتے ہوئے انہیں سفر کرنے سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ کہاں کا اصول ہے کہ ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دو اور بعد میں معافی مانگ لو؟ جلیانوالہ باغ میں ہزار سے زائد بندے مار دیئے گئے، آج مطالبہ کیا جا رہا ہے، برطانیہ معافی مانگے۔

امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں جو آگ لگائی، اس پر کیا صرف معافی کا ایک لفظ کہہ دینے سے تلافی ہوسکتی ہے؟ طالبان، داعش، القاعدہ، لشکر جھنگوی سمیت دیگر دہشتگرد جماعتوں نے جتنی قتل و غارت کی ہے، پاکستان نے جو 71 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے۔ عراق، شام، یمن، فلسطین، کشمیر، لبنان، کون سے جگہ ہے، جو بے گناہوں کے خون سے رنگین نہیں ہوئی، کیا صرف "سوری" کہہ دینے سے وہ زخمی مندمل ہو جائیں گے؟ دنیا کو اب اس روش کو تبدیل کرنا ہوگا۔ قتل و غارت اور بارود کی بارش کرنے کے بعد معافی نہیں اس کا قصاص لازم قرار دینا ہوگا۔ جب تک خون کا بدلہ خون نہیں ہوگا، تب تک قتل و غارت کا سلسلہ نہیں رکے گا۔
خبر کا کوڈ : 788407
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے