0
Sunday 14 Apr 2019 00:03

سوڈان کی فوجی بغاوت

سوڈان کی فوجی بغاوت
تحریر: احمد کاظم زادہ

فی الحال سوڈان میں انجام پانے والی فوجی بغاوت کے تمام پہلو واضح نہیں ہوئے اور ممکن ہے مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے ان ممالک کی طرح جو عوامی تحریکوں یا عرب اسپرنگ کی پہلی لہر کی لپیٹ میں آئے تھے آئندہ طویل عرصے تک اصل صورتحال واضح نہ ہو پائے۔ لیکن سوڈان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے سے درج ذیل چند نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں:
 
1)۔ الجزائر کی مانند سوڈان میں بھی حالیہ عوامی تحریک اس وقت شروع ہوئی جب اسرائیل کے تھنک ٹینک بگین – سادات ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے عرب اسپرنگ کی دوسری لیر کے آغاز کی پیشن گوئی کی۔ یہ امر ان عوامی تحریکوں کی دوسری لہر کی پیدائش میں اسرائیلی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسا کہ تیونس سے شروع ہو کر شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے دیگر عرب ممالک تک سرایت کرنے والی عرب اسپرنگ کی پہلی موج میں بھی اسرائیل کی صہیونی رژیم نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلہ فلسطین سے عالمی رائے عامہ کی توجہ ہٹا کر نسل پرستانہ یہودی پالیسیوں اور منصوبوں کا آغاز کر دیا۔ اسرائیلی حکومت نے مسئلہ فلسطین سے متعلق ماضی کے دو ریاستی راہ حل کو ایک طرف رکھتے ہوئے ملک کو مکمل طور پر یہودی ریاست بنانے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ یہ ایک خطرناک یوٹرن ہے جو عرب اور اسلامی ممالک کی غفلت کی صورت میں دنیا کے نقشے سے فلسطین نامی ریاست ہمیشہ کیلئے ختم ہو جانے کا باعث بن سکتا ہے۔
 
اسرائیل کی یہ حالیہ نسل پرستانہ پالیسیاں اور اقدامات امریکہ کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے پیش کردہ نئے راہ حل "صدی کی ڈیل" کے سائے تلے انجام پا رہے ہیں۔ اس بات کے پیش نظر کہ صدی کی ڈیل نامی منصوبے کو عملی جامہ پہنائے جانے کا مرحلہ مقبوضہ فلسطین کے حالیہ انتخابات کے بعد تک موکول کر دیا گیا تھا لہذا عرب اسپرنگ کی دوسری لہر کے آغاز اور صدی کی ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں معنی خیز تعلق پایا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کی صہیونی رژیم اس منحوس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں تنہا نہیں بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکہ کی دائیں بازو والی ٹرمپ حکومت بھی اس کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ سوڈان میں انجام پانے والی حالیہ فوجی بغاوت اسرائیل اور اس کے عرب اتحادی ممالک کی مرضی سے انجام پائی ہے۔
 
2)۔ عرب اسپرنگ کے پہلے مرحلے میں مختلف عرب ممالک مختلف قسم کی صورتحال کا شکار ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر تیونس میں اقتدار کی منتقلی پرامن طریقے سے انجام پائی ہے جبکہ بعض دیگر عرب ممالک جیسے لیبیا، الجزائر اور شام میں شدید قسم کی خانہ جنگی کا آغاز ہو گیا۔ اسی طرح مصر جیسا ملک عرب اسپرنگ کے نتیجے میں فوجی آمریت کے پنچوں میں اسیر ہو چکا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سوڈان میں رونما ہونے والی عرب اسپرنگ کی دوسری لہر مصر کے ماڈل سے مشابہت رکھتی ہے۔ لہذا سوڈان میں بھی مصر جیسے حالات رونما ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس بارے میں ایک اہم نکتہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی سوڈان میں مداخلت ہے۔ سوڈان میں عمر البشیر کی برطرفی سے پہلے الجزائر میں بھی جنرل حفتر نے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی تھی۔ یاد رہے جنرل حفتر کو بھی متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور مصر کی براہ راست حمایت حاصل ہے۔ لہذا الجزائر میں بھی سوڈان جیسی صورتحال دہرائے جانے کا امکان موجود ہے۔
 
3)۔ سوڈان کے سابق صدر عمر البشیر نے اقتدار اپنے ہاتھ میں رکھنے کیلئے گذشتہ ایک عشرے میں وسیع اقدامات انجام دیے۔ مثال کے طور پر سوڈان کے جنوبی حصے کو خودمختاری دینا یا یمن کے خلاف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اتحاد میں شامل ہونا اسی قسم کے اقدامات کا حصہ تھے۔ لیکن آخرکار انہی ممالک کی براہ راست یا بالواسطہ مداخلت سے انہیں اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑ گئے۔ دوسرے الفاظ میں انہیں پیاز بھی کھانے پڑے اور جوتے بھی۔ البتہ اس نکتے کی جانب بھی توجہ ضروری ہے کہ عرب ممالک میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں میں بیرونی قوتوں کی مداخلت کا مطلب ان ممالک کی عوام کے کردار کو نظرانداز کرنا نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب اسپرنگ کا شکار عرب ممالک میں سیاسی تبدیلیوں کی ایک بڑی وجہ وہاں کی حکومتوں کی نالائقی کے سبب وسیع پیمانے پر عوامی ناراضگی ہے۔ بیرونی قوتوں کی جانب اشارہ کرنے کا مقصد اس حقیت کی جانب توجہ دلانا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور خطے میں ان کے اتحادی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات عرب اسپرنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عوامی تحریکوں پر سوار ہو کر اپنے مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 788510
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے