0
Sunday 14 Apr 2019 07:57

نہ گھر کا نہ گھاٹ کا

نہ گھر کا نہ گھاٹ کا
اداریہ
ایک ایسے وقت جب کوئٹہ میں ہزارہ کے مومنین اپنے شہداء کا غم منانے اور حکومتی اداروں کے سامنے اپنی مظلومیت کا اظہار کرنے کے لیے احتجاجی دھرنا دیئے ہوئے ہیں، پاکستان کے اخبارات میں عمران خان وزیراعظم پاکستان کے دورہ ایران کے خبریں سامنے آرہی ہیں۔ بعض دور کی کوڑی لانے والے تجزیہ نگار تو کوئٹہ کے حالیہ سانحہ کو بھی عمران خان کے دورہ ایران سے جوڑ رہے ہیں۔ ایران پاکستان تعلقات بعض عرب ممالک کے لیے ہمیشہ دکھتی رگ ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان کو ایران سے اور ایران کو پاکستان سے متنفر کرنے کے لیے مختلف پروپگنڈے اور ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں، جن میں پاک ایران سرحد پر ایرانی سکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی اور اغوا کے واقعات بھی شامل ہیں، تاہم ایک تاثر یہ بھی دیا جاتا ہے کہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام سے ایران کی مذہبی قیادت برہم ہوتی ہے، لہذا شیعہ مسلمانوں کو قتل کرکے دہرا فائدہ اٹھایا جائے۔ ایک طرف ایران پاکستان تعلقات کو خراب کیا جائے اور دوسری طرف ملک میں بدامنی پھیلا کر ان قوتوں کی اہمیت میں اضافہ کیا جائے، جو بدامنی اور امن و امان کی خراب صورتحال میں جمہوری اداروں کو آسانی سے بلیک میل کر لیتی ہیں۔

عمران خان کے دورہ ایران کے اعلان کے فوراً بعد کوئٹہ کا دہشت گردانہ سانحہ اور سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر کا دورہ پاکستان اور آرمی چیف، وزیراعظم اور وزیر خارجہ سے ہنگامی ملاقاتیں، سعودی فرمانروا اور سعودی ولی عہد کا خصوصی پیغام کسی بڑے خطرے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کو دی جانے والی سعودی امداد اب اپنا رنگ دکھلا سکتی ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت اگر ایک بار پھر سعودی، صہیونی لابی کے دبائو میں آکر کوئی ایسا قدم اٹھا لیتی ہے، جس میں یوٹرن کے ساتھ  ساتھ پاک ایران تعلقات میں مزید خلیج پیدا ہو جائے  تو اس سے تحریک انصاف کی حکومت کی ساکھ اور کریڈیبلٹی راکھ کی طرح ہوا میں اڑ جائے گی۔

تحریک انصاف کے خلاف پاکستانی میڈیا نے جو منظر کشی کر رکھی ہے، اس میں عمران خان کا چل چلائو نظر آرہا ہے، ایسے میں عمران خان کو ایران سعودی تعلقات اور خطے میں اپنی حیثیت منوانے کا سنہری موقع مل سکتا ہے۔ عمران خان اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کوئی بریک تھرو کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی کمزوری پر بھی پردہ پڑ سکتا ہے۔ اگر عمران خان اور ان کی ٹیم نے بیرونی اشاروں پر پاکستان اور خطے کے مفادات کی بجائے آل سعود اور اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرنے کی کوشش کی تو عمران خان کا مستقبل بھی ان کٹھ پتلی حکمرانوں کی مانند ہوگا جو نہ گھر کے ہوتے ہیں نہ گھاٹ کے۔ عمران خان کا دورہ ایران اسے مین آف دی میچ بھی بنا سکتا ہے اور آئندہ میچ کھیلنے والی ٹیم سے باہر نکلنے کا باعث بھی۔
خبر کا کوڈ : 788532
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے