0
Monday 15 Apr 2019 09:38

سانحہ کوئٹہ، تبدیلی کہاں ہے۔۔۔؟؟؟

سانحہ کوئٹہ، تبدیلی کہاں ہے۔۔۔؟؟؟
تحریر: تصور حسین شہزاد

کوئٹہ میں گذشتہ جمعے ایک بار پھر بربریت کا پہاڑ گرا دیا گیا۔ اس بار بھی دہشت گردوں کا نشانہ مظلومینِ پاکستان ہزارہ ہی بنے۔ ہزارہ کے قبرستان میں ایک بار پھر رونق لگ گئی۔ ہزارے اس تواتر سے دہشتگردی کا شکار ہو رہے ہیں، جیسے ان کا پاکستان کیساتھ کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ گود کسی کی اجڑتی ہے، یتیم کوئی ہوتا ہے، سہاگ کسی کا چھنتا، بے سہارا کوئی ہوتا ہے، مگر "سیاست" سب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم بھی عجیب لوگ ہیں، سیاست بھی کرتے ہیں تو لاشوں پر۔ کتنی مردہ ضمیر قوم واقع ہوئے ہیں۔ ہمارے مذہبی و سیاسی قائدین، یہاں تک کہ ہمارا میڈیا بھی اور مغربی میڈیا تو بالخصوص کفن فروشوں کی طرح دعا کرتا ہے کہ کوئی لاش گرے اور وہ مرچ مصالحہ دار خبریں اور کالم لگائیں۔ فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، حکومت پر کیچڑ اچھالا جائے۔ متعلقہ رہنماوں کو لعن طعن کی جائے اور تنقید کے تیر چلا کر متعدد کو زخمی کرکے واپس اپنی کچار میں جا بیٹھتے ہیں اور نئی لاش گرنے کا انتظار کرتے ہیں۔

کوئٹہ کا واقعہ ہوا، مغربی میڈیا نے تو براہ راست "کُھرا" کوئٹہ کینٹ میں پہنچا دیا۔ بی بی سی کے ایک کالم نگار نے تو بغیر لگی لپٹی لکھ دیا کہ ایک واقعہ میں دہشتگرد موٹر سائیکل پر سوار تھے، واردات کے بعد فرار ہوئے، پیچھا کیا گیا تو کینٹ کے علاقے میں گھس گئے، جبکہ پیچھا کرنیوالوں کو کینٹ کی چیک پوسٹ پر تعینات فوجیوں نے روک لیا اور عبرتناک دھمکیاں دے کر واپس موڑ دیا۔ کیا واقعی ہماری فوج میں ایسے لوگ موجود ہیں؟ یا یہ فوج کی پالیسی ہے کہ مخصوص فرقے کو ہی نشانہ بنوانا ہے۔؟ یہ بات بڑی تشویشناک ہے کہ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ تو پتہ چل جاتا ہے کہ انڈیا نے ہمارے نغمے کی دھن چُرا لی ہے، مگر انہیں یہ کیوں نہیں پتہ چلتا کہ ہمارے سینے میں چُھرا گھونپ کر یہ دہشتگرد کہاں جا چھپتے ہیں۔؟

میں روزِ اول سے پاک فوج کا فین رہا ہوں اور ابھی بھی ہوں، مگر قوم جب فوج کا رویہ اور دہشتگردوں اور کالعدم جماعتوں کے نام نہاد "قائدین" کو جب حکومتی و فوجی صفوں میں بیٹھے دیکھتی ہے تو پریشان ہو جاتی ہے۔ فوجی حلقوں سے جب یہ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ ہم دہشتگردوں کو "قومی دھارے" میں لانا چاہتے ہیں تو بھی بہت سے سوالات جنم لینا شروع ہو جاتے ہیں۔ قوم سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ یہ پاکستان کس نے بنایا تھا، اس کی مخالفت کرنیوالے کون تھے، کون کہتا ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے "گناہ" میں شامل نہیں تھے۔ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان بنانے والے ہی پاکستان میں عتاب کا شکار کیوں ہیں؟ یہ سوال بھی سر اُٹھاتا ہے کہ پاکستان بنانے کا گناہ نہ کرنیوالے آج پاکستان کے "مامے" کیوں بنے پھرتے ہیں؟ یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ فوج تو اپنے وطن کی حفاظت کیلئے ہوتی ہے، مگر مغربی میڈیا کے بقول ہماری فوج ہی ہمارے قتل میں ملوث ہے۔؟

میں مغربی میڈیا کے اس پروپیگنڈے کو ہمیشہ سازش ہی سمجھتا رہا ہوں۔ میں پاکستان کی مخصوص فوج مخالف لابی کا بھی مخالف رہا ہوں۔ مگر اس لابی کی جانب سے فوج کیخلاف لگائے جانیوالے بہت سے الزامات نجانے کیوں اب سچ سچ سے لگنے لگے ہیں۔ نجانے کیوں فوج کی جانب سے بھی آج تک ان الزامات کی تردید نہیں کی گئی۔ نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ فوج کی ہی پالیسی ہے کہ ملک سے مخصوص فرقے کو پہلے کافر قرار دیا جائے، پھر مار دیا جائے اور جو مرنے سے بچ جائیں انہیں اتنا خوفزدہ کر دیا جائے کہ وہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔  میں ایسے درجنوں لوگوں کو جانتا ہوں، جو ملک چھوڑ کر کسی اور ملک میں منتقل ہوچکے ہیں، وجہ صرف یہی کہ انہیں دہشتگردوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے بچپن میں ہم سڑک کنارے کھیل رہے ہوتے تھے، فوج کے ٹرک گزرتے تو ہم سب بچوں نے قطار میں کھڑے ہو جانا اور "پاک فوج کو سلام" کہہ کر سیلوٹ کے انداز میں اس وقت تک کھڑے رہنا جبکہ آرمی کے ٹرک  آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جاتے تھے۔ فوج سے محبت تو ہمیں گُھٹی میں پلائی گئی تھی، ہمارے ہاں تو ہر بچے کو یہی سبق دیا جاتا ہے کہ وطن کی حرمت پر قربان ہونے کیلئے فوج میں جانا ہے۔ مگر یہ کیا؟؟ فوج کہاں جا رہی ہے؟ مجموعی طور پر فوج میں مردم شماری کروائی جائے تو اکثریت اُسی فرقے سے ہی ہوگی جسے ہم نے عتاب کا نشانہ بنا رکھا ہے۔ کوئٹہ کے ہزارہ  ہوں یا ڈی آئی خان کے سرائیکی، کراچی کے لاپتہ ہونیوالے نوجوان ہوں یا سڑکوں پر احتجاج کرتی خواتین، ہم کیوں نہیں سوچتے کہ یہ سب پاکستانی ہیں۔؟ سوشل میڈیا پر ایک حوصلہ افزاء تحریک چلی کہ ہزارہ کو ہزارہ نہ کہا جائے بلکہ پاکستانی کہا جائے، مگر یہاں بھی ایک سوال سر اُٹھا رہا ہے کہ اگر مرنے والے پاکستانی ہیں تو حکمران کیوں انہیں اپنا نہیں سمجھتے۔؟

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو پوری دنیا میں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ دہشت گردی ہوئی، وہ مسجد میں پہنچیں۔ بولیں، یہ حملہ مسلمانوں پر نہیں، نیوزی لینڈ پر ہوا ہے۔ وہ مسلمانوں کیلئے ڈھال بن گئیں۔ انہوں نے اپنے شہریوں کی ڈھارس بندھائی، صرف وہ نہیں بلکہ نیوزی لینڈ کے دیگر غیر مسلم شہری بھی مسجد میں آئے اور ڈھال بنا کر کھڑے ہوئے کہ مسلمان نماز پڑھیں ہم حفاظت کریں گے۔ اس عظیم مثال نے نیوزی لینڈ کا سر پوری دنیا میں بلند کر دیا ہے۔ یہاں گنگا ہی الٹی بہتی ہے۔ یہاں تو گلے لگا کر دلاسہ دینے کا بھی رواج نہیں رہا کہ کہیں دہشت گرد ناراض نہ ہو جائیں۔ یہاں تو مذمتی بیان بھی جاری نہیں کیا جاتا کہ یہ تو "روٹین ورک" ہے، ہزارہ تو مرتے ہی رہتے ہیں۔ افسوس کہ حکمرانوں اور فوج کے رویئے نے بہت سے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ مگر یہ زمینی حقیقت ہے کہ دہشتگردی اور قتل و غارت کا یہ سلسلہ بند نہ کیا گیا تو اس کے نتائج بھیانک نکل سکتے ہیں۔ راکھ میں چھپی ہوئی چنگاری پورے چمن کو راکھ میں بدل سکتی ہے۔

خدا کرے ایسا نہ ہو کہ وہ چنگاڑی بھڑکے اور پورے چمن کو اپنی لپیٹ میں لے لے، خدا کرے مظلوموں کی داد رسی کی جا سکے، خدا کرے کہ ردعمل نہ آئے، خدا کرے میری طرح فوج سے محبت کرنیوالوں کی رائے تبدیل نہ ہو۔ خدا کرے مغربی میڈیا جو "رائے عامہ" بنا رہا ہے، اس میں اسے کامیابی نہ ملے، خدا کرے فوج میں موجود کالی بھیڑوں کا محاسبہ کرکے پورے ادارے کو بدنام ہونے سے بچا لیا جائے۔ خدا کرے پاکستان کے دشمنوں کی سازشیں کامیاب نہ ہوں۔ خدا کرے مظلوموں کی داد رسی ہو۔ خدا کرے آرمی چیف ایک بار پھر کوئٹہ جائیں اور متاثرین دہشتگردی کے آنسو پونچھیں، ان کی داد رسی کریں اور دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کا اعلان کریں۔ خدا کرے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی طرح ہمارے وزیراعظم بھی کوئٹہ پہنچیں اور ہزارہ کا درد سنیں، انہیں دلاسہ دیں، ان کیساتھ کھڑے ہوں۔ اگر آرمی چیف اور وزیراعظم ہزارہ والوں کا دکھ بانٹ لیتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اب لاشیں نہیں گریں گی، نئے پاکستان میں دہشتگردوں کا کوئی وجود نہیں ہوگا تو اب بھی معاملات سلجھ سکتے ہیں۔ بصورت دیگر عوام یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ نئے اور پرانے پاکستان میں سب کچھ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ تبدیلی کہاں ہے۔؟؟
خبر کا کوڈ : 788657
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب