0
Monday 15 Apr 2019 15:18

ذمہ داری سے گریزاں سفاک حکمران

ذمہ داری سے گریزاں سفاک حکمران
رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ

پاکستان کا پڑوسی ملک افغانستان جنگ زدہ علاقہ ہے، جس سے پورا خطہ لرز رہا ہے۔ امریکہ نے یہ کہہ کر طالبان حکومت کیخلاف یلغار کی تھی کہ یہاں سے ٹریننگ لینے والے دہشت گرد پوری دنیا کے امن کو تباہ کر رہے ہیں، ان سے امریکہ کا داخلی امن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ لیکن اب امریکہ افغان طالبان کیساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ پاکستانی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ موجودہ وزارت خارجہ کی طرف سے کیے گئے یہ دعوے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں کہ پاکستان کا امن مذاکرات میں کلیدی کردار ہے، کیونکہ دوحہ میں امن مذاکرات کا دور امریکہ اور اٖفغان طالبان کے درمیان ہوگا، جس میں پاکستان شامل نہیں ہوگا۔ پڑوسی ملک ہونے کے ناطے روس، چین اور ایران کو اس امن عمل میں شریک کیا جانا چاہیئے، لیکن امریکی بالادستی پہ مبنی پالیسی کیوجہ سے ایسا کوئی رجحان آگے نہیں بڑھ پاتا۔ مذاکرات اور ایک دوسرے پر دباؤ کی کارروائیاں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔

بھارت کا اس سارے عمل میں سب سے منفی رول ہے۔ امریکہ چین کو نیچا دکھانے کیلئے بھارت کا کردار برقرار رکھنا چاہتا ہے، لیکن اس وجہ سے پیچیدگی بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں داعش نے افغانستان سے بیٹھ کر پاکستان میں کارروائیوں کی ذمہ داری پھر سے قبول کی ہے۔ افغانستان کے اندر بھی داعش اور طالبان کی جھڑپیں جاری ہیں۔ افغان انتظامیہ بے بسی کی تصویر ہے، اس کا فائدہ ہمیشہ طالبان کو ہوتا ہے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تکفیری دہشت گردوں کی شکست کے بعد پاکستان اور ایران کو نشانہ بنانے کیلئے داعش کو افغانستان منتقل کیا گیا ہے، ان دہشت گردوں کے ذریعے امریکی بلاک افغان طالبان کو کاونٹر کرکے پاکستان پہ دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، ساتھ ہی ایران کو زک پہنچانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔

افغان فریقین اپنی پوزیشن زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکا اور افغان فورسز بھی مسلسل طالبان کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں، جبکہ طالبان بھی اپنے حملوں میں شدت لا رہے ہیں، طالبان نے موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی حملوں میں شدت لانے کا جو اعلان کیا ہے، وہ اسی حکمت عملی کی ایک کڑی ہے۔ طالبان کی کوشش ہے کہ وہ خود کو طاقتور ثابت کریں، تاکہ مذاکرات میں ان کی پوزیشن مضبوط ہو اور وہ اقتدار میں زیادہ حصہ لے سکیں۔ دوسری جانب افغان حکومت اور امریکا بھی اسی کوشش میں مصروف ہیں۔ بہرحال جب تک فریقین کسی حتمی امن معاہدے پر نہیں پہنچتے، افغانستان میں لڑائی جاری رہے گی۔ افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی موسم بہار کے شروع ہونے پر نئے حملوں کا سلسلہ شروع کر دیں گے۔ یہ حملے امریکی فوج اور افغان نیشنل آرمی کے دستوں پر کیے جائیں گے، جن کی امریکیوں نے تربیت کی ہے۔

افغانستان میں جاری عسکری کارروائیاں اور دوحہ سمیت مختلف مقامات پہ ہونیوالے مذاکرات کا اکٹھے جاری رہنا زیادہ حوصلہ افزاء نہیں، مستقبل کی کوئی امید نظر نہیں آتی، جس سے یہ سمجھا جا سکے کہ افغان مسلمانوں کو چین نصیب ہوگا اور افغانستان سے بیٹھ کر پورے خطے میں خون کا کھیل کھیلنے والے اپنی درندگی روک دینگے۔ افغان مخلوط حکومت میں شامل گروہ، اپوزیشن اور بڑے حصے پر کنٹرول رکھنے والے طالبان کے اپنے اپنے مقاصد ہیں، انکے درمیان افہام و تفہیم کے امکانات اتنے ہی کم ہیں، جتنا پاکستان، بھارت اور امریکہ کا ایک پیج پہ ہونا مشکل ہے۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ افغانستان کے راستے ہونیوالی دہشت گردی کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے، پھر بھی پاکستانی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنیکی ریاستی اور حکومتی ذمہ داری سے کس طرح انکار کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزراء اس پر کیوں اصرار کر رہے ہیں، بیرونی عناصر کے ملوث ہونے سے کسی کو انکار نہیں، لیکن روکنا کس کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا سرا بھی افغانستان سے ملتا ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم اور اضطراب باقی ہے۔ مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پاکستانی ہزارہ اب پختونوں کی طرح شکوہ کناں ہیں کہ انہیں سفاکانہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے انکی قوت برداشت جواب دے چکی ہے، ریاست اپنی ذمہ داری نبھابے میں ناکام رہی ہے۔ یہ ایک المناک اور درد ناک پہلو ہے کہ وزارت خارجہ افغان امن مذاکرات میں افغان طالبان جنگجووں کی شمولیت کا کریڈٹ اس طرح لیتی ہے، جیسے وہ مکمل طور پر پاکستان کے کنٹرول میں ہیں، لیکن ملک کے اندر جاری بھیانک دہشت گردی کی وجہ سے ملک کا امیج پوری دنیا میں خراب ہوتا ہے، اس بارے میں انہیں کوئی فکر لاحق نہیں۔ اس کا الٹا اثر پاکستان میں بسنے والے ہزارہ قبائل کے تمام ہم مسلکوں پر ہوتا ہے کہ حکومت اور صاحبان اقتدار کی ترجیحات کچھ اور ہیں، ہمارے دکھ درد سے انہیں کوئی واسطہ نہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات جو تبدیلی سرکار کی زبان ہیں، کوئٹہ میں ہونیوالی دہشت گردی کے بعد مسلسل ہٹ دھرمی پہ مبنی سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی وی چینلز پہ زیر لب مسکراہٹ کیساتھ یہ کہہ کر ہزارہ قبائل کے زخموں پہ نمک پاشی کر رہے ہیں کہ جو لوگ دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، ان میں سے اکثر کو یہ معلوم نہیں کہ یہ پاکستان کا داخلی مسئلہ نہیں ہے، ایک پڑوسی ملک ہے، جو یہ کر رہا ہے، ایک اور پڑوسی ملک کی وجہ سے یہ ہو رہا ہے، حکومت اب کیا کرسکتی ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ وزیر مملکت برائے داخلہ کوئٹہ جانے کی بجائے سعودی مہمانوں کو غیر ضروری پروٹوکول دینے میں کیوں مصروف ہیں، تو انہوں نے معمول کی زیرلب ہنسی کے ساتھ جواب میں کہا کہ نہیں نہیں ہمارے ایک وزیر وہاں گئے ہیں، پھر وزیراعلیٰ بلوچستان بھی وہاں موجود ہیں، یہ ایک تکلیف دہ رویہ ہے، جس سے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ مظلوموں کی آہیں موجودہ سیٹ اپ کو لپیٹ دینگی۔ ان غافل اور سنگ دل حکمرانوں کو ہوش نہیں آئیگا، جو بھیانک مستقبل کی غمازی ہے۔

بے بسی کی تصویر بنے ہزارہ کوئٹہ کو چلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن ان گنت شہادتوں کے باوجود کبھی کوئٹہ انکی حمایت میں آگے نہیں بڑھا، بلوچ قبائل اور پختونوں کیلئے یہ ایک المیہ ہے۔ یوں تو بلوچستان افغان، بھارتی، برطانوی اور سعودی لابی کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے، آزاد پاکستان کا حصہ بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، امریکی لابی اگر ایران پر دباؤ ڈالنے کیلئے یہ کھیل کھیل رہی تو بھی اپنی سرزمین کسی دوسرے کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے کی پالیسی پر عملدرآمد بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ دھرنا بالکل جائز ہے، ہر شریف شہری کو اس ظلم پہ آواز اٹھانا ہوگی، یہ سلسلہ رکنا چاہیئے۔ لیکن وزیراعظم کے کوئٹہ جانے سے کیا ہوگا، یہ کیسی امید ہے، جو مایوسی کو جنم دیگی، کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے قاتل شہزادے کا ڈرائیور بننا ایک کارگر حربہ ہے، وہ کسی مظلوم کا دکھ سمجھ سکتا ہے، احتجاج جاری رہے، استقامت قائم رہے لیکن امید ان قاتلوں اور ظالموں سے کیسی۔؟
خبر کا کوڈ : 788745
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب