0
Monday 15 Apr 2019 23:30

دہشتگردوں کی ٹوٹی کمر اور سانحہ ہزار گنجی

دہشتگردوں کی ٹوٹی کمر اور سانحہ ہزار گنجی
رپورٹ: ایس اے زیدی
 
انسانیت سے عاری دہشتگردوں نے ایک بار پھر کوئٹہ کو خون میں نہلاتے ہوئے بزدلانہ کارروائی کی، ہزار گنجی کے علاقہ میں دھماکہ کے نتیجے میں 20 افراد شہید ہوئے جبکہ 40 سے زائد زخمی ہوگئے، دھماکہ کا بنیادی ہدف ہزارہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے وہ غریب محنت کش تھے، جو سارا دن کی مشقت کرکے چند سو روپے گھر لیکر جاتے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق دہشتگردی کی یہ کارروائی خودکش حملہ تھی۔ ایک غیر سرکاری ادارہ کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں مقیم ہزارہ قبیلہ سے تعلق رکھنے اہل تشیع پر اب تک 1400 سے زائد حملے ہوچکے ہیں، جن میں ٹارگٹ کلنگ کے بے شمار واقعات شامل ہیں، جبکہ خودکش حملوں، بم دھماکوں کے ذریعے کوئٹہ میں ہزارہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ کوئٹہ میں اس مخصوص قتل و غارت گری کو دو دہائیوں سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر یہ سلسلہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ سانحہ ہزار گنجی سبزی منڈی کے نتیجے میں کئی خاندانوں کی دنیا ہی اجڑ گئی، ان خاندانوں میں سے ایک ہزارہ ٹاؤن کی ساتویں جماعت کی طالبہ ماہ جبین کا خاندان بھی ہے، اس سانحہ میں ماہ جبین کے والد شہید ہوئے، 35 سالہ علی آغا پھل فروش تھے اور سارا دن محنت مزدوری کرکے اپنے خانوادے کا پیٹ پالتے تھے۔
 
علی آغا نے پسماندگان میں بیوہ اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں، ماہ جبین نے بتایا کہ ان کے والد روزی روٹی کمانے کے لیے علی الصبح گھر سے نکلتے تھے، لیکن جمعہ کے روز چائے پیئے بغیر ایسے گئے کہ واپس نہیں آئے اور وہ اپنے والد کا ہاتھ بھی نہ چوم سکیں، ماہ جبین نے بتایا کہ شہید علی آغا اپنی دونوں بیٹیوں سے بہت زیادہ پیار کرتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ ان کی ایک بیٹی ڈاکٹر اور دوسری جج بنے۔ اس دھماکہ میں علی آغا سمیت غریب محنت کشوں کو نشانہ بنایا گیا، جس طرح شہید علی آغا کی اہلیہ اور دو بچیاں بے سہارا ہوگئیں، اس طرح اس واقعہ نے کئی دیگر خانوادوں کو ہمیشہ کیلئے اپنے پیاروں اور گھر کے واحد کفیل سے محروم کر دیا اور کئی بوڑھے باپ کی کمر توڑ دی۔ ہزارہ قبائل کو کیوں اب تک اس وحشیانہ طریقہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس حوالے سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ ہزارہ قبائل کے بعض مشران اور عمائدین کا خیال ہے کہ اس دہشتگردی کے پیچھے لشکر جھنگوی، جند اللہ اور سپاہ صحابہ جیسی دہشتگرد تنظیموں کا ہاتھ ہے، جنہیں بعض غیر ملکی ایجنسیاں اپنے مفاد کیلئے استعمال کر رہی ہیں، جن میں امریکہ اور سعودی عرب کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق سانحہ ہزار گنجی کی ذمہ داری داعش نے قبول کرنے کا اعلان کیا تھا۔
 
دوسری سوچ یہ ہے کہ یہ بعض اپنے ہی ملکی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی کارستانی ہے۔ اس دوسری سوچ کا اظہار سانحہ ہزار گنجی کی تدفین کے موقع پر بعض ہزارہ بزرگان نے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو کے سامنے اس وقت کیا، جب وہ تعزیت کیلئے تشریف لائے۔ صوبائی وزیر داخلہ سے مخاطب ہوتے ہوئے ہزارہ عمائدین کا کہنا تھا کہ امن و امان قائم کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں ہے، ہمیں ہمارے رکھوالے مار رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات ہم نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی کہی تھی، جس پر انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ ماضی میں ہم سے غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے ملک کے امن و امان کے قیام میں انتہائی اہم رول ادا کیا ہے، تاہم کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں اب تک حالات پر قابو نہیں پایا جاسکا، واضح ہو کہ انہی دونوں علاقوں میں نشانہ شیعہ ہی ہیں۔ یہاں یہ سوال لازمی اٹھتا ہے کہ وزیرستان اور کراچی میں امن قائم کرنے والے ادارے آخر کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں امن قائم کرنے میں کیونکر کامیاب نہیں ہوسکے۔؟ کیا ان علاقوں میں امن قائم کرنا حکومت کے بس سے باہر ہے یا ان علاقوں کے باسیوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری نہیں۔؟
 
سانحہ ہزار گنجی کے پس پردہ ایک ممکنہ پہلو کی طرف جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اشارہ کیا ہے، لاہور میں پارٹی کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کوئٹہ میں ہونیوالے بم دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ ایران سے پہلے کوئٹہ میں دہشتگردی معنی خیز ہے، دہشتگردی کیلئے پاکستان میں بھارتی دہشتگردوں کا نیٹ ورک فعال ہے، ملک میں دہشتگردی کے واقعات پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ہیں، جماعت اسلامی کی پوری قیادت متاثرین دہشتگردی کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ بھارت نہیں چاہتا کہ پاک ایران تعلقات مستحکم ہوں، اس لئے ہی دہشتگردی کے واقعات دوبارہ سر اٹھانے لگے ہیں۔ پورے ملک سے دہشتگردی ختم ہوچکی ہے، جبکہ کوئٹہ اور ڈی آئی خان میں ابھی بھی دہشت گردوں کے حملے جاری ہیں، جس کیلئے سکیورٹی اداروں کو اپنی کارکردگی دکھانا ہوگی۔ لیاقت بلوچ کا یہ نقطہ انتہائی اہم ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران سے قبل اس قسم کی دہشتگردانہ کارروائی بعض نادیدہ قوتوں کی جانب سے خاص اشارہ ہے، جو دو برادر مسلم ممالک کے تعلقات کو کسی صورت برداشت نہیں کرتیں۔
 
10 سال قبل کوئٹہ کی ڈیموگریفی تبدیل ہونے اور اسے شیعہ ہزارہ کے قتل عام سے جوڑنے کی باتیں سامنے آئیں، تاریخی دھرنے کے نتیجے میں رئیسانی حکومت کا خاتمہ اور پھر گورنر راج بھی لگا، شہر میں ایف سی کے دستے بھی تعینات ہیں، امن و امان کنٹرول کرنے کی ذمہ داری پاک فوج کے حوالے کرنے کے مطالبات بھی ہوئے، مگر اب تک اس شہر میں اس منظم طریقہ سے دہشتگردی ہونا یقینا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے سکیورٹی اداروں نے ملک میں قیام امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور مجموعی طور پر کافی حد تک حالات پر قابو جاچکا ہے، تاہم شہدائے ہزار گنجی کی تدفین کے موقع پر ملکی اداروں کیخلاف نعرہ بازی افسوسناک صورتحال پیدا کر رہی ہے۔ اگر حکومت دہشتگردوں کی کمر توڑنے کی بات کرتی ہے تو یہ دہشتگرد ٹوٹی ہوئی کمر سے کیسے اس قسم کے ہولناک حملے کر رہے ہیں۔؟ کمر تو درحقیقت اس رپورٹ سے منسلک تصویر میں اس جیسے دیگر والدین کی ٹوٹی ہیں، جن کے جوان بیٹے شہید ہوگئے۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ کوئٹہ میں قیام امن کیلئے ازسرنو جائزہ لیا جائے، ہنگامی اقدامات کئے جائیں، دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کیخلاف بے رحم آپریشن کیا جائے اور کالعدم جماعتوں کے سرغنوں کو نکیل ڈالی جائے۔
خبر کا کوڈ : 788825
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب