0
Tuesday 16 Apr 2019 07:43

آپس میں دشمن اور دشمن کے ساتھ نرم

آپس میں دشمن اور دشمن کے ساتھ نرم
اداریہ
دنیا میں پچاس سے زائد اسلامی ممالک موجود ہیں۔ خداوند عالم نے ان میں سے اکثر ممالک کو قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے، افرادی قوت کے لحاظ سے بھی کسی سے کم نہیں، علاقائی اور عالمی تنطیموں کے رکن بھی ہیں اور اسلام کے نام سے عالمی اور علاقائی اداروں کے مالک بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسلمان ممالک کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن سلامتی کونسل میں انہیں مستقل رکنیت حاصل نہیں ہے، حالانکہ اگر تمام مسلمان ممالک مل کر زور لگاتے تو سلامتی کونسل میں موثر شرکت کو یقینی بنانا کوئی ناممکن امر نہ تھا۔ اسلامی ممالک کے حوالے سے بھی او آئی سی، خلیج فارس تعاون کونسل اور عرب لیگ جیسی عالمی اور علاقائی تنظیمں موجود ہیں، لیکن عالمی سیاست میں اسلامی دنیا کا کوئی فیصلہ کن کردار نہیں ہے۔ سرد جنگ کے دوران بھی مسلمان ممالک مشرقی اور مغربی ممالک میں تقسیم رہے اور آج بھی یہ تفریق جاری ہے۔

عالم اسلام کا سب سے بڑا اور مشترکہ مسئلہ فلسطین ہے اور اس پر سب اسلامی ممالک کا مشترکہ موقف ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور اس پر غاصب اسرائیل کو قبضے کا کوئی حق نہیں، لیکن عملی میدان میں کتنے اسلامی اور عرب ممالک فلسیطنیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ سامراج نے مسلمان ممالک کو حقیقی اسلامی قیادت سے محروم رکھا۔ امریکہ اور برطانیہ کی ملی بھگت سے اکثر اسلامی ممالک پر ایسا طرز حکومت مسلط کر دیا گیا ہے، جس میں مسلمان عوام چاہیں بھی تو اسلامی صفات کا حامل، سنت پیغمبر پر کاربند حکمران اقتدار میں نہیں آسکتا اور اسلامی طرز حکومت نافذ نہیں ہوسکتی۔ اقتدار کی خواہش اور اقتدار پر ہمیشہ قابض رہنے کی جبلی خواہش مسلمان حکمرانوں حتٰی اسلامی تنظیموں میں اس قدر راسخ ہوچکی ہے کہ وہ اپنا پیدائشی حق تسلیم کرتے ہیں۔ اقتدار کی یہ خواہش آہستہ آہستہ انسان کو خداوند عالم اور امت مسلمہ سے دور کرکے ان طاقتوں کی طرف لے جاتی ہے، جو ان کے اقتدار کے ضامن بن جاتے ہیں۔

آج اسلامی ممالک کے حکمران اقتدار کی ہوس میں سامراجی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکے ہیں، جس کا نتیجہ اسلام اور مسلمانوں کی زبوں حالی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اسی تناظر میں گذشتہ روز کے خطاب میں ارشاد فرمایا کہ بعض اسلامی ملکوں کے سربراہاں قرآنی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے، لہذا وہ امریکہ اور صہیونیوں کے تابع اور غلام بنے ہوئے ہیں۔ مسلمان حکمرانوں کی قرآن و دین سے دوری کا اصل محرک قتدار کا نشہ ہے۔ اس نشے نے ان کو اتنا مست کر دیا ہے کہ ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوگئی ہے۔ وہ آیت الکرسی کی بجائے کرسی اقتدار کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی لیے تو رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا ہے کہ مسلمان حکمران ایک دوسرے سے رحمدلی سے پیش آنے اور دشمنوں سے سخت برتائو کرنے کی بجائے امریکہ اور صہیونیوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور فلسطینیوں کے حقوق پامال کر رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 788889
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب