0
Wednesday 17 Apr 2019 08:07

جوتیوں میں دال

جوتیوں میں دال
اداریہ
اسّی کے عشرے میں شروع ہونے والا مسئلہ افغانستان جو سوویت یونین کے افغانستان پر حملے سے شروع ہوا، آج چالیس برس کے بعد بھی وہیں کا وہیں کھڑا ہوا ہے۔ افغانستان سے سوویت یونین کی واپسی اور امریکہ کی اس جنگ زدہ ملک میں آمد و رفت ایک ایسا تاریخی سانحہ ہے، جس نے افغان عوام کو کئی عشروں پر محیط ایسے بحران سے دوچار کر رکھا ہے، جس میں کم از کم دو نسلیں اپنے ملک کو مکمل طور پر آزاد، خود مختار اور جنگ سے عاری ملک دیکھنے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ وہ افغانستان رہنما جنہوں نے جوانی میں اپنے ملک کو بیرونی غلبہ سے نجات کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے اشتراکیت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تھا، آج ان کے پوتے اور نواسے اسکولوں اور کالجوں میں افغانستان میں سرمایہ داری اور مغربی اثر و نفوذ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ امریکہ بظاہر روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے اس ملک میں داخل ہوا تھا اور اس نے دنیا بھر سے مسلمانوں کو جہاد کے نام پر افغانسستان میں جمع بھی کیا اور القاعدہ اور طالبان جیسے گروہوں کی تخلیق و استحکام کا باعث بھی بنا، لیکن آج ان دونوں گروہوں کا حریف بھی ہے اور حلیف بھی۔

روس کے جانے کے بعد امریکہ نے افغانستان میں ایسی جڑیں پھیلائی ہیں کہ اس کا سلسلہ اردگرد کے ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ القاعدہ اور طالبان کے بعد اب وہ داعش سے استفادہ کرکے اپنے علاقائی مفاد سمیٹنے کی سازش پر عمل پیرا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کے اندر اقتدار پر براجمان گروہ امریکہ کا دامن پکڑ کر التجائیں کر رہے ہیں کہ افغانستان میں انہیں اکیلا چھوڑ کر نہ جائو۔ ادھر طالبان کا یہ مطالبہ ہے کہ بیرونی فورسز کے انخلاء کے بغیر افغانستان امن پراسس نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتا۔ افغان امور میں امریکہ کا خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد قطر، متحدہ عرب امارات، پاکستان اور افغانستان کے مسلسل دورے کرکے ہانپ چکا ہے، لیکن کامیابی دور دور تک نظر نہیں آرہی۔ حال ہی میں حکومت افغانستان اور اس ملک کی سیاسی جماعتوں نے قطر میں "بین الافغان اجلاس" میں دو سو پچاس اہم شخصیات کی شرکت پر اتفاق کیا ہے، ایک سو پچاس شخصیات میں چالیس خواتین بھی شامل ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ طالبان نے سختی سے مطالبہ کیا ہے کہ اس میں کوئی جماعت یا گروہ افغان حکومت یا اشرف غنی کا نمائندہ نہیں ہونا چاہیئے۔

علاقائی سیاست بالخصوص افغان امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آیا طالبان کے ساتھ سیاسی پارٹیوں کے ذریعے گفتگو میں افغان حکومت کے متبادل کا کردار امن پراسس کے تسلسل کا باعث بن بھی سکے گا یا نہیں، کیونکہ طالبان نے اپنا دبائو بڑھانے کے لئے دوسری طرف "الفتح" کے نام سے موسم بہار کی فوجی کارروائیوں کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے۔ جنگ کا خاتمہ اور قومی آشتی کا پروگرام ایک خواب کی مانند ہے، جس کی تعبیر کے لیے ہر افغان شہری بے چین و بے تاب ہے۔ امریکہ ان مذاکرات میں "ون ون" یعنی صرف ایسے مطلوبہ نتائج کا منتظر ہے، جس میں وہ طالبان کو بھی اپنے ساتھ  ملا لے اور افغانستان میں امریکی موجودگی کے عمل کو بھی اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ڈھال سکے۔ دوسری طرف یہ تشویش بھی نظر آرہی ہے کہ مذاکرات کا دروازہ بند ہونے سے افغانستان میں مزید بیرونی مداخلت اور قیام امن کے سلسلے میں نئی نئی رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں، جس سے امریکہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ دو سو پچاس افراد پر مشتمل اس مذاکراتی وفد کے مذاکرات نتیجہ بخش ثابت ہوتے ہیں یا جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 789048
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب