0
Saturday 20 Apr 2019 11:18

آل خلیفہ کا غیر انسانی اقدام

آل خلیفہ کا غیر انسانی اقدام
اداریہ
بحرین کی استبدادی حکومت سیاسی مخالفین کو راستے سے ہٹانے اور بحرین میں جاری عوامی جمہوری تحریک کو روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ تحریک کے قائدین من جملہ شیخ سلمان کو ٹارچر سیلوں میں ڈالنے اور آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم جیسے بزرگ عالم دین کو ملک بدر کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق یا جمہوری اقدار کے نفاذ کی بات کرنے والوں کے ساتھ جو غیر انسانی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ بحرین کو ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مظاہروں پر پابندی، نماز جمعہ پر اجتماع کرنے کی بندش، عزاداری کے پروگرام ممنوع، بحرینی شہریوں پر غیر ملکیوں سے تشدد کروانا اور ان کے شہری حقوق پر ڈاکہ آل خلیفہ کی استبدادی حکومت کی چند مثالیں ہیں۔ بحرین کے ایک سیاسی رہنما حیدر الموسوی کے مطابق آل خلیفہ حکومت کی جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کو اردن اور پاکستان سے بلائے گئے کرائے کے کارندوں کے ذریعے اذیتیں دی جاتی ہیں اور سخت تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

بحرین کے انسانی حقوق کے ایک اور فعال کارکن ابتسام الصائغ نے کہا ہے کہ بحرینی جیلوں میں بند سیاسی قیدی صحیح سلامت جیل سے باہر نکلنے سے مایوس ہوچکے ہیں اور انہیں زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں۔ بحرین کے مقامی خبری ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ایک ہزار سے زائد فوجی "سپر جزیزہ" معاہدہ کے تحت بحرین میں انقلابی اور جمہوری تحریک کو کچل رہے ہیں جبکہ پاکستان کے کرائے کے بعض سابق فوجی اور سویلین افراد جیلوں میں تشدد کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ آل خلیفہ نے اب ایک نئی ظالمانہ روش اختیار کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کی شہریت منسوخ کرنے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بحرین حکومت آل خلیفہ کے مخالف بحرینی شہریوں کی شہریت منسوخ کر رہی ہے اور باہر سے آنے والے مخصوص نظریات کے غیر عرب باشندوں کو دھڑا دھڑ شہریت دے رہی ہے۔

بعض اعداد و شمار کے مطابق بحرین کی آل خلیفہ حکومت بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کو ختم کرنے کے لیے مختلف ملکوں کے افراد کو تیزی سے شہریت دے رہی ہے۔ آل خلیفہ حکومت نے حال ہی میں ایک سو اڑتیس بحرینی شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر میشل باشلہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی نسل پرستانہ اور تفریق آمیز طریقے سے رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر ظلم کا نشانہ بنا کر ان کی شہریت کو منسوخ کرنا عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بحرین کی آل خلیفہ حکومت آل سعود کے کہنے پر اپنے شہریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھا رہی ہے لیکن بحرینی عوام کی سیاسی تحریک میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پختگی آرہی ہے۔ بحرین کے انقلابی سخت ترین حالات میں بھی اپنی تحریک کو عسکریت کے مرحلے میں نہیں ڈال رہے ہیں۔ بحرینی عوام اور قیادت کی یہ حکمت عملی بحرین میں ایک سیاسی و جمہوری انقلاب کا باعث بنے گی اور غیر عسکری طرز پر آنے والی یہ تبدیلی مضبوط و مستحکم اور پائیدار ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 789613
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے