2
0
Sunday 21 Apr 2019 16:50

نظام مہدویت، امت مسلمہ اور پاکستانی شیعہ

نظام مہدویت، امت مسلمہ اور پاکستانی شیعہ
تحریر: محمد اشرف ملک
malikashraf110@gmail.com


منجی بشریت اور مہدویت
آج کے اس ترقی یافتہ دور میں سلیم الفطرت رکھنے والا انسان سوچنے پر مجبور ہے کہ مادی و تجربی علوم کی وسعت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیوں دنیا کو رفاہ و عدالت نہیں دے سکی؟ ہر روز غربت کی لکیر کے نیچے ممالک کی تعداد میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں آج کا انسان مضطرب اور بے سکون ہے؟ اسی انسان کے سامنے ادیان عالم میں ایک منجی اور دین اسلام کے مکتب تشیع میں قرآنی آیات، پیغمبر اکرم کی احادیث اور معصومین (ع) کے فرامین کی روشنی میں عقیدہ مہدویت بہت واضح طور پر پایا جاتا ہے۔ مہدویت کا نظریہ ایک محدود علاقے کا نظریہ نہیں بلکہ عالمی نظریہ ہے اور یہ دنیا کے نظم و نسق کو چلانے کے لئے جامع، بنیادی اور عملی منصوبہ رکھتا ہے۔ دنیا بھی اس طرح کے نظام کی تشنگی محسوس کر رہی ہے اور ہمارا  ایمان ہے کہ عصر حاضر کے انسان کو جو نظام مطمئن کرسکتا ہے اور اس کی مادی و معنوی ضروریات کو پورا کرسکتا ہے، وہ صرف اور صرف نظام مہدویت ہے۔

مہدویت ایک عالمی نظامِ حکومت
مستقبل میں پوری دنیا میں واحد حکومت امام زمان (ع) اور اسلام کی ہوگی، اس کے علاوہ کوئی اور دین اور سیاست نہیں ہوگی۔ یہودیت، مسیحیت اور باقی ادیاں کا جہاں سے خاتمہ ہو جائے گا، دنیا کے ہر خطہ سے اشهد ان لا اله الاّ الله، و اشهد انّ محمّدا رسول الله کی صدا آئے گی۔ لوگوں کے آپس کے داخلی اختلافات ختم ہو جائیں گے، دنیاوی اور مادی امور میں کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ اگر کوئی نزاع یا جنگ ہوئی بھی تو کچھ عرصہ کے لئے ہوگی اور وہ حق اور باطل کے درمیان ہوگی اور بہت ہی جلد پوری دنیا میں حق کی حکومت قائم ہو جائے گی۔

امام کے سپاہیوں پر زمین کا افتخار
انسانیت کی بلندی اور کمال ہی کمال پوری دنیا میں پھیل چکا ہوگا، امام کے ساتھیوں کی ہر جگہ پر حکومت ہوگی، ہر چیز ان کی مطیع  ہوگی، یہاں تک کہ صحرا کے درندے اور شکاری پرندے بھی ان کے تابع ہوں گے اور امام کے سپاہیوں کی رضا اور خوشی کو طلب کرنے کے درپے ہوں گے۔ امام کے ان سپاہیوں، امام کے ان فوجیوں، امام کے لشکر کے ان تمام افراد کے تقویٰ، کمال، پیام صلح اور پیغام عدالت کی بنیاد پر جب یہ افراد چلیں گے تو زمین کا وہ حصہ فخر و مباحات کرے گا کہ امام مہدی کا سپاہی مجھ پر چل رہا ہے۔ ان افراد کا ہر عمل اللہ کی رضا کے مطابق ہوگا، حتٰی کہ ان کا تلواروں کو چلانا اللہ کی رضا کے لئے ہوگا، وہ اپنے ہاتھ سے تلوار کو نیچے نہیں لائیں، مگر یہ کہ اللہ ان سے راضی ہو جائے۔ امام مہدی کے زمانے میں انسانیت پر سوئی کی نوک کے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا اور کسی کا دل نہیں دکھایا جائے گا، کسی کا دل شکستہ اور توڑا نہیں جائے گا۔

مہدویت کا زمانہ پانے کی تمنا اور تیاری
مہدویت کا زمانہ وہ ہے، جس کو پانے کے لئے معصومین (ع) نے اپنے ماننے والوں کو اس طرح دعا کرنے حکم دیا ہے:"اللھم انا نرغب الیک فی دولة کریمة تعز بھا الاسلام واھلہ"پروردگار! ہم تجھ سے ایسی عظیم حکومت میں زندگی گزارنے کی دعا کرتے ہیں، جس میں اسلام اور مسلمانوں کو عزت و رتبہ حاصل ہو۔ "وتذل بہاالنفاق واھلہ" اور اس میں منافقوں کو ذلت و رسوائی ملے۔ یہ زمانہ اس شخص کو نصیب ہوگا کہ جس کی نگاہ صرف اپنی ذات، اپنی قوم یا اپنے علاقے تک محدود نہ ہو۔ اس کی نگاہ عالمی ہو، پوری انسانیت کے لئے ہو، سوچنے کا انداز جہانی ہو، یہاں تک کہ اگر وہ دعا مانگے تو دعا بھی ہر انسان کے لئے ہو اور یہ وہ طریقہ  اور تربیت ہے، جو خود معصومین نے تعلیم فرمایی ہے:"اللَّهُمَّ أَغْنِ كُلَّ فَقِیرٍ، اللَّهُمَّ أَشْبِعْ كُلَّ جَائِع، اللَّهُمَّ فَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَكْرُوب‏، اللَّهُمَّ أَصْلِحْ كُلَّ فَاسِد" ایسا انسان، مہدویت کے زمانہ کو اپنی نگاہوں میں رکھنے والا ہے، اس کا ہدف اور آئیدیل زمانہ اس دنیا کے اندر وہی مہدویت کا دور ہے۔ یہ انسان اس حوالے سے جتنے کام کرتا ہے، اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ عالمی سطح کے ہوں۔ یہی انسان اپنے حال کو مستقبل کے لئے علت بناتے ہوئے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہوتا ہے۔

نظام مہدویت میں امام کے ساتھی
امام زمانہ (عج) کے ساتھی وہ لوگ ہیں، جو آج اپنے امام کے سامنے، شریعت کے سامنے، قرآن مجید کے سامنے سر تسلیم خم ہیں۔ امام ہم سب کی کیفیت سے آگاہ ہیں، یا جب بھی آگاہ ہونا چاہیں آگاہ ہوسکتے ہیں۔ مہدویت کا زمانہ ڈرپوک، بزدل اور بے بصیرت لوگوں کا زمانہ نہیں ہے۔ جو لوگ گناہگار ہیں، ظالم ہیں، فاسق اور فاسد ہیں، جن پر اللہ کی یہ آیات صدق کرتی ہیں  کہ: تَنازَعْتُمْ، عَصَیْتُم، فَشِلْتُمْ ایسے افراد امام (ع) کے ساتھی نہیں بن سکیں گے۔ امام (ع) کے ساتھی جو انسانیت کی خدمت کرنے ہوں گے وہ، وہ لوگ ہیں کہ جن پر مومنون، خاشعون، معرضون، حافظون، قانتون جیسی صفات صدق کرتی ہیں۔

نظام مہدویت اور امت مسلمہ
پیغمبر اکرم (ص) نے 11 ہجری کو جو اسلام اور امت مسلمہ چھوڑی تھی اور اس  اسلام اور امت مسلمہ کی باگ ڈور عترت اہلبیت کے سپرد کی تھی۔ بہت جلد بعض مغرض اور مفاد پرست افراد نے مختلف طریقوں اور فریب و مکر سے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر امت مسلمہ کو عترت اہلبیت سے دور کر دیا اور امت کی باگ ڈور خود سنبھال لی۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانے میں نام کی اسلامی حکومتوں اور خلافتوں سے اسلام، اہلبیت و عترت رسول اور ان کے حقیقی ماننے والوں کو بہت نقصان پہنچا۔ آج امت مسلمہ مختلف فرقوں میں تقسیم ہوچکی ہے  تقریبا 57 اسلامی ممالک میں حکومتیں ہونے کے باوجود بہت کم ایسے ملک ہیں، جو واقعاً اسلامی اصولوں کی رعایت کرتے ہیں، باقی سب استعمار اور امریکہ و غرب کے اشاروں پر چلتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج ظلم، کرپشن، بد دیانتی، دہشت گردی و بے دینی ان ممالک میں عروج پر ہے۔ جو مخلص افراد یا معاشرے واقعاً اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں، ان کے خلاف استعمار کے اشاروں پر یہی نام نہاد ممالک اور گروہ دن رات مشغول ہیں۔ اہل حق اگرچہ کم ہیں لیکن عالم میں اگر کہیں پر انسانیت اور دین مبین اسلام کے نشان نظر آتے ہیں تو یہ ان کہ جرات، ہمت اور پاسداری اللہ تعالیٰ کے لطف خاص سے ہے۔ اس وقت عقیدہ مہدویت اور نظام مہدویت کا تعارف مکتب تشیع کی مرجعیت اور فقاہت صرف عالم اسلام میں امت مسلمہ کو نہیں بلکہ عالم انسانیت اور پوری دنیا میں احسن طریقہ سے کروا چکی ہے۔

پاکستان کے بزرگ علماء کے نظام مہدویت کیلئے مہم ترین اقدامات
امریکہ اور غرب کے مختلف مادی اور بشری نظاموں سے تنگ آکر جب انسانیت کے  درد دل رکھنے والے افراد، معنویت اور  الہیٰ اصولوں کی تلاش میں نکلے تو ان کو  مکتب تشیع میں نجات نظر آنے لگی۔ عراق و ایران کے بعد شیعہ کی بہت بڑی تعداد پاکستان میں تھی۔ یہاں کے درد دل اور درد اسلام رکھنے والے بزرگ علماء ہمیشہ ملت کی راہنمائی کرتے رہے ہیں۔ جن میں سے استاد العلماء علامہ محمد یار شاہ، استاد العلماء سید گلاب علی شاہ، محسن ملت علامہ صفدر حسین نجفی اور مرجع عالیقدر آیۃ اللہ محمد حسین نجفی ہیں۔ ان بزرگ علماء نے ملت کی تعلیم و تربیت کا  آغاز کیا اور کئی مدارس کی داغ بیل ڈالی۔ اس دوران مرجع عالیقدر آیۃ اللہ محمد حسین نجفی کی تقاریر اور تصانیف حقیقی تشیع کے تعارف کے لئے انتہائی        ضروری سمجھی گئیں اور علامہ یار شاہ اور علامہ سید گلاب علی شاہ نے ہمیشہ قبلہ کا بہت زیادہ احترام کیا۔

انہی بزرگ علماء اور بعض زعماء ملت کی کوششوں سے ملت کو نظام مہدویت کے لئے تیار کرنے کی غرض سے قوم کو علامہ مفتی جعفر حسین، علامہ شہید عارف حسین حسینی اور علامہ ساجد علی نقوی جیسے عظیم افراد کی قیادت نصیب ہوئی۔ دشمن کی نگاہ بہت تیز تھی اور ہے، دشمن انتہائی مکار اور چالاک تھا اور ہے،  اس نے ملت تشیع پاکستان کو  نظام مہدویت کا تعارف جب پوری طاقت کے ساتھ کرواتے ہوئے دیکھا تو بعض نا عاقبت اندیش مسلمانوں کو خریدا، جنہوں نے پاکستان میں شیعہ مومنین کا قتل کرنا شروع کیا اور عقیدہ مہدویت و نظام مہدویت کو زیر سوال لانے کے ساتھ ساتھ رہبر کبیر آیت اللہ امام خمینی (رہ) اور شیعہ مکتب کے خلاف زباناً اور کتباً دیواروں پر لکھنے شروع کئے،ر مکتب تشیع اور نظام مہدویت کے خلاف قانونی حوالے سے قانون ساز اسمبلی تک اپنی بات پہنچائی۔ ان دشمنوں کی تمام کوششوں کو موجودہ قیادت نے اپنی حکمت عملی اور بصیرت سے ناکام بنایا۔

نظام مہدویت اور پاکستانی ملت تشیع کی موجودہ حالت 
دشمن نے پاکستان میں شیعہ علماء کی نظام مہدویت کے لئے کامیاب کوششوں کا جب اور دقت سے مطالعہ کیا تو ایک اور سازش کو استعمال کیا۔ شیعہ قوم میں بعض نا عاقبت اندیش لوگوں کو داخل کیا اور بعض کو خریدا، انہوں نے علماء اور خصوصاً بزرگ علماء کی مخالفت کو اپنا فرض منصبی سمجھا۔ آیت اللہ محمد حسین نجفی کی بہت مخالفت کی، جس میں بعض ذاکر اور پیشہ ور خطیب آگے آگے تھے۔ ملت کے با شعور اور سمجھ دار افراد نے ہمیشہ علماء کا ساتھ دیا اور خصوصاً آیت اللہ محمد حسین  نجفی کی بصیرت افروز کتابوں کا مطالعہ کرکے غلط تصوف اور غلو پر مبنی عقائد سے اپنے آپ کو بچایا۔ اس پورے عرصہ میں بعض اہل علم بھی دشمن کی سازش کو سمجھنے سے قاصر رہے اور آیت اللہ نجفی نے جو کچھ کتابوں میں لکھا، اسے حق ماننے کے باوجود کہتے کہ ابھی ان کے لکھنے کا وقت نہیں تھا، ان کی خاموشی یا مصلحت کی وجہ سے آج شیعہ قوم کے بعض امام بارگاہوں اور بعض محافل کی حالت یہ بن چکی ہے کہ وہاں پر شرک پر مبنی عقائد شیعہ قوم کے عقائد کے طور پر پیش کئے جانے لگے۔

ایران اور مقام معظم رہبری کی مخالفت شیعہ مجالس میں ہونے لگی۔ ان حالات میں چاہیئے تو یہ تھا کہ نظام مہدویت کو پوری طاقت سے متعارف کرانے کے لئے سب شیعہ گروہ جو قوم اور ملت کی خدمت اور دین کا درد و احساس رکھتے ہیں، آپس میں مل جاتے لیکن کہاں۔۔۔؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ سوچا جائے کہ ملت تشیع کے ان بعض منحرف گروہوں یا تنظیموں کو اس حد تک کس نے پہنچایا، اندرونی اور بیرونی طور پر کس نے ان  کی پشت کو مضبوط کیا اور قومی پلیٹ فارم کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ افسوس اس وقت ہوتا ہے، جب بعض اہل علم حتی کہ حوزہ علمیہ قم سے فارغ التحصیل ہونے والے بھی عقیدہ مہدویت اور نظام مہدویت کا نام لیکر اسی نظام کی عملاً مخالفت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہر زمانے میں ہوتا رہا ہے، ہدایت کو لینا اور اس پر ثابت و باقی رہنا ہر کسی کا مقدر اور نصیب نہیں ہے۔ آخر پر دعا ہے کہ ملت پاکستان کو اور خصوصاً خواص کو دشمن کا مقابلہ اور نظام مہدویت کا ملکر پوری طاقت کے ساتھ عملی صورت میں تعارف کرانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
خبر کا کوڈ : 789826
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

Iran, Islamic Republic of
مرجع عالیقدر آیۃ اللہ محمد حسین نجفی ہیں؟؟؟؟؟؟
آیت اللہ محمد حسین نجفی کی بصیرت افروز کتابوں کا مطالعہ کرکے غلط تصوف اور غلو پر مبنی عقائد سے اپنے آپ کو بچایا؟؟؟؟؟؟
نوٹ: جس شخص (محمد حسین ڈھکو) کی مہدویت کے نام پر تعریف کی گئی، اس کے نظریہ مہدویت اور امام خمینی و آیت اللہ خامنہ کے نظریہ مہدویت میں زمین آسمان کا فرق ہے، موصوف مال امام کو زمین میں دفن کرنے اور امام مہدی سے پہلے کسی اسلامی حکومت کے قیام کا نظریہ نہین رکھتے، اسی طرح تصوف اور عرفان کے حوالے سے موصوف امام خمینی کو جو سمجھتے ہیں، اسکو انفاظ میں نہیں لکھا جا سکتا۔ ان کی مرجعیت بھی مشکوک ہے۔ خدا کا خوف کریں، متنازعہ افراد کو خواہ مخواہ عظیم بنانے کا کیا فائدہ، توانائیاں ضائع کرنے والی بات ہے۔
سلام۔۔ علمائے کرام کے علمی بنیادوں پر اختلافات کی اپنی تاریخ ہے اور امام خمینی و امام خامنہ ای کا مقام و مرتبہ اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن دیگر افراد کی بھی ایک رائے ہے جو ہم یہاں دیکھ رہے ہیں، دیگر علمی شخصیات کو اس تحریر کے جواب میں دلائل کے ساتھ امام خمینی و امام خامنہ ای کے نظریات و افکار کو پیش کرنا چاہئے۔ نہ تو ہم آغا ڈھکو صاحب کے مقلد ہیں اور نہ ہی انکے بہت سے نظریات سے متفق، لیکن اسکا یہ مطلب بھی نہیں کہ ساری دنیا ہم سے متفق ہے، ڈھکو صاحب کا تو نظریہ سبھی پر واضح ہے، مقام افسوس یہ ہے کہ جو خود کو ولایت فقیہ کے خط پر سمجھتے ہیں، ان میں سے کم از کم ایک نامور و مرکزی سطح کی تنظیمی شخصیت معمم شعلہ بیان خطیب نے بھی ایک نجی محفل میں امام خمینی کے نظریات سے اختلاف کو برملا بیان کیا اور کہا کہ میرا اپنا مطالعہ ہے۔۔۔تو جب تک معیار ایک نہیں ہوگا، تب تک بعض اختلاف کرنے والے محترم اور سگے رہیں گے اور بعض کو سوتیلا سمجھ کر تنقید کے نام پر توہین کی جاتی رہے گی۔
منتخب