0
Monday 22 Apr 2019 08:19

دیر آید درست آید

دیر آید درست آید
اداریہ
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اپنے دو روزہ دورے پر مشہد مقدس سے تہران پہنچ گئے ہیں۔ مشہد مقدس میں فرزند رسول حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت کے بعد حرم کے متولی جحت الاسلام مروی سے ملاقات میں عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں ایران پاکستان تعلقات کو بلند ترین سطح پر پہنچانے کے خواہشمند ہیں۔ خدا کرے وزیراعظم پاکستان عمران خان یہ اعلان سابقہ پاکستانی حکمرانوں کی طرح زبانی کلامی اور کھوکھلا نہ ہو، عمران خان کی شخصیت کرکٹ کے میدان سے فلاحی کاموں تک اور سیاست میں آنے کے بعد انتخابی مہم سے وزیراعظم بننے تک مختلف نشیب و فراز سے گزری ہے۔ اپوزیشن کے عمران خان اور کرسی اقتدار پر براجمان عمران خان کے عمل و کردار کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ عمران خان اپوزیشن کے دور میں دعویٰ کرتے تھے کہ وہ پاکستان کی اقتصادی حالت اور خارجہ پالیسی کو خودمختاری اور آزادی کی طرف لے جائیں گے، وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہمسایہ ممالک سے بہترین تعلقات ان کی ترجیحات میں ہے۔ عمران خان کو اقتدار میں آئے آٹھ نو ماہ ہو چکے ہیں، وہ تبدیلی کے نعرے سے عوام میں مقبول ہوئے تھے، لیکن ان کی چند ماہ کی کارکردگی ان کے سلوگنز اور وعدوں سے سازگار نظر نہیں آرہی۔

اقتصادی مشکلات نے انہیں گھیر رکھا ہے، ہندوستان اور افغانستان جیسے مسائل میں بھی وہ بری طرح الجھے ہوئے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرامپ بھی ان کو آئے روز دھمکیاں دیتا رہتا ہے اوپر سے پارٹی کے داخلی اختلافات بھی کوئی اچھا تاثر قائم نہیں کر رہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک روایتی سیاستدان نہیں ہیں، ان کے ٘مخالفین ان پر سلیکٹڈ  وزیراعظم کی پھبتی بھی کستے ہیں، تاہم پاکستانی عوام کی ان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں، خارجی تعلقات کے حوالے سے بھی ان کا ویژن پرکشش ہے۔ وہ ایسے وقت میں اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کی سرحدیں دہشت گردوں نے ناامن بنا رکھی ہیں اور دو ہمسایہ برادر اسلامی ملک باہمی تعلقات میں زیادہ سے زیادہ فروغ کی بجائے سرحدوں کی سلامتی کے بارے میں فکرمند نظر آرہے ہیں۔ بیرونی دہشتگردی کا مسئلہ عمران خان کے حالیہ دورے پر سایہ فگن نظر آرہا ہے، اس جلتی آگ پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے متنازعہ بیان دیکر پیٹرول چھڑکنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان جیو پولیٹکل، جیو کلچر اور جیو اکانومیک کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

پاکستان میں توانائی کا بحران ہے اور ایران اس بحران کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ دوسری طرف دونوں ملک امریکہ کی تیار کردہ دہشت گردی کے حامی ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ امریکہ نے پاکستان کی بجائے ہندوستان کو اپنا اسٹریجک اتحادی قرار دے دیا ہے اور ایران تو عرصے سے امریکہ کی ہٹ لسٹ پر ہے، ایسے میں دونوں ممالک مشترکہ اہداف کی طرف بڑھ سکتے ہیں، اگر ایران اور عراق تمام تر بیرونی پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود باہمی تجارتی لین دین کو بارہ ارب ڈالر تک لے جا سکتے ہیں، تو ایران پاکستان کیوں نہیں یہ کام کرسکتے۔ وزیراعظم عمران خان اگرچہ دیر سے دورہ ایران پر آئے ہیں، لیکن وہ اپنے عزم بالجزم سے دونوں ممالک کے درمیان سرد تعلقات کو گرمجوشی میں تبدیل کرکے دونوں ملکوں کے مشترکہ مفاد کے حصول کے لئے تاریخی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ عمران خان سیاست، تجارت، توانائی، سکیورٹی اور ثقافتی و سیاسی تعلقات کو ایک نئی جہت دے سکتے ہیں۔ اگر عمران خان یہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاک ایران تعلقات کے فروغ کا خواہشمند ہر شخص یہ کہہ اٹھے گا "دیر آید درست آید" ورنہ یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے "آمدی جانم بہ قربانت ولی حالا چرا" (قربان جائوں اب کیوں آئے ہو) 
خبر کا کوڈ : 789917
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب