0
Monday 22 Apr 2019 22:32

امریکہ اور ترکی میں کشیدگی کی وجوہات

امریکہ اور ترکی میں کشیدگی کی وجوہات
تحریر: ہادی محمدی

مصر میں اخوانی طرز فکر کے حامل محمد مرسی کے برسراقتدار آنے کے بعد اسرائیلی تھنک ٹینکس نے اس خدشے کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ خطے میں اخوانی سوچ طاقت پکڑنے کا نتیجہ صہیونی رژیم کیلئے غیر متوقع حالات پیش آنے کا باعث بنے گا۔ اسی طرح وہ یہ پریشانی بھی ظاہر کرنے لگے کہ مصر جیسے اہم عرب ملک میں اخوان المسلمین کی سوچ فروغ پانے سے خطے میں اسرائیل کا اثرورسوخ اور طاقت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ لہذا امریکی حکام کی جانب سے مصر میں عوامی تحریک کے آغاز سے ہی اخوان المسلمین کے رہنماوں سے خفیہ معاہدے اور ڈیلز کرنے کے باوجود اسرائیلی حکام نے وائٹ ہاوس پر زور دیا کہ وہ صدر محمد مرسی کو اقتدار سے محروم کر دینے پر راضی ہو جائیں۔ اسرائیلی حکام کے اس اصرار کی وجہ بھی واضح تھی۔ فلسطین میں سرگرم اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس اور محمد مرسی کی اخوانی طرز فکر کی حامل حکومت میں گہرے تعلقات اور فکری ہم آہنگی اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ پر اپنا تسلط قائم کرنے اور حماس کو اپنے اشاروں پر چلنے کیلئے مجبور کرنے میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہے تھے۔
 
یہاں سے امریکہ اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہونا شروع ہوئی اور اس وقت سے لے کر آج تک شام سے متعلق امریکہ کی علاقائی پالیسیوں میں ترکی کی پوزیشن کمزور باقی رہی ہے۔ اگرچہ دنیا بھر سے تکفیری دہشت گرد عناصر کی شام اور بعض اوقات عراق منتلی کیلئے ترکی کی سرزمین انتہائی وسیع سطح پر استعمال ہوئی ہے لیکن امریکہ نے شام کی فائل پہلے قطر اور اس کے بعد سعودی عرب کے حوالے کر رکھی ہے۔ البتہ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے قطر کی مدد سے شام میں اپنے طور پر اثرورسوخ کے ذرائع پیدا کرنے کی کوشش ضرور کی ہے جو آج تک جاری ہے۔ امریکہ کی جانب سے خطے سے متعلق اپنی پالیسیوں میں سعودی عرب اور سلمان خاندان کی فرمانروائی کو مرکزیت عطا کئے جانے کے باعث ترکی ان پالیسیوں میں مرکزی حیثیت کھو چکا ہے خاص طور پر اب جب شام میں امریکہ کے حمایت یافتہ دہشت گرد عناصر مکمل نابودی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں یہ سرد مہری اور کشیدگی اس وقت اپنے عروج کو پہنچی جب امریکہ کے انٹیلی جنس اداروں نے ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کے خلاف فوجی بغاوت کی کوشش کی جس کے نتیجے میں امریکی حکام اور ترک حکام میں عدم اعتماد کی دیوار قائم ہو گئی۔
 
آستانہ مذاکرات کے دوران رجب طیب اردگان کی جانب سے اپنی خارجہ پالیسیوں کا رخ ایران اور روس کی جانب موڑ دینے کا فیصلہ بہت حد تک امریکی دباو کا ردعمل تھا۔ ترکی کی خارجہ پالیسی میں یہ تبدیلی اگرچہ نیٹو سے اس کے نکل جانے کا باعث نہیں بنی لیکن امریکہ سے تعلقات مزید کشیدہ ہو جانے کا باعث ضرور بنی ہے۔ آج ترکی خطے میں سعودی عرب اور مصر کے مدمقابل کھڑا ہے اور امریکہ کیلئے بھی ایک چیلنج بن چکا ہے۔ امریکی حکام ترکی کو کھونا بھی نہیں چاہتے لیکن ساتھ ساتھ ترک حکام کی سرزنش بھی کرنا چاہتے ہیں لہذا وہ اس مقصد کیلئے مختلف قسم کے انٹیلی جنس، سکیورٹی اور خاص طور پر اقتصادی ہتھکنڈے بروئے کار لا رہے ہیں۔ امریکہ سے ایف 35 جنگی طیارے خریدنے کے ساتھ ساتھ روس سے ایس 400 جدید میزائل ڈیفنس سسٹم کی خریداری بھی درحقیقت ترکی کی جانب سے امریکہ اور نیٹو کے تسلط سے باہر نکلنے کی ایک کوشش قرار دی جا رہی ہے۔ امریکہ ترکی سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں ساتھ دینے اور روس سے دور رہنے کا مطالبہ کر رہا ہے جبکہ ترکی ان مطالبات کے بدلے امریکہ سے چاہتا ہے کہ اس کی سابق جیوپولیٹیکل، اقتصادی اور علاقائی حیثیت بحال کی جائے۔
 
کم از کم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مدت میں ترکی اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کم ہونے کی توقع نہیں کی جا سکتی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے سے متعلق اپنی تمام پالیسیوں کو سعودی عرب اور سلمان خاندان سے گرہ لگا رکھی ہے اور تجارتی بنیادوں پر خارجہ پالیسی کی راہ اپنا رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا فیصلہ عملی شکل اختیار نہیں کر سکا اور تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ کیونکہ امریکہ اس صورت میں ترکی کی جانب سے کرد اکثریتی علاقوں میں فوجی آپریشن سے خوفزدہ ہے جبکہ ترکی سے یہ یقین دہانی بھی حاصل نہیں کر سکا کہ وہ امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد ایسا کوئی آپریشن انجام نہیں دے گا۔ اس امر نے خطے سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ منصوبوں کو متاثر کیا ہے اور یوں ترکی امریکہ کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ترکی میں منعقد ہونے والے حالیہ انتخابات میں صدر رجب طیب اردگان کی جماعت کی شکست بھی امریکہ سے اسی کشیدگی کا شاخسانہ ہے۔ اس وقت ترکی کے پاس امریکہ سے مقابلہ کرنے کا بہترین راستہ ایران سے تعاون بڑھانے میں مضمر ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کردہ اقتصادی پابندیوں کے تناطر میں اس حکمت عملی کا بہترین موقع بھی موجود ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 790076
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب