0
Tuesday 23 Apr 2019 08:03

پاک ایران تعلقات کی پہلی ترجیح

پاک ایران تعلقات کی پہلی ترجیح
اداریہ
وزیراعظم پاکستان عمران خان دو دن کے مصروف اور کامیاب دورے کے بعد پاکستان واپس جا چکے ہیں۔ اس دورے کے عملی اثرات کچھ دن بعد مرتب ہوں گے، تاہم عمران خان اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقاتوں میں جو بظاہر صمیمیت اور حقیقت پسندی نظر آئی، اس کے نتائج کے بارے میں یقیناً پرامید رہنا چاہیئے۔ صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے عمران خان اور ان کے وزراء کی ملاقاتیں یقیناً دور رس نتائج کی حامل ہوں گی۔ لیکن رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے ان کی ملاقات اور رہبر انقلاب اسلامی کی طرف سے اس بات کا کھل کر اظہار کہ دونوں ممالک کے درمیان دشمن کی سازشوں کے باوجود مختلف شعبوں میں تعاون میں فروغ ضروری ہے، اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسی بنیادی پالیسی کی طرف متوجہ کیا ہے کہ ایران اور پاکستان کا مشترکہ کٹر دشمن دونوں ممالک کے تعلقات کو کبھی بھی مثالی نہیں بننے دے گا، لہذا اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے تعلقات میں فروغ آنا چاہیئے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن کی نشانیاں بناتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کا دشمن سرحدوں کو ناامن کرنے اور پاک ایران تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے دہشت گردوں کو پیسہ اور اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ رہبر معظم نے پاکستان کے وزیراعظم کو دشمن کا ایڈریس بتا دیا ہے کہ پاک ایران تعلقات کا دشمن اس خطے میں دہشت گردوں پر سرمایہ کاری کر رہا ہے، وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ان کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد کر رہا ہے۔ یہ وہ دشمن ہے جو صدر ایران کے دورہ پاکستان پر ہندوستانی جاسوس کلبھوشن کے مسئلے کو اٹھا دیتا ہے اور وزیراعظم عمران خان کے دورے سے چند دن پہلے پاکستانی فورسز کی وردیاں پہن کر کئی گھنٹوں کی نڈر و مطمئن کارروائی کرکے نیز شناختی کارڈ چیک کرکے صرف اور صرف پاکستان کی فورسز کے نوجوانوں کو نشانہ بناتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے دشمن کی نشانیاں اور اہداف و مقاصد کھل کر بتا دیئے ہیں اور عقلمند کے لیے اشارہ کافی ہوتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے اس دشمن کی پہچان اور اس سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔ دشمن کا آلہ کار پاکستان میں علیحدگی پسندوں کا روپ دھار لیتا ہے اور ایران میں قوم و نسل اور تعصب و فرقہ واریت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ علیحدگی پسند دہشت گردوں اور مذہبی جنونیوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے ان کی مالی اور اسلحہ جاتی مدد کرنے والوں کو خطے سے نکالنا ہوگا، یہ دشمن جب تک خطے میں موجود رہے گا، دہشت گردی اور ناامنی کا بازار گرم رہے گا۔ کنویں سے کتے کو نکالے بغیر پانی کے جتنے مرضی ڈول نکال لیے جائیں پانی پاک و پاکیزہ اور پینے کے قابل نہیں ہوگا، پہلی ترجیح کتے کو نکالنا ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 790114
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب