0
Wednesday 24 Apr 2019 07:46

نیا پاکستان اور ایران کا اسلامی انقلاب

نیا پاکستان اور ایران کا اسلامی انقلاب
اداریہ
وزیراعظم پاکستان عمران خان کا دورہ ایران اسلام اور امن دشمنوں کی آنکھوں میں دیر تک کھٹکتا رہے گا اور اس بات کا قومی امکان ہے کہ پاک ایران تعلقات کے فروغ کی دشمن علاقائی اور عالمی طاقتیں ماضی کی طرح اب بھی دونوں ممالک کو قریب نہیں آنے دیں گی۔ عمران خان کے دورہ ایران کے بارے میں مخالف طاقتیں جس طرح کیڑے نکال رہی ہیں، اس سے ان کی مستقبل کی منصوبہ بندی واضح نظر آنا شروع ہوگئی ہے۔ عمران خان ایک روایتی سیاستدان نہیں اور یوں بھی وہ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں۔ بیوروکریسی اور وزارت خارجہ کی لکھی لکھائی اور سفارتی بندھنوں میں قید ذومعنی محتاط اور بے اثر جملوں پر مشتمل تقریروں سے پرہیز کرتے ہیں اور ان کی فی البدیہ تقریر بعض اوقات ان کے لیے مسائل کا باعث بھی بنتی ہے۔ ماہرین لسانیات اور نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ زبانی تقریر اکثر اوقات دل کی ترجمان اور حقیقتت کے اظہار کا باعث بن جاتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے دورے میں وزیراعظم عمران خان نے ایران کے اسلامی نظام کی دو تین بار بالواسط اور بلاواسط کھل کر تعریف کی۔ تقریر کے دوران انہوں نے ایران کے پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو دنیا کے بہترین ہیلتھ کئیر نظاموں میں سے ایک قرار دیا اور کھل کر کہا کہ میں اپنے صحت کے وزیر کو اسی لیے ساتھ لایا ہوں کہ وہ اس نطام کو قریب سے دیکھیں اور اسے پاکستان میں لاگو کرنے کی کوشش کریں اور شاید عمران خان کی اس خصوصی توجہ کی بناء پر ایران اور پاکستان کے درمیان اس دورہ میں جس واحد سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں، وہ ایران اور پاکستان کے محکمہ صحت کے درمیان سمجھوتہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ کانفرنس میں ایک اور ایسا جملہ کہا ہے، جس پر سامراجی اور تکفیری حلقوں میں گذشتہ دو دن سے ہلچل مچی ہوئی ہے اور ان کے ہاں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔

پاکستان کے "روزنامہ جنگ" نے بھی اس کو اپنی 23 اپریل کی اشاعت میں صفحہ اول کی سب سے بڑی سرخی یعنی ہیڈ لائن کے طور پر منتخب کیا ہے۔ جس مقصد کے لیے امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی گذشتہ چالیس سالوں سے ایران کے نئے نظام کو سیاسی، سفارتی، عسکری، اقتصادی اور عسکری حملوں کا نشانہ بنائے ہوئے تھے، وہ سب منصوبے عمران خان کے ایک جملے سے نقش برآب ثابت ہوگئے۔ امریکہ بالخصوص اس کے حواری عرب ممالک اس بات کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے تھے کہ ایران کا اسلامی انقلاب مسلمان ملکوں کے لیے آئیڈیل اور مثالی نمونہ نہ بنے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ کہہ کر کہ نئے پاکستان کو ایران جیسے اسلامی انقلاب کی تلاش ہے، انقلاب دشمن اور عالمی طاقتوں کی کوششوں اور امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ یاد رہے کہ عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہم نئے پاکستان میں ایران جیسا انقلاب لانا چاہتے ہیں، جس میں امیر اور غریب کے مابین کوئی تفریق نہ ہو۔
خبر کا کوڈ : 790386
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے