0
Wednesday 24 Apr 2019 13:20

چترال کے اقلیتی ممبر صوبائی اسمبلی پر مولویوں کی یلغار

چترال کے اقلیتی ممبر صوبائی اسمبلی پر مولویوں کی یلغار
تحریر: طاہر یاسین طاہر

سننے، لکھنے اور دیکھنے میں فرق ہے، ایک اخبار نویس اپنی معلومات، معتبر ذرائع یا پھر کسی خاص موضوع سے متعلق انٹرنیٹ پر کی گئی تحقیق کی بنا پر ہی کسی حلقہ انتخاب، یا کسی علاقے کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرسکے گا۔ یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ اے کاش، کیلاش و کافرستان کہلائے جانے والی وادی میں جانے کا اتفاق ہو۔ قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھوں اور فطرت کی زبان سے ہی فطرت کے قصیدے سنوں۔ چترال کہاں ہے؟ پاکستان کے انتخابی منظر نامے کا حلقہ اول۔ اس حلقہ کی ایک شہرت یہ بھی ہے کہ یہاں سے سابق آرمی چیف اور سابق صدر پاکستان پرویز مشرف بھی انتخاب میں حصہ لینے کے آرزو مند رہے۔ گوگل نے ہماری کئی مشکلات پلک جھپکتے ہی آسان کر دی ہیں۔ انٹرنیٹ کی آمد سے کئی سال پہلے ایک آدھ مرتبہ کیلاش قبیلے یا وادی کافرستان کے بارے میں مختلف اخباری میگزین میں اساطیری کہانیاں اور قصے پڑھا کرتا تھا، شاید کالج کے زمانے میں، تو دل مچل جاتا اور قدم بے قرار ہو جاتے۔ لیکن جیب کہاں اجازت دیتی کہ ہم ایسے لوگ چترال میں کیلاش قبیلے کا ثقافتی میلہ دیکھنے جائیں۔

 کیلاش کی تہذیب اور روایات کا کھوج لگائیں، اے کاش۔ تہذیبوں کے تسلسل اور زوال و عروج کی کہانیوں میں کئی اسباق ہیں، ہم مگر تاریخ کو "چسکہ خوری" کے لیے پڑھتے ہیں۔ ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کی چند برس پہلے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع وادی چترال قدرتی حسن سے مالا مال ہے جبکہ یہاں صدیوں سے آباد "کیلاش" قبیلہ اپنی منفرد تہذیب اور ثقافت کی وجہ سے پاکستان کے رنگا رنگ کلچر میں ہیرے کی طرح دمکتا چلا آرہا ہے۔ لیکن گزرتے وقت اور حالات کی سختیوں کے باعث اب اسے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ یعنی اس قبیلے کی قدیم ثقافت کو۔ قبیلے کے افراد کی تعداد گھٹتے گھٹتے 6 ہزار تک محدود ہوگئی ہے، جو ایک لمحہ ِفکریہ ہے۔ وادی چترال کئی چھوٹی چھوٹی وادیوں کا مجموعہ ہے، جن میں "بمبوریت، رمبور اور بریر" نام کی وادیاں بھی شامل ہیں۔ کیلاش قبیلے کے زیادہ تر افراد انہی وادیوں میں آباد ہیں۔ ایک دور میں اس قبیلے کو وادی کا حکمران قبیلہ تصور کیا جاتا تھا۔ ماہرین سماجیات نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو منفرد ثقافت اور قدیم روایات کے امین اس قبیلے کا نام و نشان مٹ جائے گا کیونکہ اس تبدیلی سے قدیم تہذیب کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

انٹرنیٹ پر دستیاب مواد کے مطابق کیلاش دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے، جو بیک وقت ایک مذہب بھی ہے، ثقافت بھی جبکہ اس تہذیب کے حامل لوگوں کی زبان کو "کلاشہ" کہا جاتا ہے، یہ بات درست ہے کہ کیلاش دنیا کی قدیم ترین تہذیب کی نمائندگی کرتے ہوئے دورِ حاضر میں بھی چترال کے پرامن ماحول میں اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ کیلاش کے نسلی تعلق اور ان کی ابتداء سے متعلق کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں، البتہ دورِ حاضر میں کیلاش تہذیب سے متعلق دو نظریات بڑے ہی مشہور ہیں، ایک تصور یہ ہے کہ ان کا تعلق قدیم آریا نسل سے ہے، جو کہ اب چترال کے تین دیہات بمبوریت، بیریر اور رمبور میں صرف چار سے پانچ ہزار نفوس پر مشتمل آبادی تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ دوسری روایت یوں ہے کہ کیلاش یونانی النسل قوم ہے، جب سکندر اعظم کی فوجیں موجودہ افعانستان سے گزر رہی تھیں تو یونانی لشکر کے بہت سے ارکان اس خطے میں رہ گئے اور وہ یہاں آکر آباد ہوگئے۔

ایرانی سیاح محمود دانشور کیلاش تہذیب پر یوں رقم طراز ہے کہ ’’یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ رسم زرتشتیوں سے مستعار لی گئی ہو، کافروں کی پچاس فیصدی رسمیں زرتشتیوں سے ملتی ہیں، تاریخ بتاتی ہے کہ زرتشتی ایران سے نکل کر اپنے مذہب کو غیر ممالک میں پھیلاتے رہے۔‘‘ بعض مورخوں کا خیال ہے کہ کافروں کا تعلق قدیم یونانیوں سے ہے، لیکن یہ صیحح ہے کہ ان کی بعض عادات قدیم یونانیوں سے ملتی جلتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب حملہ ہوا تو اس وقت چند اثرات باقی رہ گئے تھے۔ ورنہ یہ کافر یعنی کیلاش دراصل قدیم آریہ لوگوں کی نسل سے ہیں۔ کیلاش قبیلے کی مختصر تاریخ، ثقافت اور جدید عہد سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی روایات سے جڑے رہنے کی جدوجہد اگرچہ ہمارا موضوع نہیں، لیکن قارئین کو بتانا مقصود ہے کہ کیلاش کا سالانہ ثقافتی میلہ پاکستان کی سیاحتی انڈسٹری کا "حب" ہے۔ کیا ایسے علاقے میں ترقی نہیں ہونی چاہیئے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ایسے علاقے کی ترقی تو حکومت کی ترجیحات اولین میں سے ہو۔ ماضی کے جھمیلوں میں پڑے بغیر انتہائی مستند ذرائع سے جو خبریں موصول ہوئی ہیں، وہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔

چترال کے قومی اسمبلی کے حلقہ نمبر 1 سے ایم ایم اے کے منتخب ایم این اے، مولانا عبد الاکبر چترالی، کے پی کے یعنی صوبائی اسمبلی کے ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان، کیلاش قبیلے کے اقلیتی ممبر صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ وہی روایتی سیاست اور فتوے کی تیز دھار تلوار۔ اقلیتی ممبر صوبائی اسمبلی اپنے علاقے پی پی چترال 1 کے لیے گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق وہ خدمت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے بلکہ بلا کسی نسلی و قبائلی اور مذہبی تعصب کے اجتماعی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔۔ کیلاش قبیلے کے افراد سے لے کر عام آدمی تک سب ان کی کاوشوں اور نیک نیتی سے خوش ہیں، سوائے مذکورہ مولویوں کے، کہ انہیں یہ دکھ ہے کہ وہ منتخب نمائندے ہیں، جبکہ وزیر زادہ اقلیتی سیٹ پر سلیکٹ ہو کر آیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ وزیر زادہ کے خلاف باقاعدہ پریس کانفرنسز کی جا رہی ہیں اور مذہب کا ہتھیار تو ہر وقت بے نیام رہتا ہی ہے۔ وزیر زادہ ایم پی اے اقلیتی نشست، کو ان دنوں یونائیٹڈ نیشن والوں نے بلایا ہوا ہے، جبکہ مولویوں کے پیٹ میں ہول اٹھ رہے ہیں کہ یہ "خدمت" ان کے حصے میں کیوں نہیں آئی؟

میری چترال کے عام افراد سے سوشل میڈیا پر بات ہوئی اور کچھ سے ٹیلی فون پر بھی، سب اقلیتی ایم پی اے وزیر زادہ کے حسن اخلاق اور ان کی علاقے کے لیے ترقیاتی منصوبوں، نیز ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جبکہ مولوی حضرات اس سارے سیاسی منظر نامے کو مذہب، مسلک اور فتوے کی نظر سے دیکھتے ہیں، جو کسی بھی طور زیبا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اقلیتی ایم پی اے "وزیر زادہ" کو زیادہ لگن اور جرات مندی کے ساتھ اپنے علاقے، اپنی کمیونٹی اور بالخصوص اپنے وطن کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیئے۔ کیونکہ انہیں صوبائی اسمبلی میں نشست آئین نے دی ہے، ریاست نے انہیں جو حق دیا ہوا ہے، وہ کوئی مولوی، ملا یا فتویٰ گر نہیں چھین سکتا۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ اقلیتیوں کا بھی اس ملک پر حق ہے اور بے شک ان کی قربانیاں بھی ہیں۔ ہاں حاسدوں کے پاس اگر اقلیتی ممبر صوبائی اسمبلی "وزیر زادہ" سے متعلق کرپشن، اقرباء پروری، مسلی و نسلی تعصب کے حوالے سے کوئی ثبوت ہیں تو وہ انہیں ضرور اسمبلی میں پیش کرنے چاہئیں۔ بہ صورتِ دیگر میں سمجھتا ہوں کہ روایتی مولویانہ سیاست ملک کو مزید نقصان اور چترال کو بے حال کر دے گی۔
خبر کا کوڈ : 790530
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے