1
3
Thursday 25 Apr 2019 02:30

پاک ایران تعلقات کے نظرانداز پہلو

پاک ایران تعلقات کے نظرانداز پہلو
تحریر: عرفان علی
 
عمران خان نے پاکستان کے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ برادر دوست پڑوسی اسلامی ملک ایران کا پہلا مگر یادگار دورہ کیا ہے۔ اس کے متعدد پہلو ہیں اور بہت سے پہلوؤں پر مختلف زاویوں سے تعریفی و تنقیدی جائزہ لیا جا چکا ہے، اس لئے ہم اس دورے کو بعض ایسے پہلوؤں اور زاویوں سے دیکھنا پسند کریں گے کہ جو دیگر تجزیہ نگار دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم نے اس دورے کو یادگار اس لئے لکھا ہے کہ اس پورے دورے پر خالص پاکستانی رنگ نمایاں اور غالب نظر آیا ہے۔ اس میں روایتی سفارتی اشاروں اور کاروباری مفادات پر پاکستانیت حاوی رہی۔ جی ہاں مجموعی طور پر پاکستانی قوم کا مسلک عشق ہے۔ مشہد مقدس میں امام علی رضا (ع) کے حرم مطھر کی زیارت اور نوافل و دعاؤں کے ساتھ پاکستانی حکمرانوں کے وفد نے اس دورے کا آغاز کرکے پوری پاکستانی قوم کی ترجمانی کی۔ جو نہیں سمجھ سکتے انکی سمجھدانی میں اضافے کی نیت سے پاکستان اور ایران کی مشترکہ ثقافت اور رشتے کو ایک اور انداز میں اشارتاً عرض کر دوں کہ ہم پاکستانی جو ملی نغمہ گنگناتے ہیں، میں پاکستان ہوں، میں زندہ باد ہوں تو اس میں بھی ہم اپنے مادر وطن پاکستان کے لئے فخریہ طور پر کہتے ہیں کہ میں شاہیں ہوں اقبال کا، میں گھر حیدرؑ کی آل کا، میں قائد کا فرمان، میرے سینے میں قرآن، میں خیبر، میں پنجاب، میں سندھ بلوچستان ہوں، میں پاکستان ہوں میں زندہ باد ہوں۔
 
 یہ نغمہ نیا سہی لیکن ہمارے ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر کی تاریخ پرانی ہے۔ یہ ہماری پاکستانیت ہے، جو قرآن و اہلبیت (ع) سے اپنے تعلق اور نسبت پر نازاں ہے۔ آل ؑ رسول (ص)، خاتون جنت، سرداران جوانان جنت حسنین کریمین امام عالی و والی مقام اور انکی پاکیزہ اولاد سے عقیدت ہماری حقیقت ہے اور خیبر پختونخوا کے خوشحال خٹک سے لے کر سندھ کے شاہ عبداللطیف بھٹائی تک پاکستانی نظریہ ایک ہی ہے، بری سرکار کے مزار اقدس سے لے کر عبداللہ شاہ غازی اور بلوچستان کے مخدوم بلاول شاہ نورانی سے سندھ کے لال شھباز قلندر اور پنجاب کے بابا فرید گنج شکر اور ملتان کے شاہ شمس تبریز کے مقدس جائے مدفن تک ہمارا جو رنگ ہے، اس سے دنیا کے کسی ہوشمند باضمیر انسانیت دوست انسان، ملک یا حکومت کو کبھی کوئی مسئلہ نہ رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ممکن نہیں ہے۔ البتہ بعض جی سی سی ممالک کو یہ پاکستانی رنگ کبھی بھی پسند نہیں رہا، کیونکہ اس طرح پاکستان ایران کا فطری و نظریاتی و ثقافتی اتحادی نظر آتا ہے۔
 
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ایران کے انقلاب سے پہلے بھی پاکستان کا مزاج یہی تھا۔ ایران کے انقلاب کے بعد نشان حیدر کا سلسلہ شروع نہیں ہوا بلکہ پہلے سے تھا؟ ماضی کا ملی نغمہ اے راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو، کیا اس کے اشعار یاد نہیں؟ پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا میں اگر کوئی ملک نظریاتی طور پر سب سے زیادہ ایران کے قریب ہے تو وہ علامہ اقبال اور محمد علی جناح کا پاکستان ہی ہے اور ایران کے لئے بھی اگر کوئی ریاست و مملکت یا اسکے رہنما انقلاب اسلامی ایران سے بھی پہلے سے انکی پسندیدہ رہی ہے یا رہے ہیں تو وہ پاکستان اور بانیان پاکستان میں سے خاص طور پر بابائے قوم محمد علی جناح اور علامہ اقبال ہی ہیں۔ اس لئے دوسرے ملکوں کے ایران دشمن بیانیے پر پاکستان کی نقاب ڈال کر پاکستانی قوم کو گمراہ نہیں کیا جاسکتا کہ حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے۔ اس وقت عالم اسلام و عرب میں اسرائیلی امریکی بیانیہ کو سعودی اماراتی شاہ و شیوخ نے اپنی نقاب ڈال کر آگے پھیلا دیا ہے اور پاکستان میں انکی لابی کے افراد ایک مصنوعی تاثر پھیلاتے رہے ہیں، گویا ایران میں انقلاب آنے کے بعد سے تعلقات خراب ہوئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کافر کافر کے نعرے ایجاد کرنے والے دہشت گردوں اور انکے منافق سرپرستوں نے پاکستان کو دنیا بھر میں ذلیل و رسوا کرکے رکھ دیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں بھی انہی کی وجہ سے ڈالے جانے کا خدشہ ہے۔
 
پاکستانی فلسطین پالیسی جو بابائے قوم بانی پاکستان محمد علی جناح، جنہیں پاکستانی قائد اعظم کہتے ہیں، انکی فلسطین پالیسی اور پاکستان کے نظریہ ساز قومی شاعر علامہ اقبال کی فلسطین پالیسی اگر اس وقت دنیا میں کوئی ایک ملک مکمل طور پر اپنی ریاستی و قومی پالیسی میں عملی طور پر باقی رکھے ہوئے ہے تو وہ بھی صرف اور صرف ایران ہے۔ جس نے علامہ اقبال کو پڑھا ہے، اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران کی حیثیت و اہمیت کیا ہے اور جو بین الاقوامی تعلقات میں رائج نظریات سے آگاہ ہیں، انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں مفکرین کے نکتہ نظر کا بڑا کردار ہوا کرتا ہے۔ یہ بین الاقوامی تعلقات و بین الاقوامی سیاست اور نظریات کا دقیق مطالعہ کرنے والا طالب علم یا استاد ہی جانتا ہے کہ مغربی سیاست و سفارتکاری میں جان لاک، ایمانویل کانٹ یا ان جیسوں کے نظریات کیا حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ بھارتی سفارتکار و سیاستدان ہی سمجھ سکتے ہیں کہ کوٹلیہ چانکیہ کیوں انکے لئے اہم ہے۔ میکاولی سے ہنری کسنجر، برزنسکی، سیموئیل ہنٹنگنٹن تک مغربی شخصیات کے نظریات کی مثالیں دی جاتی ہیں، تازہ بہ تازہ واقعات کو مفکرین کے نظریات یا مفروضوں کے آئینے میں چھان کر دیکھا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک پاکستانی قوم کے خواص ہیں کہ جنہوں نے کبھی ملکی و بین الاقوامی سیاست و سفارتکاری میں علامہ اقبال کے نظریات سے استفادہ نہیں کیا اور انکو وہ اہمیت نہیں دی، جو مغربی یا ہندی خواص نے دی ہے۔
 
ورنہ ریاست پاکستان، حکمران شخصیات، ادارے، پاکستانی اسکالرز کے مجموعی طرز عمل سے پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال کے یہ اشعار ضرور جھلکتے نظر آتے۔ کیا انہوں نے مفکر پاکستان علامہ اقبال کی پیشن گوئی اور رائے نہیں پڑھی:
 پانی بھی مسخر ہے، ہوا بھی ہے مسخر
کیا ہو جو نگاہ فلک پیر بدل جائے
 دیکھا ہے ملوکیت افرنگ نے جو خواب
 ممکن ہے اس خواب کی تعبیر بدل جائے
 تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
 شاید کہ کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
وہ جو ایران دشمن امریکی اسرائیلی بیانیہ بیچ رہے ہیں، وہ جو ایران سے دو طرفہ تعلقات میں ہر مرتبہ کسی تیسرے ملک کو گھسیٹ کر لے آتے ہیں، وہ تو ایران کے ساتھ دوطرفہ تعلقات تک کو ہر ممکن طریقے سے خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں، لیکن یہاں تو پاکستان کا مفکر، نظریہ ساز، قومی شاعر تہران کے اس بین الاقوامی قائدانہ و مرکزی کردار کہہ چکا یعنی جنیوا، اس دور کی عالمی سیاست و سفارتکاری کا مرکز یعنی آج کے دور میں جو مقام اقوام متحدہ کو حاصل ہے، ایسا مقام و مرتبہ!!! یہ ہے وہ پاکستانیت جو پاکستان کا خالص و مخلص نظریاتی طبقہ ہی سمجھ سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران کے مشترکہ دشمنوں کے بیانیے کی پاکستان میں تکرار کرنے والوں کے جھوٹ کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ محمد علی جناح سال 1876ء میں اور علامہ اقبال 1877ء میں پیدا ہوئے تھے اور انکا انتقال علی الترتیب 1948ء اور 1938ء میں ہوچکا تھا جبکہ امام خمینی ان سے پچیس چھبیس سال بعد پیدا ہوئے اور انکی رحلت 1989ء میں ہوئی اور جب جناح صاحب اور اقبال برصغیر کی مشہور و معروف شخصیات تھیں، تب امام خمینی کو شاید ہی ایسی شہرت حاصل رہی ہو، جو علامہ اقبال کی رحلت کے سوا دو عشروں کے بعد اور جناح صاحب کی رحلت کے ڈیڑھ عشرے بعد ملی۔ تو کیا علامہ اقبال اور جناح بھی ایرانی ایجنٹ تھے؟؟ تو کیا جناح اور اقبال بھی امام خمینی کے مقلد تھے؟؟
 
ایران میں تو انقلاب 1979ء میں آیا، فلسطین میں تو اسرائیل نام کی نسل پرست ناجائز و جعلی ریاست 1948ء میں مسلط کر دی گئی، فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا، جو زندہ بچے انکو انکے آبائی وطن سے بے دخل کرکے دیگر ممالک میں پناہ گزینوں کی زندگی گذارنے پر مجبور کر دیا گیا۔ مسئلہ کشمیر بھی لگ بھگ تبھی سے چلا آرہا ہے۔ یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت اور جنگوں کی بھی ایک طویل تاریخ ہے، جو ایران کے انقلاب سے بھی بہت پہلے سے چلی آرہی ہے۔ سعودی عرب کو ہر اس ملک کے ساتھ مسئلہ رہا ہے، جس کا اسرائیل اور امریکا سے مسئلہ رہا ہے، جیسا کہ سابق سنی عرب قوم پرست مصری حکمران جمال عبدالناصر کے خلاف بھی سعودی عرب نے کم سازشیں نہیں کی تھیں۔ شام اور مصر نے اتحاد کرلیا تھا تو سعودی بادشاہ نے اردن کے شاہ کے ساتھ مل کر ایک کروڑ بیس لاکھ پونڈ کی خطیر رقم سے سیاستدانوں اور صحرائی دستوں کو ساتھ ملا کر شام میں بغاوت کروا کر مصر و شام پر مشتمل یونائٹڈ عرب ری پبلک کو توڑ دیا۔ مزے کی بات یہ ہے تب شام میں حافظ الاسد کی حکومت نہیں تھی، لیکن تب بھی سعودی عرب شام میں مداخلت کر رہا تھا!!! تفصیلات کے لئے جمال عبدالناصر کی سوانح لکھنے والے نامور مصری دانشور و صحافی محمد حسنین ھیکل کی تصنیف قاہرہ دستاویز کا مطالعہ کریں۔
 
عرب لیگ، او آئی سی اور جی سی سی، تین ایسے بین الاقوامی فورم ہیں، جہاں سعودی عرب یا تو بانی ہے یا شریک بانی اور طاقتور ترین قائدانہ کردار ادا کرنے والا ملک۔ ان تینوں فورمز کو یکجا کرکے ایک مشترکہ فورس بناکر سعودیہ و امارات فلسطین کو آزاد کروانے کی جنگ لڑسکتے تھے، لیکن انہوں نے یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اس کی جغرافیائی حدود کو پامال کرتے ہوئے زمین، فضاء و سمندر تینوں طرف سے بمباری اور حملوں پر مبنی جنگ کو چار سال سے جاری رکھا ہوا ہے۔ 1948ء سے 1978ء تک تو ایران میں انقلاب نہیں آیا تھا تو لبنان پر اسرائیل کیوں چڑھ دوڑا کرتا تھا اور اس پر قابض کیوں ہے، شام کے علاقے جولان پر قبضہ بھی ایران کے انقلاب سے پہلے ہوا تھا تو سعودی و اماراتی بلاک نے اس طرح جنگ کیوں نہ لڑی جیسی یمن میں لڑ رہے ہیں۔؟؟
 
  یہ تو ایرانی انقلاب سے پہلے بھی یہی کچھ کر رہے تھے اور انقلاب کے بعد بھی انکی روش تبدیل نہیں ہوئی۔ البتہ جب سے ایرانی انقلاب نے مردہ باد امریکا و مردہ باد اسرائیل کا نعرہ لگایا تو اس نعرے کی سزا یوں دی گئی کہ پاکستان میں کافر کافر کے نعرے لگانے والے دہشت گرد ٹولے کو پیدا کیا گیا۔ امریکی سی آئی اے اور سعودی ایجنڈا کے تحت جو مساجد و مدارس سوویت کمیونزم کے خلاف بنائے گئے تھے یا جن کی سرپرستی شروع کی گئی تھی، وہاں سے نفرتیں پھیلائی گئیں۔ ایرانی سفارتکاروں، فوجی کیڈٹس، انجینئرز اور شہریوں کو شہید کیا جاتا رہا جبکہ ایران میں کوئی گروپ سڑکوں پر فلاں کافر کا نعرہ لگانے نہیں نکلا اور نہ ہی پاکستان کے کسی سفارتکار یا فوجی کو شہید کرکے لاش پاکستان بھیجی گئی، تو ہم پاکستانی ایران کو دشمن کیسے مان لیں۔؟؟؟ 
 
 کافر کافر کہہ کر مارنے والوں نے تو پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو، آئی ایس آئی، دیگر سکیورٹی فورسز پر بھی خودکش حملے کئے، بزرگان دین کے مزارات میں بھی خودکش بمبار پھٹنے لگے اور سات سال تک 23 مارچ یوم پاکستان کی شاندار پریڈ اس لئے نہیں ہوسکی کہ دہشت گردی کا خطرہ تھا۔ واہگہ سرحد سے وزیرستان تک اور گلگت بلتستان، کرم ایجنسی خیبر پختونخوا سے لے کر سندھ بلوچستان تک آدم خور وحشی درندہ صفت دہشت گردوں نے ستر ہزار پاکستانیوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ستر ہزار خاندان کی اقتصادی موت بھی برپا کر دی۔ سوا سو بلین ڈالر کا مالی نقصان الگ۔ یہ نظریہ جس کی بنیاد پر یہ سانحات ہوئے، یہ نظریہ نہ تو پاکستانی قوم کا ہے، نہ ہی ایرانیوں کا۔۔ بلکہ مقدس ہستیوں کے مزارات و قبور کو مسمار اور زمین بوس کرنے والی سعودی سلطنت کا نظریہ ہے تو اب سعودی لابی جھوٹے الزامات لگا کر کس کو بے وقوف بنانا چاہتی ہے اور پاکستان ایران تعلقات کو خراب کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہے؟؟؟؟!!
خبر کا کوڈ : 790535
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

غصنفر حسین
Pakistan
بہت اچھا مضمون، کاش ھم صحیح تاریخ اپنی نئی نسل تک منتقل کرتے۔
منتخب