1
Sunday 28 Apr 2019 18:41

میڈیا، وہ 37 افراد اور جنگل کا قانون

میڈیا، وہ 37 افراد اور جنگل کا قانون
تحریر: جعفر بلوری

وحشت ناک تھا۔ عصر حجر سے تعلق رکھنے والی سعودی رژیم کی جانب سے ان 37 مظلوم سعودی شہریوں کا اجتماعی قتل بھی اور اس قتل عام پر سامنے آنے والا ردعمل بھی۔ سعودی عرب کا معترض اور حامی صحافی! جمال خاشگی قتل ہوا تو وسیع پیمانے پر ردعمل سامنے آیا۔ جمال خاشگی کے مسئلے میں دنیا بھر سے سعودی حکومت پر دباو اس قدر زیادہ تھا کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی برطرفی کی افواہیں پھیلنا شروع ہو گئی تھیں۔ امریکی کانگریس نے کم از کم ظاہری طور پر اپنا چہرہ بہتر بنانے کیلئے سعودی عرب کے خلاف اجلاس منعقد کئے۔ یورپی یونین بھی میدان میں کود پڑی اور حالات سے پورا فائدہ اٹھایا۔ یمن کی جنگ سے امریکہ کی دستبرداری کی باتیں ہونے لگیں اور بعض تجزیہ کار تو حتی یہ کہنا شروع ہو گئے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنی اس حماقت کے ذریعے اپنی ہی قبر کھود ڈالی ہے۔ خاشگی کیس اس قدر نمایاں ہوا کہ ٹیکسی اور بس میں بھی عوام اس بارے میں بحث کرتے نظر آئے۔ بعض بین الاقوامی ماہرین تو یہ بھی کہہ گئے کہ جمال خاشگی کا قتل آل سعود رژیم کو یمن کی جنگ سے بھی مہنگا پڑے گا۔
 
اگرچہ مغرب نے سعودی ڈالرز کی برکت اور سعودی حکومت کی جانب سے ایران سے مقابلہ کرنے کی صلاحیتیں ظاہر کرنے کے سبب جمال خاشگی کا ایشو پس پشت ڈال دیا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی حساسیت کم کر کے شہزادہ محمد بن سلمان کو عارضی طور پر راہ نجات مہیا کر دی لیکن حقائق منظرعام پر آنے اور عالمی دباو نے اپنا کام کر دکھایا اور محمد بن سلمان کی نمائشی اصلاحات کا بھانڈا پھوٹ کر اسے رسوا کر دیا۔ لیکن اس بار 37 شیعہ افراد کے اجتماعی قتل پر انتہائی کمزور ردعمل سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے ان کی مظلومیت چند گنا بڑھ گئی ہے۔ ان 37 افراد کی مظلومیت جاننے کیلئے یہی کافی ہے کہ عالمی سطح پر انتہائی گنے چنے ذرائع ابلاغ نے اسے کوریج دیتے ہوئے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے جس میں عراق، لبنان، بحرین، ایران وغیرہ شامل ہیں۔ 37 انسانوں کو اکیسویں صدی میں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کر دیا جاتا ہے اور ان کے بدن شہر میں لٹکا دیے جاتے ہیں اور انسانی حقوق کے دعویدار ادارے اور تنظیمیں چپ بیٹھی ہیں۔ ان میں سے 33 افراد شیعہ تھے جن میں دینی طالب علم سے لے کر اسکول کے طالب علم تک افراد شامل تھے۔
 
اس بارے میں سی این این کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان افراد میں سے 25 افراد کو 2016ء میں ایک نمائشی طرز پر منعقد ہونے والی عدالتی کاروائی میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ یہ عدالتی کاروائی تین دن سے زیادہ نہیں چلی تھی۔ ان میں سے 11 افراد پر ایران سے تعلق کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ 14 افراد پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام تھا اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے سعودی عرب کے شیعہ اکثریتی شہر العوامیہ میں احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی۔ جی ہاں، آپ نے صحیح سنا ہے، مغرب کے اسٹریٹجک اتحادی ملک سعودی عرب میں اس خاطر انسانوں کی گردن اڑا دی گئی کہ انہوں نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی! لیکن یہی سعودی عرب اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ایک اہم عہدے پر فائز ہوتا نظر آتا ہے! سی این این کے مطابق اسے ایسی دستاویزات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان افراد کو ٹارچر کے ذریعے ایسے کاغذ پر انگوٹھا لگانے پر مجبور کیا گیا تھا جس کے بارے میں انہیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ اس پر کیا لکھا ہوا ہے۔ اعترافات بھی خود ٹارچر کرنے والوں نے لکھے تھے۔ تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کے یہ اقدامات وحشیانہ، وحشت ناک اور عصر حجر والے ہیں۔ ہم اس وقت داعش کے خاتمے کی باتیں کر رہے ہیں جبکہ سعودی عرب میں انسانوں کو اس انداز میں قتل کیا جا رہا ہے جو داعش کے انداز جیسا ہے۔
 
کیا وجہ ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل پر ردعمل انتہائی وسیع سطح پر سامنے آتا ہے جبکہ ان 37 انسانوں کے قتل پر ہر جگہ خاموشی چھائی ہوئی ہے؟ کیا وجہ ہے کہ ایران میں ایک نوجوان لڑکی اپنی احمقانہ حرکتوں پر گرفتار ہونے بعد روتی ہے تو فوراً امریکی کانگریس ہنگامی اجلاس بلا لیتی ہے لیکن جب مصر کی عدالت ایک رات میں 3 ہزار افراد کو سزائے موت سناتی ہے تو ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی؟ کوئی بتا سکتا ہے انسانی حقوق کی اتنی زیادہ تنظیمیں اور ادارے کہاں چلے گئے ہیں؟ کیوں کوئی آل سعود رژیم کے مجرمانہ اقدامات پر ہنگامی اجلاس طلب نہیں کرتا؟ جواب واضح ہے۔ توجہ کریں: دنیا پر حکمفرما قانون، جنگل کا قانون ہے۔ ایسی دنیا میں جو بھی زیادہ طاقتور ہے یا نہیں، طاقتور نہیں لیکن اس کے پاس اندھی دولت ہے اور عالمی طاقتوں سے گٹھ جوڑ ہے تو وہ ہر قسم کا جرم مرتکب ہونے میں مکمل طور پر آزاد ہے۔ چاہے 37 افراد کے سر ہی کیوں نہ اڑا دے اور اس کے بعد ان کے بغیر سروں والے بدن صلیب پر چڑھا کر ان کی تصاویر بھی شائع کر دے۔ مغربی طاقتیں اپنی پٹھو حکومتوں کے ہر عمل کی پشت پناہی کیلئے تیار نظر آتے ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 791143
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب