4
Tuesday 30 Apr 2019 14:39

پاکستان اور خطے کی صورتحال

پاکستان اور خطے کی صورتحال
تحریر: عرفان علی

پاکستان کے حوالے سے دیکھا جائے تو جس خطے میں ہمارا ملک واقع ہے، یہاں کی صورتحال کی مجموعی طور پر بات کی جائے تو تاحال اسٹیٹس کو حاوی ہے۔ امریکی حکام کا افغانستان اور پاکستان آنا جانا اور ان کے بیانات کا جائزہ لیں، بھارتی حکومت کی روش اور اس کا بیانیہ دیکھیں یا پھر پاکستان کا ردعمل دیکھیں، تو نئے واقعات کے بعد بھی وہی پرانا منظر نامہ چھایا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان، ایران تعلقات کے حوالے سے اہم خبر یہ ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے آٹھ ماہ بعد آخرکار ایران کا دو روزہ سرکاری دورہ کر لیا ہے۔ بہت سے حوالوں سے یہ دورہ کامیاب رہا ہے اور خاص طور پر انصافین حکومت اور وزیراعظم عمران خان کا امیج بہتر بنانے میں اور پبلک ڈپلومیسی کے زاویئے سے زیادہ کامیاب رہا۔ اس دورے سے قبل جو غیر ملکی آمد و رفت یا شیوخ و شاہ کے دورے تھے، ان سے تو مکمل طور پر جھکائو امریکی بلاک کی طرف نظر آنے لگا تھا، اب اس میں کسی حد تک توازن کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، البتہ مسلسل عملی اقدامات کے بغیر یہ توازن ممکن نہیں ہے۔

پاکستان چین تعلقات کے حوالے سے اہم خبر یہ ہے کہ عمران خان نے چین کا دورہ کیا ہے، جہاں دونوں ملکوں کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ یعنی آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کی دستاویز پر دستخط ہوچکے ہیں۔ ایوان صنعت و تجارت اسلام آباد کے صدر احمد حسن مغل کے مطابق پچھلے مالی سال میں پاکستان اور چین کی دوطرفہ تجارت کا کل حجم تقریباً 11 بلین ڈالر تھا اور اس میں 7 بلین ڈالر سے کچھ زائد کا عدم توازن پاکستان کے نقصان میں تھا، یعنی پاکستان کی چین کو برآمدات 2 بلین ڈالر یعنی بے حد کم تھیں اور چین کی پاکستان کو برآمدات چار گنا سے بھی زیادہ تھیں۔ یعنی چین کے ساتھ دوطرفہ تجارت سے پاکستان کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوا اور پاکستان کی حیثیت چینی مصنوعات کے خریدار کی زیادہ ہے، بہ نسبت اس کے کہ پاکستان چین کی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی زیادہ سے زیادہ فروخت ممکن بناتا۔ اس طرح یہ گھاٹے کا سودا رہا ہے۔

چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے جا رہے ہیں۔ چینی سفیر کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان کو بلاسود 6 بلین ڈالر کا قرضہ دیا ہے، یہ ایک اچھی بات ہے، لیکن چین سے تعلقات کے حوالے سے بری خبر یہ ہے کہ نئی انصافین حکومت بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے جو نیا قرضہ لینے جا رہی ہے، اس حوالے سے امریکی حکومت کا آئی ایم ایف پر دبائو ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستان حکومت کو تین سالوں میں 6 بلین تا 8 بلین ڈالر قرضہ دینے کے لئے ایک شرط یہ بھی رکھی ہے کہ پاکستان چینی قرضوں کی واپسی کی قسطیں موخر کر دے۔ امریکی وزیر خارجہ پہلے ہی اشارہ کرچکے ہیں کہ آئی ایم ایف کے قرضے کو پاکستان چینی قرضوں کی قسطوں کی واپسی کے لئے استعال نہ کرے، اس کو یقینی بنایا جائے اور آئی ایم ایف سے قرضے کے لئے پاکستان حکومت کو چین سے لین دین یا چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تفصیلات بھی ان کو فراہم کرنا ہوں گی۔ یعنی سی پیک کے حوالے سے جو رازداریاں تھیں، وہ سب ختم ہوکر رہ جائیں گی۔ آئی ایم ایف پر اثر انداز امریکی حکومت ان تفصیلات سے آگاہ ہو جائے گی۔ یہ ایک مشکل مرحلہ ہے اور اسی لئے وزیر خزانہ اسد عمر نے فیس سیونگ کے لئے وزارت کی قربانی کو ترجیح دی ہے۔

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ جو اقتصادی امور کے ایسے ماہر ہیں، جو امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی اور ورلڈ بینک کے لئے خدمات انجام دینے کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں، جبکہ ورلڈ بینک کے نمائندہ برائے سعودی عرب اور اکیس ممالک کے لئے ورلڈ بینک کے سینیئر مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور سابق صدر آصف زرداری کی پیپلز پارٹی حکومت کے ادوار میں بھی وزیر رہ چکے ہیں، اور ان کی نئی تقرری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن داخل کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ عبدالحفیظ شیخ کی تقرری آئین کی خلاف ورزی پر مبنی ہے کیونکہ وہ مالی معاہدوں پر یا بین الاقوامی پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔ مدعی کا کہنا ہے کہ عبدالحفیظ شیخ غیر ملکی بینکوں سے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔

عوامی حلقے اس لئے پریشان ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی سامراج اپنے ایسے ہی ملازمین یا مشیروں کے ذریعے آزاد و خود مختار ممالک کی مالی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھاکر ان کے ذریعے مہنگائی کا وہ طوفان لاتے ہیں کہ عام آدمی کی قوت خرید کئی گنا کم ہوکر رہ جاتی ہے۔ ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی سامراج کے یہ مالی قرضے بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے تحفظ پر مبنی ناجائز شرائط منواکر دیئے جاتے ہیں، جس سے فوائد سے زیادہ طویل المدت نقصانات ہوتے ہیں۔ یعنی عوام و خواص دونوں ہی بے چین ہیں کہ اب مالی بحران نے اور کتنا سنگین ہونا ہے! زرداری، نواز کی قیادتوں میں حکومتوں نے آئی ایم ایف کی شرائط پر ٹال مٹول زیادہ کی تھی اور انہیں خبردار کرتے رہتے تھے کہ ایسا کر دیا تو عوام سڑکوں پر آکر حکومت ہی گرا دے گی اور عوامی ردعمل کے پیش نظر ہی آئی ایم ایف بھی سست رفتاری سے شرائط مانے جانے پر بہت زیادہ سخت ردعمل دکھانے سے گریزاں بھی رہتی آئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ ملک جتنا مجبور ہوگا، آئی ایم ایف کی سختی بھی اسی لحاظ سے ہوگی۔ یہ الگ بات کہ اس حکومت نے تو آتے کے ساتھ ہی ایسے اقدامات کئے ہیں، جن سے مہنگائی بڑھی ہے۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کے دورہ چین کے دوران چین کے بیلٹ روڈ منصوبے پر تین روزہ سربراہی کانفرنس بیجنگ میں شرکت اور خود اس سربراہی اجتماع کے حوالے سے چند موٹی موٹی باتوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ چین میں منعقدہ اس کانفرنس میں ترکی نے شرکت سے معذرت کرلی۔ بھارت نے مسلسل دوسری مرتبہ اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا۔ بھارتی اکنامک ٹائمز نے 27 اپریل کو خبر دی کہ چین نے 26 اپریل کو اس کانفرنس میں جو نقشہ لگایا تھا، اس میں پورا کشمیر اور ارونچل پردیش بھارت کا حصہ اور بھارت کو اس بیلٹ روڈ منصوبے کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ اسکو چین کی جانب سے بھارت کو منانے کا اشارہ سمجھا گیا تھا۔ البتہ اگلے روز وہ نقشہ ہٹا دیا گیا تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پچھلے سال نومبر میں جب چین کے سرکاری سی جی ٹی این ٹی وی چینل نے کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملے سے متعلق خبر نشر کی تھی تو اس میں پاکستان کا ایک ایسا نقشہ دکھایا گیا تھا، جس میں (آزاد) کشمیر غائب تھا۔ یاد رہے کہ چینی حکومت انتہائی محتاط رہتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو بتدریج اس طرح حالات کے مطابق موڑ لیتی ہے کہ جس بھارت کے ساتھ اس کی جنگ ہوچکی ہے، اسی کے ساتھ دوستی کا سال بھی منا لیتی ہے، اس سے دوطرفہ تجارت بھی کر لیتی ہے اور اسی کے ساتھ مختلف علاقائی و بین الاقوامی فورمز پر شراکت دار بھی بن جاتی ہے۔ مثال کے طو ر پر برکس اور شنگھائی! چین کی اس خارجہ پالیسی میں پاکستان کے لئے بھی ایک سبق پوشیدہ ہے۔

چین کے حالیہ دورے میں وزیراعظم عمران خان کی ملاقاتوں سے متعلق ایک خبر یہ آئی کہ وہاں بیلٹ روڈ منصوبے کی سائیڈ لائنز پر انکی تاجکستان اور ایتھوپیا کے سربراہان مملکت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس خبر نے پاکستانیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ جس فورم پر روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن موجود تھے، وہاں وزیراعظم پاکستان کی روسی صدر سے ملاقات ہونی چاہیئے تھی، آسیان ممالک یا اہم مسلمان ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں ہوتیں تو ایک اچھا تاثر بنتا۔ ان ملاقاتوں کا نہ ہونا، خاص طور پر روسی صدر سے ملاقات کا نہ ہونا، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے ماتحت پاکستانی وزارت خارجہ کی ناکامی و نالائقی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی سفارتی ناکامی و نالائقی تھی کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اس کا براہ راست ذمے دار قرار دیا جانا چاہیئے۔ جس وقت کیری لوگر بل کا چرچا تھا اور وہ صدر آصف زرداری کے تحت پیپلز پارٹی حکومت کے وزیر خارجہ تھے، تب کسی نے ذرائع ابلاغ میں یہ راز فاش کیا تھا کہ ان کا ایک بیٹا اسوقت کے با اثر امریکی سینیٹر جون کیری کے اسٹاف کا ایک رکن تھا۔

لگ ایسا رہا ہے کہ انصافین حکومت کے بڑے کھلاڑیوں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے بہت سارے حکومتی معاملات ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں۔ ان اختلافات اور اس کے اظہار کی وجہ سے نہ صرف داخلی سیاست بلکہ خارجہ سیاست بھی متاثر ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اورماڑہ واقعے پر ایک پریس کانفرنس کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گرد ایران سے آئے تھے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل جو موجودہ حکومت کے اتحادی ہیں، انہوں نے شاہ محمود کو پاکستان کی جغرافیائی معلومات میں اضافہ کرنے کی نصیحت کی، کیونکہ اورماڑہ سے ایران کی سرحد بہت ہی دور ہے۔ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے اختر مینگل نے یہ حقیقت بیان کی کہ اورماڑہ سے ایران کی سرحد ساڑھے چار سو کلومیٹر دور ہے اور وہاں تک پہنچنے سے پہلے پاکستان میں اس گذرگاہ پر پچاس سکیورٹی چوکیوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے طنز کیا کہ کیا دہشت گرد اسی ہیلی کاپٹر میں آئے تھے (جس سستے ترین ہیلی کاپٹر کا تذکرہ سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کیا تھا، جب عمران خان پہلی مرتبہ وزیراعظم ہائوس ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر پہنچے تھے)۔ ایک تو شاہ محمود کا یہ بیان اور اس کے بعد وہ وزیراعظم کے ہمراہ ایران کے دورے پر بھی نہیں گئے، پھر چین کے دورے میں اہم سربراہان مملکت سے ملاقاتوں کا نہ ہونا، اس طرح کس نوعیت کی سفارتکاری کی جا رہی ہے اور یہ کس کے مفاد میں کی جا رہی ہے، پاکستان کو اس سے کیا فائدہ ہو رہا ہے، یہ سب کچھ تو ان کی ساکھ کو مشکوک بنا رہا ہے۔

خطے کی صورتحال کے حوالے سے جو اہم فیکٹر ہے، وہ افغانستان ہے، جہاں امریکا خود موجود ہے۔ امریکی حکومت نے خاص طور پر زلمے خلیل زاد اور ایلس ویلس کو یہاں کے معاملات نمٹانے کے لئے مقرر کر رکھا ہے۔ ان دونوں کے دورے ہو رہے ہیں۔ امریکی حکومت کی بہت سی فرمائشیں پوری کی جاچکی ہیں۔ افغان طالبان کے اس عبدالغنی برادر کو بھی چھوڑا جاچکا ہے، جس کے بارے میں احمد رشید نے لکھا تھا کہ انہیں ایک اہم سکیورٹی ادارے کے افسر نے بتایا تھا کہ عبدالغنی برادر نے امریکی سی آئی اے سے تیس لاکھ ڈالر وصول کئے تھے۔ اس فرمائشی پروگرام کی تعمیل کے بعد بھی زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف بیانات دیئے ہیں۔ خاس طور پر چار اپریل 2019ء کو جب وہ افغانستان کے دورے پر تھے، تب زلمے خلیل زاد نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کی منفی سرگرمیوں کے شاہد ہیں اور پاکستان کو اپنی پالیسی بدلنا ہوگی۔ پاکستان کے دورے پر یا وقتا فوقتاً وہ اپنے بیانات میں نرمی لاتے رہتے ہیں، لیکن ایک طویل عرصے سے امریکا کی پالیسی برائے پاکستان یہی رہی ہے کہ وہ پاکستان کو پالیسی ڈکٹیٹ کرتے ہیں، نہ ماننے پر بلیک میل کرتے ہیں۔

البتہ فی الحال افغانستان میں داخلی ایشوز حل ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ طالبان ایک طرف، داعش دہشت گردی دوسری طرف اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ کے اہم بڑے منقسم ہیں۔ سابق صدر حامد کرزئی سمیت بہت سے بڑوں نے موجودہ صدر کے جرگے کو مسترد کر دیا ہے۔ یعنی افغانستان کے ہر ایشو کو پاکستان کے کھاتے میں نہیں ڈالا جاسکتا، وہاں کا اصل ایشو خود امریکا ہے۔ اسی طرح بھارت کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں بھی وہی پرانی روش برقرار ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بہت سارے ایشوز پر موقف بیان کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے بعض گروہ، افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ ان کی نظر میں ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایک اور پہلو بھی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور ایران کی مسلح افواج کے مابین بہترین تعلقات کی بات کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ سرحد پر پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ایران کے ساتھ سرحد کا موازنہ بھارت کے ساتھ سرحد سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح انہوں نے ایران کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ نہیں جوڑا ہے اور یوں ایک سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

لیکن امریکا اور اس کے اتحادی جی سی سی ممالک خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بھارت کے ساتھ بہترین تعلقات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا کا نان نیٹو اتحادی، دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست اور او آئی سی کا بانی رکن ہونے کے باوجود پاکستانی سرکار اپنے پرانے اتحادیوں اور دوست ممالک کو بھارت کے خلاف پاکستان کی حمایت پر آمادہ کرنے میں تاحال ناکام ہے اور جب تک بھارت کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکی حکومت کی موجودہ سطح کی حمایت حاصل رہے گی، بھارتی سرکار بھی اپنی پاکستان مخالف انتہاء پسندانہ و جنگجویانہ پالیسی کو تبدیل نہیں کرے گی اور جب چاہے گی، کوئی نہ کوئی ایشو پیدا کرکے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کرنے کی پرانی روش سے باز نہیں آئے گی۔ اس زاویئے سے دیکھیں تو ایک مکمل پیراڈائم شفٹ کے بغیر ریاست پاکستان کو درپیش مسائل میں کمی کے امکانات کم ہیں۔
خبر کا کوڈ : 791500
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب