1
Thursday 2 May 2019 17:50

لیبیا، دو مخالف عرب بلاکس کی پراکسی وار کا نیا میدان

لیبیا، دو مخالف عرب بلاکس کی پراکسی وار کا نیا میدان
تحریر: فاطمہ صالحی

اس وقت عرب دنیا میں دو بڑے مخالف بلاکس موجود ہیں۔ پہلا بلاک سعودی عرب کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین پر مشتمل ہے جبکہ دوسرے بلاک کی سربراہی قطر کے ہاتھ میں ہے اور اسے بعض عرب ممالک کے علاوہ ترکی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ دو مخالف عرب بلاکس مختلف ایشوز پر ایکدوسرے کے خلاف طاقت آزمائی میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی طرح دونوں بلاکس کی جانب سے سیاسی میدان میں اپنا زیادہ اثرورسوخ ظاہر کر کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ البتہ اس وقت ان بلاکس میں رساکشی کا مظاہرہ زیادہ تر افریقہ میں سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ان دو مخالف عرب بلاکس کے درمیان سیاسی کشمکش کا نیا میدان لیبیا ہے جہاں یہ سیاسی کشمکش مسلح پراکسی وار میں تبدیل ہو جانے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ البتہ الجزائر اور سوڈان کے سیاسی حالات سے بھی غافل نہیں ہونا چاہئے جہاں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سیاسی، فوجی اور مالی مداخلت کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ سے لیبیا کا سیاسی محاذ دوبارہ گرم ہو چکا ہے اور متعدد تجزیہ کار اسے سعودی عرب کی جانب سے خلیفہ حفتر کو دارالحکومت طرابلس پر لشکرکشی کیلئے سبز جھنڈی دکھائے جانے کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔
 
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے مغربی و علاقائی اتحادی خلیفہ حفتر کو لیبیا میں نیا معمر قذافی بنانا چاہتے ہیں۔ البتہ خود خلیفہ حفتر بھی شمال اور شمال مغربی افریقہ میں واقع پانچ ممالک پر قبضے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ لیبیبا کی قانونی حکومت کے وزیر داخلہ فتحی باشاغا نے خبردار کیا ہے کہ خلیفہ حفتر کے جارحانہ عزائم صرف لبیا تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنا تسلط پورے شمالی افریقہ خطے میں قائم کرنے کے درپے ہے۔ لیبیا اسٹریٹجک اعتبار سے براعظم افریقہ کا ایک اہم ملک شمار ہوتا ہے اور سعودی عرب اور قطر دونوں اس ملک میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سابق آرمی کمانڈر خلیفہ حفتر کی حمایت کرنے میں مصروف ہیں جبکہ دوسری طرف قطر فائز السراج کی سربراہی میں اقوام متحدہ کی رکن اور لیبیا کی قانونی حکومت کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ حال ہی میں قطر کے وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا: "سیاسی منافقت اور دوغلی پالیسیوں کا بوجھ عرب دنیا پر بڑھتا جا رہا ہے اور یہ امر دہشت گردی کے فروغ کا باعث بنا ہے۔"
 
قطر کے وزیر خارجہ مزید لکھتے ہیں: "بعض ممالک دہشت گردی سے مقابلے کا دعوی کرتے ہیں جبکہ عرب اقوام کے خلاف اپنے اہداف کے حصول کیلئے دہشت گردی کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال بھی کرتے ہیں۔ ہم لیبیا کے شہر طرابلس پر وحشیانہ بمباری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ملک میں انتشار پھیلانے اور انفرااسٹرکچر تباہ کرنے کی غرض سے عام شہریوں کو نشانہ بنانا ایک جنگی جرم ہے جس کی ذمہ داری جارحانہ اقدام کرنے والی قوتوں پر عائد ہوتی ہے۔" اس سے پہلے بھی قطری حکام خاص طور پر قطر کے وزیر خارجہ نے خلیفہ حفتر کی جانب سے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر لشکرکشی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر خلیفہ حفتر کا ردعمل بھی سامنے آیا تھا۔ سعودی عرب نے لیبیا کے مسئلے میں اپنے پرانے اتحادی متحدہ عرب امارات کو بھی ملوث کر لیا ہے اور برطانوی اخبار "گارجین" کے مطابق متحدہ عرب امارات کے بغیر پائلٹ والے طیارے طرابلس پر بمباری میں شریک ہو چکے ہیں۔ متحدہ عرب امارات خلیفہ حفتر کے حق میں پوری طرح میدان میں اتر چکا ہے۔ دوسری طرف مغربی ممالک خاص طور پر فرانس بھی خلیفہ حفتر کی حمایت کرنے میں مصروف ہے۔ اسی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خلیفہ حفتر سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے اسے اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔
 
امریکہ، مغربی طاقتوں، سعودی عرب اور اس کے علاقائی اتحادیوں کی جانب سے خلیفہ حفتر کی بھرپور سیاسی، فوجی اور مالی مدد کے باوجود زمینی حقائق کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ حفتر کی فورسز کو کوئی خاطرخواہ کامیابی نصیب نہیں ہو سکی۔ خلیفہ حفتر کی فوجیں شدت سے طرابلس شہر کو ہوائی حملوں کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں جبکہ اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ شہر پر قبضہ کرنے کیلئے کسی حربے سے دریغ نہیں کرے گا۔ خلیفہ حفتر کی جانب سے فوجی طریقہ کار اپنانے کے بعد لیبیا کا بحران پرامن طریقے سے حل کرنے کی تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔ مشرق وسطی خطے کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت قطر پوری طرح سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے خلاف میدان میں اتر چکا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ سعودی عرب خادم حرمین شریفین کی آڑ میں مزید عرب دنیا کی سربراہی نہیں کر سکتا اور ضروری نہیں تمام عرب ممالک سعودی عرب کی آمرانہ پالیسیوں کے مقابلے میں سرتسلیم خم کریں۔
 
خبر کا کوڈ : 791830
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش