0
Saturday 4 May 2019 02:09

گلگت بلتستان میں قوم پرستوں کا بیانیہ اور ریاست پاکستان کا موقف

گلگت بلتستان میں قوم پرستوں کا بیانیہ اور ریاست پاکستان کا موقف
تحریر: شیر علی انجم

معزز قارئین تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر مشتمل ملک ہوا کرتا تھا، ہر ریاست کی الگ جاگیر تھی اور ہر جاگیر کے الگ الگ حکمران تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اس بات کا ذکر بھی موجود ہے کہ یہ خطہ زمانہ قدیم میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر قبضے کیلئے جنگوں کا مزکر ہوا کرتا تھا۔ لیکن اگر ہم 1840ء کے بعد کی بات کریں تو اس خطے کی کئی ریاستوں پر سکھوں نے قبضہ کیا اور 1846ء میں معاہدہ امرتسر کے نیتجے میں گلگت بلتستان مکمل طور پر کشمیر کے مہاراجہ گلاب سنگھ کے قبضے میں چلا گیا، جسے آج قانونی حیثیت حاصل ہے۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے 1840ء اور 1947ء تک کی تاریخ بھی بہت تلخ رہی ہے، کیونکہ یہاں کے عوام اور ریاستوں کے بادشاہ رنجیت سنگھ اور گلاب سنگھ کے درمیان طے پانے والے 75 ہزار نانک شاہی سکہ رائج الوقت کے تحت پانے والے بیع نامے کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے کے حکمرانوں نے گلاب سنگھ اور ہری سنگھ سے بغاوت کیلئے بھی ہر دور میں کوشش کی، لیکن کامیابی نہیں ملی۔

آگے چل کر تقسیم ہندوستان کے بعد جو صورت حال پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں ریاست جموں و کشمیر تبہتا کے اندر بھی ایک شورش پیدا ہوگئی، کیونکہ مہاراجہ کو یہ شک تھا کہ میرا مُلک چونکہ مسلمان اکثریتی ریاست ہے، لہذا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں کے مسلمان بغاوت کریں، یہی وجہ تھی کہ جب متحدہ ہندوستان کی تمام ریاستوں کو پاکستان یا ہندوستان میں شامل ہونے کا اختیار ملا تو مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاست جموں کشمیر، تبتہا کو خود مختار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اُنہیں کامیابی نہیں ملی اور 22 اکتوبر 1947ء کو پاکستان کے قبائلی لشکر نے موجودہ آزاد کشمیر پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں مہاراجہ ہری سنگھ نے موقع پاتے ہی 24 اکتوبر 1947ء کو قبائلی حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے لوٹ مار اور قتل و غارت کا الزام لگا کر بھارتی حکومت کو کشمیر میں اپنی فوج داخل کرنے کی دعوت دیدی اور ساتھ ہی اس نے پوری ریاست کی عوامی رائے لئے بغیر ہندوستان کے ساتھ الحاق کر دیا، جسے آج بھی ہندوستان ہر قسم کے فورم پر قانونی سمجھتا ہے اور پوری ریاست جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور لداخ کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔ اس درمیان گلگت میں جو فوجی بغاوت ہوئی، اُس کے بارے میں کم ہی لوگ آگاہ ہیں، کیونکہ گلگت بلتستان کی تاریخ پر آج بھی کہیں کسی فورم پر ڈبیٹ نہیں ہوتی۔

محترم قارئین، تاریخی کتابوں میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ جب مہاراجہ نے ہندوستان سے الحاق کا اعلان کیا تو ہی کے مہاراجہ کی ہی فوج میں شامل مسلمان افسران کو پہلے ہی اس بات کا شک تھا کہ تقسیم ہندوستان کی صورت میں مہاراجہ کا جھکاو مذہبی طور پر ہندوستان کی طرف ہی ہوگا، ایسے ہی خدشات کے پیش نظر اُنہوں نے خفیہ طور پر ایک انقلابی کونسل تشکیل دی ہوئی تھی، جس کا مقصد ضرورت پڑنے پر مہاراجہ کا تختہ اُلٹنا تھا، کیونکہ مہاراجہ کی جاگیر میں موجود مسلمان کسی بھی حوالے سے مہاراجہ کی طرز حکومت سے خوش نہیں تھے، مذہبی تفرقے نے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے اندر بغاوت کی سوچ مسلسل اُبھر رہی تھی، کیونکہ مہاراجہ مذہبی طور پر راجپوت ہندو تھا۔

یہی وجہ ہے کہ جب مہاراجہ نے پوری ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کیا تو جہاں چار مربع میل پر مشتمل حصے کو باقاعدہ طور پر قبائلوں نے آزاد کرکے پاکستان کی جولی میں ڈال دیا، وہیں گلگت اور لداخ جو ریاست کی سب سے بڑی اکائی تھی، کو بھی مکمل طور پر ہندوستان کے قبضے میں جانے کا خطرہ تھا۔ اس خطرے کے پیش نظر کرنل مرزا حسن خان اور اُن کی ٹیم نے مہاراجہ سے بغاوت کرکے گلگت میں موجود گلگت اور لداخ کے گورنر مہاراجہ ہری سنگھ کے بھانجے برہگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کرکے گلگت سے مہاراجہ کا جھنڈا سرنگوں کرکے آزاد ریاست جمہوریہ گلگت کا جھنڈا لہرایا، جسے دہائیوں بعد پہلی بار گذشتہ سال یوم آزادی گلگت بلتستان کے موقع پر عوام کو آزادی کے ساتھ دوبارہ سے لہرانے کا موقع ملا، ورنہ اس سے پہلے اس جھنڈے کے بارے میں بات کرنے والوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

محترم قارئین یہاں یہ بات بھی معلوم ہونا ضروری ہے، کیونکہ بہت سے لوگ آج بھی اس حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا گلگت اور بلتستان کی آزادی کے دن الگ ہیں؟ کیونکہ گلگت میں ہر سال یکم نومبر کو اور بلتستان میں ہر سال چودہ اگست کو یوم آزادی بلتستان مناتے ہیں۔ لہذا عرض یہ ہے کہ یوم آزادی بلتستان اس لئے مناتے ہیں، کیونکہ اُس دن بلتستان ریجن سے ڈوگرہ فوج کا مکمل طور پر انخلاء ہوا، کھرپوچو (جو بلتستان کی قدیم تاریخی عمارت ہے) پر پاکستان کا پرچم لہرایا تھا۔ یہ الگ غم ہے کہ لداخ بلتستان سے کٹ کر ہندوستان کے قبضے میں چلا گیا۔ عرض یہ ہے کہ گلگت اور بلتستان الگ خطہ نہیں بلکہ ماضی بعید، قریب اور حال میں ایک اکائی ہے، لیکن جو لوگ معاہدہ 1935ء کی بنیاد پر گلگت اور لداخ(بلتستان) کو الگ سمجھتے ہیں، اُنہوں نے یقیناً تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا یا صرف عوام کو ذہنی طور پر منتشر کرنے کیلئے اس طرح کی باتیں کرتے ہونگے۔

تاریخ کی کتابوں میں شفاف انداز میں لکھا ہوا ہے کہ کرنل بیکن گلگت ایجنسی میں برطانیہ کا آخری پولٹیکل ایجنٹ تھا، اس سے پہلے بلتستان لداخ وزارت کا حصہ تھا، جو براہ راست کشمیر دربار کے زیر کنٹرول تھا۔ لیکن معاہدہ 1935ء کے آرٹیکل 1 کے تحت گورنر جنرل آف انڈیا نے گلگت ایجنسی میں سول اور ملٹری ایڈمنسٹریشن قائم کرنے کا اختیار حاصل کیا، لیکن ساتھ میں یہ بھی لکھا گیا کہ یہ علاقہ بدستور ریاست جموں و کشمیر کا حصہ رہے گا اور مہاراجہ جموں و کشمیر کی ریاست کا جھنڈا بھی لہراتا رہے گا۔ اُس معاہدے کے آرٹیکل 5 کے تحت یہ ایگرمنٹ 60 سال تک نافذالعمل تھا، جبکہ آرٹیکل 4 کے تحت مائننگ کے تمام اختیارات مہاراجہ کشمیر کو ہی حاصل تھے۔ یوں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یکم نومبر 1947ء کی جنگ آزادی گلگت بلتستان سے قبل جی بی کی تمام چھوٹی چھوٹی ریاستیں مہاراجہ ہری سنگھ کو جوابدہ اور ریاست جموں و کشمیر تبہتاہ کا حصہ تھیں۔

لیکن یکم اگست 1947ء کو گلگت ایجنسی کے آخری پولٹیکل ایجنٹ کرنل بیکن نے گلگت ایجنسی وقت سے پہلے مہاراجہ کشمیر کو واپس کر دی۔ اسکے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے برگیڈییر گھنسارا سنگھ کو بطور گورنر گلگت (جسے دوبارہ وزارت لداخ میں شامل کر دیا اور بلتستان پہلے ہی وزارت لداخ کا ہی حصہ تھا) مقرر کرکے نیا نام شمالی علاقہ جات سرحدی صوبہ رکھ دیا گیا اور یہی نام یو این سی آئی پی میں استعمال کیا گیا۔ اس صوبے کو گلگت بلتستان لداخ صوبہ بھی کہتے رہے ہیں اور اس صوبے کا ٹوٹل رقبہ 63500 مربع میل ہے اور ریاست جموں و کشمیر کا 75 فیصد رقبہ گلگت بلتستان لداخ کہلاتا ہے، مگر لداخ آج بھارت کے زیرانتظام ہے، جو گلگت بلتستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

محترم قارئین، انقلاب گلگت کے بعد کی صورت حال کا اگر جائزہ لیں تو بھی بہت تلخ ہے، کیونکہ نامکمل آذادی نے جہاں ریاست کی بنیاد رکھی، وہیں نومولود ریاست اپنا وقار اور حیثیت برقرار رکھنے میں بُری طرح ناکام ہوئی اور نہ ہی ٹیبل ٹاک کے ذریعے پاکستان میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ بس انگریز سازشی عناصر نے راجاوں اور میروں کو مہرے کے طور پر استعمال کرکے گھیر کر ایسا ماحول پیدا کیا کہ ریاستی صدر نے سول سپلائی کے انچارج کی سرکاری نوکری کو قبول کرتے ہوئے ایک رابطہ افسر سردار عالم خان کے سامنے خود کو سرینڈر کر دیا اور اُنہوں نے انقلاب کے بانیوں سے بغیر کسی مشاورت کے سرحدی قانون ایف سی آر نافذ کر دیا۔

قارئین، اگر ہم انقلاب گلگت کی روشنی میں اس حوالے سے ذکر کریں تو تاریخ کی کتابوں میں یہ بات بھی درج ہے کہ انقلاب گلگت کے بعد عبوری کونسل کی تشکیل کے وقت میجر براون میر آف ہنزہ میر جمال کو ریاست گلگت کا صدر بنانے کے خواہاں تھے، لیکن انقلاب گلگت کے بانی کرنل مرزا حسن خان نے یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ گلگت کے میروں اور راجاوں نے اب سے صرف تین مہینہ پہلے مہاراجہ کشمیر سے عہدے وفا کا حلف لیا ہے، لہذا مہاراجہ سے بغاوت کے نتیجے میں قائم ریاست کا صدر مہاراجہ کشمیر کا وفادار منتخب ہونا ممکن نہیں۔ یہی وجہ سے کہ شاہ رئیس خان کو سولہ دن پر مبنی ملک کا صدر بننے کا اعزاز ملا۔

اب اگر ہم ناکام انقلاب کے بعد کی صورت حال کا ذکر کریں، اس تمام صورت حال کو دیکھ کر ہندوستان پریشان ہوا، کیونکہ مہاراجہ نے اُس سے الحاق کیا تھا اور گلگت لداخ کے عوام کے ڈوگروں کے خلاف سو سالہ غصے نے پھر سے جوش مارنا شروع کر دیا تھا، لہذا اُنہیں خدشہ تھا کہ کہیں گلگت لداخ کے باغی پوری ریاست پر قابض نہ ہو جائیں، یہی وجہ ہے کہ بعد جواہر لال نہرو یکم جنوری 1948ء کو اقوام متحدہ چلا گیا، جہاں اس مسئلے کے حل کیلئے ایک کمیشن بنا، جسے یو این سی آئی پی کمیشن کہا جاتا ہے۔ اُس کمیشن میں پاکستان، ہندوستان اور اقوام متحدہ فریق بنے اور طے پایا کہ ریاست جموں و کشمیر پر کسی قسم کی فیصلہ سازی کیلئے تینوں فریقین کا ایک ٹیبل پر بیٹھ کر فیصلہ کرنا ضروری ہے اور تینوں فریقین کی موجودگی کے بغیر کسی بھی داخلی معاہدے کی قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔

لیکن بدقسمتی سے کمیشن نے گلگت کی آزادی کو قبول کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کیلئے رائے شماری ہونے تک گلگت اور مظفرآباد میں لوکل اتھارٹی کے قیام کا حکم دیا، مگر مظفر آباد میں تو اقوام متحدہ کے حکم پر عملدرآمد ہوگیا، لیکن گلگت بلتستان کے حوالے سے پاسداری نہ ہوسکی اور ٹھیک ایک سال بعد اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کی موجودگی کے باوجود گلگت بلتستان کے عوام سے کسی قسم کی رائے لئے بغیر پاکستان اور کشمیری قیادت نے ایک معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کا نظام و انصرام وفاق پاکستان کے سُپرد کر دیا، جسے یہاں کے عوام آج بھی مسترد کرتے ہیں۔

محترم قارئین، اب اگر ان تمام تاریخی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کی خواہش ریاست پاکستان کا اس حوالے سے موقف اور مسءلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کا بیانیہ بیان کریں تو ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کے قوم پرست اور ریاست پاکستان ایک ہی پیج پر کھڑے ہیں۔ یہاں یہ بات بتانا ضروری ہے کہ جس طرح پاکستان کی آئینی حدود میں جو پارٹیاں قوم پرستی کا نعرہ لگاتی ہیں، اُنکے اور گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کی فکر اور نظریئے میں واضح فرق نظر آتا ہے، کیونکہ گلگت بلتستان میں کوئی ایسا قوم پرست رہنما یا تنظیم نہیں، جو گلگت بلتستان کو پاکستان سے آزاد کرانا چاہتا ہو، بلکہ اُنکا نعرہ ہی یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کا پاکستان میں شمولیت کا مطالبہ قابل عمل نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مقامی اسمبلی سے کئی بار متفقہ قرادادوں اور عوامی خواہشات کے باوجود بین الاقوامی قوانین کی وجہ سے گلگت بلتستان کو صوبہ بناو کا نعرہ بے وقت کی اذان ہے۔ بالکل یہی ریاست پاکستان کا بھی موقف ہے، جسے ایک بار نہیں بلکہ بار بار دفتر خارجہ کی طرف سے کئی اہم مواقع پر دہرایا گیا ہے کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر سے مربوط اور ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے اور جب تک اس خطے میں رائے شماری نہیں ہوتی، تب تک اس خطے کے عوام کی خواہشات اور پاکستان کی اولین سیاسی، دفاعی، عسکری اور معاشی ضرورت کے باوجود گلگت بلتستان صوبہ یا کسی صوبے میں شمولیت ممکن نہیں۔ یہی نظریہ گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کا بھی ہے، وہ بھی خطے کے عوام کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں ریاست کو بلیک میل کرنے کے بجائے اس حوالے سے موجود پیچیدگیوں اور بین الاقوامی مسائل کو سمجھیں اور مسئلہ کشمیر کی حل کیلئے دعا کریں۔

لیکن گلگت بلتستان کے قوم پرستوں کا ایک مطالبہ ذرا مختلف ہے، جو اب گلگت بلتستان اسمبلی کی بھی آواز بن چُکا ہے اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے بھی گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے گذشتہ سال کے فیصلے کی روشنی میں متنازعہ بنیاد پر حقوق دینے اور آزاد کشمیر کی طرح گلگت بلتستان سے بھی وفاقی اداروں کی خدمات واپس لینے کا مطالبہ متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ سیاسی محرومیاں ختم کرنے کیلئے بین الاقوامی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل تک کیلئے 13 اگست 1948ء کے اقوام متحدہ کے قوانین کی روشنی میں داخلی خود مختاری دیدی جائے، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سفارت کاری کے ذریعے کوششیں تیز کی جائیں اور رائے شماری کیلئے گراونڈ تیار کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
بغاوت گلگت: میجر براون
شمشیر سے زنجیر تک: کرنل مرزا حسن خان
جنگ آزادی گلگت بلتستان کشمیر: مولانا حق نواز
یو این سی آئی پی رزولیشن 1948
تاریخ گلگت: ڈاکٹر امر سنگھ چوہان
خبر کا کوڈ : 792108
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب