0
Monday 6 May 2019 08:22

جان بولٹن اور خطے پر جنگ کے سائے

جان بولٹن اور خطے پر جنگ کے سائے
اداریہ
امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن ایران دشمنی کے حوالے سے معروف ہیں، ایران کے خلاف جنگ کا آپشن استعمال کرنے کے حامی امریکی حکام میں ان کا نام سرفہرست ہے۔ جان بولٹن کے حوالے سے میڈیا کی یہ متفقہ رائے ہے کہ ان کی زبان سے ایران کے بارے میں کسی کلمہ خیر کی توقع ایک ناممکن امر ہے۔ جان بولٹن نے آج مغربی ایشیاء میں ابراہم لنکن نامی جنگی بحری بیڑہ بھیجتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران سے جنگ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بحری بیٹرے کی روانگی کا مقصد بعض بڑھتی ہوئی تشویشیوں اور خطرات کا انسداد ہے۔ بولٹن نے اپنے اشتعال انگیز بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ایران سے جنگ کی لیے کوشاں نہیں ہے، لیکن ہر وہ حملہ چاہے وہ ایرانی اتحادیوں یا سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی طرف سے انجام پایا، اس کے لیے امریکہ مکمل تیار ہے۔

امریکہ کے معروف تجزیہ نگار اور مشرق وسطیٰ سے متعلق ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے امریکی ماہر ایلن گلبڈن برگ نے اس اقدام کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اس بات پر تاکید کی ہے کہ اس بحری جنگی بیڑے کی روانگی ایرانیوں پر رعب و دبدبہ قائم کرنا ہے۔ امریکی اقدام سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کے اس طرح کے متوقع اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کے ورغلانے کیلئے جو اقدامات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے ہو رہے ہیں، وہ نظرانداز نہیں کیے جا سکتے اور علاقہ میں کسی طرح کا تنازعہ شروع ہونے سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے بیان میں کہہ دیا ہے کہ تنازعے کی صورت میں صرف ایران کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس آگ کے شعلوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

جنگ، دھمکیوں اور رعب و دبدبہ پر مشتمل امریکی بیانات کے تناظر میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے قدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے بڑے اطمینان سے کہا ہے کہ امریکہ ایران سے موجودہ حالات میں کسی ایک نقطہ پر بھی لڑائی شروع نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ یہ لڑائی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے، جس سے امریکہ کے مفادات خطرے سے دوچار ہوں گے۔ جنرل قاسم سلیمانی کا کہنا تھا کہ یہ میرا تبصرہ نہیں بلکہ موصول ہونے والی خبریں اور رپورٹس اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں۔ امریکہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر آج تک ایران کے خلاف ہر طرح کا حربہ استعمال کرچکا ہے۔ بالواسط اور بلاواسطہ جنگ بھی ایران کا کچھ بگاڑ نہیں سکی۔ آج امریکہ پہلے سے کمزور اور ایران پہلے سے کئی گنا طاقتور ہے۔ امریکہ حملے کی غلطی کا ارتکاب کرکے کسی نئی دلدل میں پھنسنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
خبر کا کوڈ : 792507
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے