0
Wednesday 8 May 2019 21:52

اسلامو فوبیا اور اسکا تدارک

اسلامو فوبیا اور اسکا تدارک
تحریر: جاوید عباس رضوی

اسلامو فوبیا (اسلام ہراسی) یعنی مسلمانوں کی شبیہ بگاڑ کر پیش کرنا، انہیں ڈراونا بناکر پیش کرنا یا اسلام یا مسلمانوں کا خوف دلانا۔ بظاہر اس اصطلاح کا آغاز 1976ء سے ہوا اور 1994ء سے اس اصطلاح کی تعریفیں اور وضاحتیں ہونے لگیں۔ اسلامو فوبیا کے پیچھے بڑی طاقتوں جیسے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کارفرما رہی ہیں۔ انفرادی حیثیت کے علاوہ اجتماعی طریقے سے بھی اسلام ہراسی کا کام انجام دیا گیا۔ ریاستوں کی ریاستیں، بڑی بڑی مملکتیں اور ان کا بڑا سرمایہ اسلامو فوبیا پر صرف کیا گیا اور کیا جا رہا ہے۔ بڑی طاقتوں نے اس مہم کے لئے اپنے حریفوں سے اتحاد بھی قائم کیا۔ جب ہم اسلام ہراسی کے اہداف پر غور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے، غیر مسلموں کی اسلام کی جانب رغبت کی روک تھام، اسلامی تہذیب کی افادیت و عظمت کو کمزور کرنا اور اسلام ناب محمدی (ص) کی ہمہ جہت فوقیت کو توڑنا ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لئے یہ سازش رچائی گئی۔ 11 ستمبر 2011ء کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ، داعش کا وجود، عالم اسلام میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی قتل و غارتگری اور نیوزی لینڈ حملہ اسلامو فوبیا کے مراحل ہیں۔

اب یہ جاننا ضروری ہے کہ اسلامو فوبیا کا تدارک اور مقابلہ کیسے کیا جائے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ اسلامو فوبیا کے لئے تمام باطل قوتیں متحد ہوئی ہیں تو اسکا مقابلہ بھی تنہا انفرادی طور پر نہیں کیا جاسکتا بلکہ اجتماعی طور پر یعنی متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ تمام مسلمانوں کو متحد ہوکر مشترکہ لائحہ عمل اپنا کر اسلامو فوبیا کے خلاف قیام کرنا ہوگا۔ اسی لئے ملت اسلامیہ کے دردمند افراد کا مسلمانوں سے بارہا مطالبہ رہا ہے کہ وہ اپنے مشترکہ دشمن کے مقابلے کے لئے متحد ہو جائیں۔ اتحاد اسلامی کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کو قرآن کریم کی تعلیمات کی طرف رجوع کرنا چاہیئے۔ ساتھ ہی ساتھ تعلیمات قرآن مجید کی مکمل پیروی سے ہی اسلامو فوبیا کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ قرآن ہی ہمیں اپنے دشمن کو پہچاننے کے رموز بتائے گا۔ یہ جو مقدس ایام چل رہے ہیں چونکہ یہ نزول قرآن کریم کا مہینہ ہے، اس مقدس مہینہ کا مسلمانوں سے تقاضا ہے کہ قرآن مجید کی طرف رجوع کیا جائے اور تعلیمات قرآن پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوا جائے۔

سیرت رسول اکرم (ص) کی اتباع بھی ہمیں اسلام ہراسی کی وباء سے نجات دلا سکتی ہے۔ جب تمام مسلمان سیرت النبی (ص) کی پیروی کریں تو ہم دنیا پر یہ ثابت کرسکیں گے کہ دین اسلام دین رحمت ہے، دین اسلام عین انسانیت ہے۔ اسلام دین الفت و اخوت ہے۔ اسلام ہی دین فطرت و قدرت ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے۔ اسلام انسان کی معراج کا دین ہے۔ اسلام تمام شدت پسندی و دہشتگردی سے پاک دین ہے۔ سیرت النبی (ص) کی پیروی ہی ہمیں حقیقی دین سے روشناس کرائے گی۔ اس کے علاوہ ہمیں استقامت کے ساتھ ساتھ امید رکھنی ہوگی۔ مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر منفی پروپیگنڈا یعنی اسلامو فوبیا کے خلاف مہم چھیڑنی ہے تو استقامت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تھک کر ہار تسلیم کرنا کامیابی نہیں۔ امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا ہے۔ علامہ اقبال (رہ) کی شاعری امید سے بھری پڑی ہے۔ علامہ کی شاعری ہمیں امید دلاتی ہے۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای رہبرِ امید ہیں۔ اس ملت کو رہبر معظم کی حوصلہ افزائی اور امیدآوری نہیں ہوتی تو یہ ملت کب کی ناامیدی کی شکار ہوکر تباہ و برباد ہوچکی ہوتی۔

لوگوں کو حقیقتِ دین کے بارے میں آگہی دلانا بھی اہم کام ہے۔ ہمیں سیمینارز، کانفرنسز اور مختلف پروگراموں کے ذریعے امت مسلمہ کو اسلامو فوبیا کے مقابلے میں کھڑا ہونے کی ترغیب دینی ہوگی۔ ہمارے دشمن نے اپنے ناپاک سازشوں کی مہم کو گھر گھر پہنچایا ہے۔ ہمیں بھی اس کا تدارک کرنے کے لئے Door to Door مہم کا آغاز کرنا ہوگا۔ ہم اپنے پروگراموں کے ذریعے بتائیں کہ اسلام کا شدت پسندی، منافرت او قتل و غارتگری سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے۔ اخلاق حسنہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ ہم اسلام ہراسی کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ جب ہم اپنے اخلاق حسنہ سے کسی کو اسلام کی جانب دعوت دیں گے اور وہ ہمارے اخلاق سے متاثر ہو جائے پھر دشمن چاہے کتنا ہی اسے ورغلاتا رہے، کام نہیں آئے گا۔ ہمیں عملی طور پر بتانا ہوگا کہ اسلام کس قدر حسین ہے۔ اسلام کا پیغام کس قدر امن و آشتی سے بھرا پیغام ہے۔ ہمیں اپنے اخلاق سے بتانا ہوگا کہ اسلامی تہذیب سے بڑھ کر کوئی کامل تہذیب نہیں ہے۔

خدا نخواستہ اگر ہم اخلاقیات سے دور ہوتے گئے تو ہم دشمن کے لئے اس کی اسلامو فوبیا کی مہم میں مددگار ثابت ہونگے۔ دین داری سے زیادہ دین شناسی کی اہمیت ہے۔ رہبر معظم سید علی خامنہ ای کی نظر میں دین شناسی کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ دیندار کبھی دشمن کے دام فریب میں آجاتا ہے، لیکن دین شناس بروقت دشمن کی سازشوں سے آگاہ ہو جاتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ جب داعش کو وجود میں لایا گیا تو بہت سے دینداروں نے انہیں خطوط بھیج کر مبارکباد پیش کی اور ابوبکر بغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا، بعد میں پشیمان بھی ہوئے، لیکن دین شناس کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ ابھی سازش دشمن کی کوکھ میں ہوتی ہے، دین شناس اسے پہچان لیتا ہے اور اس کا مقابلے کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔ دین شناس ہی دشمن شناس ہوتا ہے۔ دین شناس کی نگاہ بہت ہی عمیق ہوتی ہے۔ مومن کی نگاہ اسے کہتے ہیں، جس میں آفاق گم ہو جائے اور کافر کی نگاہ آفاق میں گم ہو جاتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 792767
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب