0
Tuesday 7 May 2019 11:02

بھارتی لوک سبھا کے انتخابات پر ایک نظر

بھارتی لوک سبھا کے انتخابات پر ایک نظر
تحریر: سید اسد عباس
 
ہندوستان کی 17ویں لوک سبھا یعنی پارلیمنٹ کے انتخابات گیارہ اپریل سے منعقد ہو رہے ہیں۔ یہ انتخابات سات مراحل میں 19 مئی تک منعقد ہوں گے۔ تقریباً نو سو ملین اہل ووٹر ان انتخابات میں اپنے قومی نمائندوں کو چنیں گے۔ ووٹوں کی گنتی 23 مئی کو ہوگی اور اسی روز انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس وقت تک انتخابات کے پانچ مراحل طے پا چکے ہیں، چھٹے اور ساتویں مرحلے میں کل ملا کر 118 نشستوں پر انتخابات ہونے باقی ہیں۔ بھارت جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہا جاتا ہے، کی تمام ریاستوں میں بیک وقت انتخابات کا انعقاد کسی صورت ممکن نہیں ہے، لہذا مختلف ریاستوں میں الگ الگ انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بھارت میں برسر اقتدار جماعت بی جے پی اور کانگریس کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہے۔ بی جے پی اپنے دوسرے دور اقتدار کے لیے ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہے جبکہ کانگریس اپنے کھوئے ہوئے اقتدار کے حصول کے لیے سرگرم عمل ہے۔ ان جماعتوں کے علاوہ کئی ایک چھوٹی جماعتیں بھی ان عام انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ بی جے پی نے اپنا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت میں آکر 2022ء تک کسانوں کی تنخواہوں کو دگنا کر دے گی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک میں ترسیل آب کے بڑے اور چھوٹے منصوبے مکمل کریں گے، فصلوں کے لیے نئی منڈیاں قائم کریں گے، اسی طرح اناج کو ذخیرہ کرنے کے جدید انتظامات کریں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وہ کسانوں کو سستے قرضے، ہر قسم کے موسم کے لیے سازگار سڑکیں نیز کسانوں کو سوشل سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے پینشن بل بھی پیش کریں گے۔
 
بی جے پی کے منشور کے مطابق تعلیم کے میدان میں وہ تمام سیکنڈری سکولوں کو نیشنل بورڈ کوالٹی پریویو کے تحت نظارت میں لائیں گے، اعلیٰ تعلیم کے لیے چودہ بلین امریکی ڈالر لگائیں گے۔ موجود انجینئرنگ، لاء اور مینیجمنٹ سکولوں میں سیٹوں کا اضافہ کریں گے۔ ہر قصبے میں مہارتیں بڑھانے کا ایک ادارہ قائم کریں گے۔ خواتین کی اعلیٰ تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انتخابی منشور میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر شہری کو پکا مکان، پینے کا صاف پانی، طہارت خانہ، ایل پی جی گیس سلنڈر، بجلی اور فی خاندان بینک اکاؤنٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔ ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے بھرپور کاوش کی جائے گی۔ منشور میں قومی شاہراہوں کو دوگنا کرنے اور پیٹرول کی کوالٹی کو بہتر بنانے کی بھی بات کی گئی ہے۔ انتخابی منشور میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملک کے تمام ریلوے نظام کو بجلی پر چلانے کا انتظام کیا جائے گا۔ ملک بھر میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد بنیادی صحت کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں 75 مزید میڈیکل کالج قائم کیے جائیں گے۔ ملک میں کاروبار کو آسان بنانے کے مزید مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ ہندوستان کی برآمدات کو بڑھایا جائے گا۔

ملک میں فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے فصلوں کو آگ لگانے کے اقدام کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ پیپر ورک کی جگہ کمپیوٹر کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ امور میں جدت لائی جاسکے۔ عدالتی نظام کو بھی جدید بنایا جائے گا۔ ملک میں ایک ڈیجیٹل لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائے گا، تاکہ لوگ باآسانی علم حاصل کرسکیں اور بیرونی طلباء کو ملک کے تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے کاوشیں کی جائیں گی۔ منشور میں کہا گیا ہے دہشت گردی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملک کے سکیورٹی اداروں کو زیادہ مضبوط بنایا جائے گا۔ بھارت کے آئین کے مطابق جموں و کشمیر کے باسیوں کو حاصل خصوصی حیثیت نیز حقوق کا خاتمہ کیا جائے گا، تاکہ ریاست بہتر طور پر ترقی کرسکے۔
 
اس کے مقابلے میں کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں اعلان کیا ہے کہ ملک کے بیس فیصد غریب گھرانوں کی خواتین کے اکاؤنٹس میں سالانہ 72 ہزار روپے ڈالے جائیں گے۔ بلدیاتی نظام میں ایک ملین نوکریاں دی جائیں گی۔ مرکزی حکومت کی چار لاکھ آسامیوں کو 2020ء تک پر کیا جائے گا۔ اسی طرح ریاستی حکومتوں کو اپنی بیس لاکھ آسامیوں کو پر کرنے کا کہا جائے گا۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ وہ ہر سال کسانوں کے لیے بجٹ بنائے گی اور زراعت کی ترقی کے لیے باقاعدہ ایک ادارہ قائم کیا جائے گا۔ ہر بے گھر گھرانے کو رہنے کی جگہ دی جائے گی، ملک میں حفظان صحت کا ایک قانون لایا جائے گا، جس کے تحت شہریوں کو مفت علاج، مفت دوائی کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں حکومت 2024ء تک دگنی سرمایہ کاری کرے گی۔ عوام پر تین تہوں پر مشتمل جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ ایک ہی ٹیکس لگایا جائے گا۔ ملک میں ذرائع رسل و رسائل کے نظام کو جدید کیا جائے گا۔ گرین انرجی کو ملک میں بڑھاوا دیا جائے گا نیز ہندوستان کو دنیا کے بڑے صنعتی مراکز میں سے ایک بنایا جائے گا۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ مسلح افواج کے بجٹ میں اضافہ کرے گی، تاکہ ملک کے دفاع کو یقینی بنایا جاسکے۔ جموں و کشمیر کے شہریوں کے آئین میں درج مقام کو بدستور قائم رکھا جائے گا۔ مسلح افواج کے قانون میں ترمیم کی جائے گی، تاکہ جبری گمشدگی اور جنسی تشدد پر حاصل استثناء کا خاتمہ کیا جا سکے۔
 
بھارت کے حالیہ انتخابات میں تقریباً پچاس سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں بی جے پی اور کانگریس ملک گیر جماعتیں ہیں۔ 1984ء سے گذشتہ انتخابات تک حکومت سازی میں چھوٹی جماعتوں کا کردار اہم رہا ہے۔ لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرنے والی کوئی بھی جماعت ان چھوٹی جماعتوں سے اتحاد کے بغیر حکومت نہیں بنا سکتی ہے۔ انتخابات سے قبل ہی این ڈی اے اور یو پی اے کے نام سے دو اتحاد قائم ہوچکے ہیں، جن کی سربراہی بالترتیب بی جے پی اور کانگریس کر رہی ہیں۔ ان انتخابات کی خاص بات ای وی ایم یعنی الیکڑونک ووٹنگ سسٹم کی تنصیب ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے اندازے کے مطابق انتخابات کے پہلے مرحلے میں لوک سبھا کی 91 سیٹوں کے لیے تقریباً ستر فیصد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا۔ دوسرے مرحلے میں 95 سیٹوں کے لیے ٹرن آوٹ تقریباً ستر فیصد ہی رہا۔ تیسرے مرحلے میں 116 سیٹوں کے لیے 68.44 فیصد لوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ چوتھے مرحلے میں 72 نشستوں کے لیے 65.51 فیصد ووٹرز نے ووٹ ڈالا۔ پانچویں مرحلے کے انتخابات میں 51 نشستوں کے لیے سات ریاستوں میں معرکہ 6 مئی کو ہوا۔ ہندوستان کے انتخابات دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح نتائج سے قبل نتائج حاصل کرنے کا کافی رجحان ہے، اس سلسلے میں مختلف اداروں کی جانب سے منعقد کئے جانے والے نتائج میں اس وقت تک این ڈی اے کو کانگریس کے اتحاد یو پی اے پر برتری حاصل ہے۔ الیکشن کمیشن نے کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول رزلٹ کے اعلان پر پابندی لگائی ہے۔
 
بھارتی انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں، ملک گیر جماعتوں کا منشور اس خطے کے حقیقی مسائل پر سے پردہ اٹھانے کے لیے کافی ہے، بالکل ایسا ہی یا اس سے ملتا جلتا منشور پاکستان میں سیاسی جماعتیں سامنے لے کر آتی ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان، صحت، انصاف اور کرپشن کا خاتمہ، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم کے شعبے میں کام، غریبوں کے لیے چھت اور زمین، سائنسی اور تعلیمی میدان میں ترقی ہی وہ مسائل ہیں، جو اس خطے کی ایک بڑی اکثریت کو درپیش ہیں اور انہی مسائل کو اپنے منشور کا حصہ بنا کر مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار کی سیڑھیاں چڑھتی ہیں، تاہم یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد ان سیاسی جماعتوں کے لہجے اور کام بدل جاتے ہیں۔ عوامی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ پھر انتخابات کا دنگل ہوتا ہے اور عوام ہری ہری گھاس کے لالچ میں ایک مرتبہ پھر اپنا سکھ چین قربان کرکے، انہی آزمائے ہوئے مہروں سے امیدیں لگائے ووٹ کی پرچی پر مہریں لگا آتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ بھارت کے عوام اپنے لیے ایسی قیادت کا انتخاب کریں، جو ان کے حقیقی مسائل پر توجہ مبذول رکھے۔ ملکوں اور ریاستوں سے دشمنیاں بڑھانے کے بجائے خلق خدا کے مسائل کے حل پر توجہ دے۔
خبر کا کوڈ : 792768
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب