0
Wednesday 8 May 2019 08:24

آٹھ مئی اہم اعلان

آٹھ مئی اہم اعلان
اداریہ
گذشتہ سال آٹھ مئی کے دن امریکی صدر نے کئی برسوں کی سفارتی کوششوں سے طے پانے والے ایٹمی معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کیا تھا، یہ معاہدہ جو پانچ جمع ایک ممالک کی مشترکہ کوششوں سے کئی برسوں کی محنت کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچا تھا، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد اگست اور نومبر 2018ء میں ایران کے خلاف ایک بار پھر ایٹمی پابندیاں عائد کر دیں اور پابندیوں کا یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس میں روز بروز اضافہ بھی ہوتا جا رہا ہے۔ اس ایٹمی معاہدے پر ایران میں سب گروہ راضی نہیں تھے لیکن حکومت اس کو اپنی ایک کامیابی اور اس پر عمل درآمد پر تاکید کرتی رہی ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس معاہدے سے نکلنے اور پورپی یونین کی مستقل وعدہ خلافی نے ایران کے تمام حلقوں کو اس بات پر متحد کر دیا ہے کہ امریکہ تو پہلے ہی اس سے نکل چکا ہے، لیکن یورپی یونین بھی کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔

اسی تناظر میں ایران کی وزارت خارجہ کی طرف سے اس معاہدے سے مکمل انخلا یا جزوی انخلا کے بارے میں خبریں میڈیا تک آئی ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے نکل جانے اور یورپی ملکوں کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد میں لیت و لعل اور وعدہ خلافیاں انجام دینے کے جواب میں ایران بھی آٹھ مئی بدھ کے دن اپنے نئے اقدامات کا اعلان کرے گا۔ ایران کی طرف سے آج کیا اعلانات ہوتے ہیں اور کیا نئی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم ایٹمی معاہدے پر امریکہ اور یورپ کا عدم اجرا اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ سفارتی کوششوں سے انجام پانے والے معاہدے اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔ عالمی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی روش تیزی سے زوال کا شکار ہو رہی ہے اور دنیا میں ایک بار پھر جس کی لاٹھی اس کی بھینس نیز جنگل کا قانون نافذ ہونے جا رہا ہے۔

ڈپلومیسی کی بجائے طاقت مسائل کا حل بنتی جا رہی ہے، نئی نسلوں کا ڈپلومیسی اور مذاکراتی عمل سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین صرف ایک معاہدے پر عملدرآمد نہیں کر رہی بلکہ سفارت کاری اور مذاکرات کی روش کا خاتمہ کر رہی ہے۔ ایران ماضی میں بھی سامراجی طاقتوں کے ظلم و ستم کا شکار رہا ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا، لیکن ایران نے مذاکرات میں شمولیت اختیار کرکے دنیا پر ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارتکاری، منطق، مذاکرات اور گفت و شنید پر یقین رکھتا ہے اور جو ممالک اس سے نکل گئے ہیں، وہ سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں طاقت اور برتری کے ذریعے جنگل کا قانون نافذ کرنے پر ایمان رکھتے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 792911
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب