0
Thursday 9 May 2019 15:09

مکتب تشیع پاکستان اور نظام اسلامی ایران کیخلاف زید حامد کی ہرزہ سرائیاں

مکتب تشیع پاکستان اور نظام اسلامی ایران کیخلاف زید حامد کی ہرزہ سرائیاں
تحریر: سکندر علی بہشتی

’’اے گرفتار ابوبکر و علی ہوشیار باش‘‘ کے عنوان سے زید حامد صاحب کا ایک کالم پاکستان کے ایک موقر روزنامہ میں مشاہدہ کرنے کا اتفاق ہوا، جس میں موضوف نے   مکتب تشیع پاکستان کے ساتھ ایران کے اسلامی نظام پر غیر مستند اور غیر مصدقہ  بلکہ سراسر تہمت، بہتان، توہین و افتراء پر مشتمل الزامات لگائے ہیں، جسے پڑھ کر ایک عام شہری بھی انگشت بہ دندان ہوگا، جو تھوڑی بہت ملکی اور بین الاقوامی اخبار و حالات پر مختصر نظر رکھتا ہے۔ اگرچہ موصوف کا دعویٰ ہے کہ وہ انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے مخالف ہیں اور پاکستان میں امن و بھائی چارگی کے خواہاں ہیں، لیکن ان کو پڑھنے والے اور ان کے برائے نام تحلیلی مکالمات کو مشاہدہ کرنے والے جانتے ہیں کہ موصوف کی ذات میں انتہاء پسندی بھری ہوئی ہے، جو اپنے مخالفین کے لئے ان کے لہجے میں ہمیشہ نمایاں رہتی ہے۔ زید حامد سمیت پاکستان کے پروپیگنڈہ مشینری کے نام نہاد صحافیوں، کالم نگاروں، ٹی وی اینکرز اور مختلف اداروں کے ترجمانوں کو یہ بات معلوم ہو جانی چاہیئے کہ امن و امان، روز ِ روشن کی مانند حقائق کے انکار، الزام تراشیوں، تحقیر  وتوہین اور غلط فہمیوں کے پھیلانے سے برقرار نہیں ہوتا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان موجود غلط فہمیوں کا ازالہ باہمی مثبت اور بامقصد گفتگو سے ہی ممکن ہے، جس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطوح پر جامع مذکرات اور گفتگو کا آغاز کیا جانا نہایت ضروری ہے، تاکہ فرضی اور خیالی غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے۔ پاکستانی وزیراعظم کے دورۂ ایران کے دوران دونوں ممالک کے قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے۔ امید ہے کہ اس عزم و ارادے پر عمل ہو جائے، تاکہ زید حامد جیسے پاک ایران دیرینہ مضبوط دوستی کو تیرہ و تاریک دکھانے والوں کے خواب بکھر جائیں۔ ایران کی جانب سے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازش کا الزام سراسر حقائق کا انکار ہے۔ اگر ایران اپنی اقتصادی پارٹنرشب کی بنیاد پر ہندوستان کے ساتھ اچھے تعلقات میں جڑنے کی وجہ سے پاکستان کا دشمن ہوسکتا ہے تو اس سے پہلے پاکستان سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ اپنی دوستی کی بنیاد پر ایران کا دیرینہ دشمن بن ہی جاتا ہے۔ آج تک ایران نے پاکستان کو سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ دوستی کی بنیاد پر متہم نہیں کیا تو کیا آج ہمیں یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم ایران سے پاکستان کی خاطر اپنے روابط محدود کرنے کی توقع رکھیں۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے اب تک امت مسلمہ، اسلامی ممالک اور ہمسایوں کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات ایران کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ رہا  ہے۔ امام خمینی اور ان کے بعد موجودہ رہبر امت مسلمہ خصوصاً پاکستان کے ساتھ اچھے تعقات کے حامی رہے، ہیں اور رہیں گے۔ مسلمان مسالک کے درمیان ہم آہنگی و وحدت کے لئے ایران اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے میں انتہاء پسند گروہوں اور بھارت کے ساتھ مل جانے کا الزام انتہائی مضکہ خیز ہے۔ جو ملک، نظام اور اس کے رہنما خود اب تک سب سے زیادہ انتہاء پسندوں کے پے در پے حملوں کی زد میں رہے ہوں، ان کو انتہا پسندی کا الزام دینا انتہائی ناانصافی ہے۔ ساتھ ہی پاکستان میں شیعہ نسل کشی کا انکار، ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو جھوٹی داستان قرار دینا حقیقت سے فرار کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ایک عرصے سے پاکستان میں منظم طریقے سے مساجد، امام بارگاہوں، جلوسوں میں بم دھماکے اور حملے، سینکڑوں علماء، دانشور، ڈاکٹرز، انجئینیزز، عزاداروں اور دیگر شخصیات کا قتل عام سب کے سامنے ہے۔

اگر زید حامد صاحب کو ٹوپی کی گرمایش کی وجہ سے بھولنے کی بیماری لاحق ہوگئی ہے تو شہدائے ملت جعفریہ پاکستان کی ایک مختصر فہرست پیش کرتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 2002ء سے لے کر اپریل 2018ء تک 471 بار اہل تشیع پر دہشت گردانہ حملے ہوئے، جن میں 2 ہزار 693 افراد شہید اور 4 ہزار 847 زخمی ہوئے۔ ان اعداد و شمار میں 1963ء سے 2001ء تک اور اپریل 2018ء سے اب تک کے حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والوں کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔ ان تمام شہداء کی فہرست موجود ہے اور ان کی داغ دیدہ فیملیز آج بھی پاکستان کے گوشہ و کنار میں اپنے پیاروں کا غم سینے میں لئے زندگی گزار رہی ہیں۔ کراچی، راولپنڈی، لاہور، خیرپور، پاراچنار، پیشاور، کوئٹہ اور گلگت بلتستان نجانے کن کن شہروں کی مساجد کی دیواریں فرزندان ملت جعفریہ کے خون سے رنگین ہوئی، کن کن امام بارگاہوں اور عزاخانوں کی چاندنیاں خونِ شہداء میں بھیگ گئیں، کن کن شہروں کی شاہراہوں پر اس قوم کے مرد و زن کے پرخچے اڑا دیئے گئے اور تو اور کوئٹہ اور پاراچنار میں تو بستیاں اجاڑ دی گئی۔ پھر بھی زید حامد کو پاکستان میں اہل تشیع پر مظالم اور ان کی نسل کشی کو جھوٹی داستان کہتے ہوئے تھوڑی بہت شرم تو آنی چاہیئے۔

زید حامد اور ان جیسے پروپیگنڈہ ساز لکھاریوں کو کبھی پاکستان کی سرزمین میں  اہل تشیع کے خلاف کفر اور واجب القتل ہونے کے فتوے، اشتعال انگیز تقاریر، نفرت آمیز مواد کی اشاعت (جو اب سوشل میڈیا پر موجود ہے) نظر نہیں آتا۔ انہیں یہ سب کچھ کیوں ںظر نہیں آتا، جبکہ یہ سب ان کے سامنے ہی ہو رہا ہوتا ہے، لیکن ان کا کام تو پراپیگنڈہ سازی، حقائق کا انکار بلکہ حقائق کو تبدیل کرنا اور دن کو رات اور رات کو دن میں بدلنا ہے تو وہ کیسے ان حقائق کا اعتراف کریں گے، بلکہ وہ تو کوشش کریں گے کہ حق کو ناحق اور ناحق کو حق بنا کر پیش کریں۔ کاش زید حامد جیسے پراپیگنڈہ ساز صحافیوں کا ضمیر کچھ دیر کے لئے بیدار ہو جائے اور وہ روز روشن میں حقائق کا انکار کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مخلص شیعہ قوم پر الزام تراشی سے باز آجائیں۔
خبر کا کوڈ : 793236
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب