0
Thursday 9 May 2019 15:34

دنیا میں شیعت کیخلاف دہشتگردی، اسباب اور علاج(4)

دنیا میں شیعت کیخلاف دہشتگردی، اسباب اور علاج(4)
تحریر: انجنئیر سید حسین موسوی

پاکستان بننے کے تھوڑے ہی عرصے بعد یہ ملک امریکی لابی میں چلا گیا۔ باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی امریکی پالیسی کے تحت سعودی ریالوں سے وہابیت درآمد ہونے لگی۔ اس پالیسی کے تحت سب سے زیادہ فائدہ دیوبندی مکتب فکر کو ملا جبکہ یہ جماعت پاکستان بننے کی ہی مخالف تھی۔ "بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔" اسی مکتب دیوبند کو حکومتی سرپرستی مل گئی:
1۔ حکومت کی طرف سے جو بھی مساجد بنائی جاتیں، وہ اسی مکتب فکر کے لوگوں کے حوالے کی جاتیں تھیں اور ابھی تک ایسا ہی ہے، جبکہ ملک میں اکثریت بریلوی سنی مسلمانوں کی تھی اور ہے، اس کے بعد شیعہ مکتب فکر کی باری آتی ہے۔
2۔ سرکاری کالونیوں اور دفاتر میں کسی اور مکتب فکر خاص طور پر مکتب اہلبیت کی مسجد بنانا بغاوت کے برابر تھا اور اب تک ہے۔ بہت کم جگہیں ہیں، جہاں کہیں شیعہ مسجد کی اجازت ملی، وہ بھی کسی اور مقصد کے لیے بنائی گئی عمارت میں تبدیلی لاکر۔ ایسی مساجد کے لیے وہاں کے سرکاری ملازمین نے کیا کیا صعوبتیں برداشت کیں، وہ انہی کو معلوم ہیں۔

3۔ سرکاری مسجد میں سرکاری پیش نماز دیوبندی مذہب کے ہی رکھے جاتے تھے اور ہیں۔ بہت کوششوں کے بعد اگر کہیں کوئی شیعہ مسجد میں پیش نماز رکھنے کے لیے انتظامیہ مجبور ہوئی بھی تو ڈیلی ویجز پر رکھ دیا جاتا ہے۔
4۔ سرکاری ملازمتوں میں بھی دیوبندی مذہب والے کو ترجیح واضح نظر آتی ہے۔
5۔ سرکاری ملازمیں کے ترقیوں میں بھی دوسرے مکاتب فکر پر ظلم کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
6۔ سرکاری سطح پر دیوبندی مکتب کے مدارس کو فنڈز فراہم کئے جانے لگے اور عرب ممالک سے ان مدارس میں ریالوں کی بارش شروع ہوئی۔
7۔ افواج پاکستان کا جیسے کہ سرکاری مذہب ہی دیوبندی بن گیا۔ افواج پاکستان کی تمام مساجد میں دیوبندی امام اور خطیب ہیں۔ یہاں تک کہ پہلے نعرہ حیدری فوج بھی لگاتی تھی، لیکن اس پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

8۔ دیوبندی مکتب فکر اپنا خم ٹھونک کر باقی مکاتب کی دشمنی میں میدان میں آیا۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مفتی محمود نے باقاعدہ اپنے مخالف مکاتب خاص طور پر شیعہ کو کافر قرار دیا۔ ہر شہر میں دیوبندی مدرسے قائم ہونے لگے، انکے کاموں میں سے ایک اہم کام عزاداری امام حسین کو روکنا تھا۔ اسی مکتب فکر نے سرکاری سرپرستی میں 1965ء میں ملکی تاریخ کا پہلا بلوا ضلع خیرپور میرس بمقام ٹھیڑی کروایا۔ جو کئی دنوں تک جاری رہا اور سینکڑوں عزادار شہید کیے گئے اور پھر اس مکتب فکر کے منہ کو خون لگ گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ان کا نام دہشت کی نشانی بن گیا۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ عرصہ سے انکی قیادت اب کرپشن میں مبتلا ہوکر اپنی حیثیت کھو بیٹھی ہے۔

9۔ سرکاری سطح پر ایک رسم یہ بھی تھی کہ جب بھی کوئی ملک کا صدر، وزیراعظم، گورنر، وزیراعلیٰ، وزیر یا فوج کا سربراہ بنتا تھا تو ملک کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کی مزار پر پھول چڑھانے آتا تھا۔ یہ ایک علامتی رسم تھی کہ ہم جس عہدے پر آج ہیں وہ آپ کی مرہون منت ہے۔ لیکن جب سے سرکاری مذہب دیوبندی بنا، تب سے یہ رسم بھی بند کر دی گئی۔ کیونکہ دیوبندی مکتب اسے قبر پرستی قرار دیتا ہے۔ اب قائد اعظم بیچارہ تکتا رہتا ہے کہ کوئی ملکی عہدیدار آئے اور کم از کم زبان سے ہی شکریہ ادا کرے کہ آپکا شکریہ آپ نے یہ ملک بنا کر دیا۔ ایسا احسان فراموش طبقہ آپ نے نہیں دیکھا ہوگا۔
10۔ وفاقی اور صوبائی کابینہ اجلاس میں دیوبندی عالم درس دیتا ہے۔ دیوبندی تبلیغی جماعت میں چلہ لگانے والوں کو خصوصی رعایت ملتی ہے۔ یہ غیر اعلانیہ دیوبندی اسٹیٹ ہے۔

ملک کو دیوبندی اسٹیٹ بنانے کی جدوجہد اس وقت باقاعدہ سرکاری حیثیت اختیار کر گئی تھی، جب جنرل ضیاء نے اپنی غیر قانونی حکومت کو بنیاد فراہم کرنے کے لیے اسلام کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اسلامی نظام کے نام پر کوڑوں کی سزا متعارف کروائی گئی۔ جسے سیاسی طور پر بے دریغ استعمال کیا گیا۔ دوسرا کام بینکوں میں رکھے گئے پیسوں پر بغیر مالک کی اجازت کے زکواۃ کی لازمی کٹوٹی تھی۔ جنرل ضیاء کا اسلامی نظام کبھی بھی ان دو کاموں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ حالانکہ زکواۃ کی جبری کٹوتی سنی مکاتب بشمول دیوبندی مکتب کے خلاف تھی، جس کا اظہار بعد میں ڈاکٹر اسرار احمد اپنی تقاریر میں کرتے تھے، لیکن اس کی مخالفت میں میدان میں صرف شیعہ مکتب کے لوگ آئے اور 2 سے 6 جولائی 1980ء مرحوم مفتی جعفر حسین کی قیادت میں اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا۔ جس کے بعد اس مکتب کے ماننے والوں سے دشمنی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ سرکاری فارمز میں مذہب کا خانہ شامل کیا گیا اور شیعہ کو ملک کا دوسرے درجے کا شہری بنانے کی پوری کوشش کی گئی۔

1979ء ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوچکا تھا، جس کا اثر پاکستان میں بھی شیعہ سنی سب پر پڑا۔ ملک کے مقتدر ادارے کیونکہ مکمل طور پر دیوبندیت کے قبضہ میں تھے، اس لئے شیعہ کو ایک دشمن قوت کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ 6 جولائی 1985ء کوئٹہ میں شیعہ اجتماع ہوا، جسے ضیاء کی آمرانہ حکومت نے ایک سانحہ میں تبدیل کر دیا۔ جس کے بعد کوئٹہ میں شیعہ کے خلاف آپریشن شروع ہوا، جو آج تک مسلسل جاری ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ:
1۔ دیوبندیت کے عقیدے اور سعودی سرپرستی کے تحت، مقتدر ریاستی ادارے شیعہ اور ایران کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ اس دشمنی کو یہ ادارے ملکی سلامتی سے جوڑتے ہیں، ان کے نظریئے کے مطابق ہر محب وطن شہری کو یہی پالیسی اپنانی چاہیئے۔ ان کی باڈی لیگویج یہ ہے کہ اگر شیعہ پاکستان میں قوت بن گئے تو پھر یہ پاکستان پر قبضہ کرکے ایران کے حوالے کر دینگے۔ جبکہ یہ ان کی خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ پاکستان کے شیعہ ان اداروں سے زیادہ پاکستان کی سالمیت کے محافظ رہے ہیں اور رہیں گے۔

2۔ مقتدر ریاستی ادارے کسی بھی قیمت پر شیعہ کی ترقی، اتحاد اور قوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
3۔ اگر ریاستی ادارے براہ راست شیعہ کے خلاف کوئی اقدام کرینگے تو دنیا میں ان کی بدنامی ہوگی۔ اسلئے ان قوتوں کو ڈھیل دی ہوئی ہے، جو شیعہ افراد کے استحصال میں سرگرم ہیں۔ یہ انہی کی نیابتی قوتیں ہیں اور انہی کی سرپرستی میں زندہ ہیں۔
4۔ جو جوان جذبات میں پاکستان سے شام جا کر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ کی حفاظت کرتے رہے، اب وہ جیسے ہی واپس پاکستان آتے ہیں، انہیں اٹھا لیا جاتا ہے۔ یہ ادارے ان سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں یہ پاکستان میں کوئی مشکل پیدا نہ کریں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جب پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ اپنے عروج پر تھی، اس وقت بھی شیعہ جوانون نے قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیا تو اب کیسے لیں گے۔؟ یہ شیعہ جوان حضرت زینب پر تو اپنی جان دینے کے لیے آمادہ ہیں، لیکن اپنے کسی مفاد کے لیے یہ جان دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ پھر بھی یہ ضمانت لینے کے لیے کہ یہ جوان ملک میں قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے اور بھی بہت راستے ہیں۔ لیکن اس طرح سے اٹھا لینا اور غائب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہ ادارے شیعہ کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اسلئے ان کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ یہ وہ تلخ حقائق ہیں جن کا اس قوم کو سامنا ہے۔


علاج:
سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ انسان کو یقین کامل ہونا چاہیئے کہ دنیا میں کمزور کا کوئی نہیں ہوتا۔ آج کی اس سرمایہ دارانہ دنیا کی صرف ایک آنکھ ہے اور وہ ہے اس کا اقتصادی مفاد۔ جو قوم زندگی کے کسی بھی شعبہ میں کمزور ہو، اس سے جینے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ ملت جعفریہ بھی جب تک تعلیم، اقتصاد، کردار، قربانی اور اتحاد میں کمزور رہے گی، مار کھاتی رہے گی۔ لہذا ہمارے لیے لازمی ہے کہ ہم:
1۔ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم پر خرچ کریں۔

2۔ ملت کے ہر جوان پر یونیورسٹی تک کی تعلیم فرض قرار دی جائے۔
3۔ ملت کے باصلاحیت جوان سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ سماجی علوم میں مہارت حاصل کریں۔ قوم سائنسی علوم سے نہیں سماجی علوم سے بنتی ہے۔
4۔ دینی تعلیمی اداروں سے پوری قوم کا رابطہ ہونا چاہیئے اور دینی تعلیمی اداروں کا معاشرے سے ربط ہونا چاہیئے۔ دینی تعلیم میں بھی باصلاحیت جوان انٹر پاس کرنے کے بعد جائیں اور اپنا مقصد دین اور ملت کی دینی ضروریات پوری کرنا قرار دیں۔ دینی تعلیمی اداروں میں سہولیات کا تناسب باقی تعلیمی اداروں کی سطح کا ہونا چاہیئے۔ اس میں ہمیں تعداد سے زیادہ اب معیار پر زور دینے کی ضرورت ہے۔

5۔ ہم اپنی مجالس کا طریقہ کار بدلیں، مجلس میلے کی طرح شور شرابے والی نہیں بلکہ کلاس روم کی طرح خاموش اور علمی ہونی چاہیئے۔ مجلس کا مقصد دین سکھانا اور دین کے لیے حسینی کردار تربیت کرنا ہو۔
6۔ قوم میں کردار سازی کا جذبہ پیدا کیا جائے اور قوم کے افراد کا اخلاقی کردار معاشرے میں بلند ہونا چاہیئے۔
7۔ ہمارے باصلاحیت جوان تجارت اور صنعت کی طرف جائیں، تاکہ ملت کی اقتصادی حالت مضبوط ہو۔ دفتری جاب سے پیٹ تو پالا جا سکتا ہے، لیکن قوم کی اقتصادی حالت بہتر نہیں کی جاسکتی۔
8۔ سیاسی اتحاد سے پہلے جب تک ہماری ملت میں تعلیم اور شعور کا انقلاب نہیں آئے گا، اگر سیاسی اتحاد وجود میں آ بھی جائے تو اسے پنکچر کرنا بہت آسان ہوگا۔
یاد رکھیں جب تک کسی قوم کی تعلیم، شعور، اقتصاد اور کردار مضبوط نہ ہو، نہ قوم مضبوط ہوگی، نہ ہی اس قوم کو لے کر کوئی بھی قائد کسی محاذ پر فتح حاصل کرسکتا ہے۔ ہمیں ابتدا تعلیم اور مجالس کی اصلاح سے کرنی پڑے گی۔ ہماری ترقی کا راستہ مجالس سے ہوگر گزرتا ہے۔

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سنان اول طاؤس و رباب آخر
(اقبال)
۔۔۔۔۔۔تمام شد۔۔۔۔۔
خبر کا کوڈ : 793282
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے