0
Friday 10 May 2019 01:32

تصاویر، شواہد اور گواہ

تصاویر، شواہد اور گواہ
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

میرے دماغ میں ایک منطقہ ہے، جس منطقے کو چار بھائیوں نے خریدا تھا، منطقہ خوبصورت، زرخیز، وسیع و عریض اور معدنیات سے مالا مال تھا۔ چاروں بھائیوں نے منطقے کو آپس میں تقسیم کیا، ایک کے حصے میں معدنیات، دوسرے کے حصے میں جنگلات، تیسرے کے حصے میں پانی اور چوتھے کے حصے میں باغات  آئے۔ تقسیم کے بعد چاروں بھائی اپنی اولاد کو لے کر اس منطقے میں آباد ہوگئے اور انہوں نے  اپنے منطقے کے ارد گرد فصیل کھینچنے اور چوکیدار رکھنے پر اکتفا کیا۔ کچھ دن ہی گزرے تھے کہ چوکیدار کو یہ احساس ہوا کہ اگر میں صبح قیامت تک بھی یہاں ڈیوٹی دیتا رہوں تو پھر بھی چوکیدار ہی رہوں گا، اس نے سوچنا شروع کیا کہ آخر کیسے میں اس منطقے کا مالک بن سکتا ہوں، چنانچہ اس نے ایک منصوبہ بندی کے ساتھ معدنیات والے بھائی کو بلایا اور اسے قائل کیا کہ اگر تم ان معدنیات کو فصیل سے باہر فروخت کرو تو بہت ساری دولت تمہارے ہاتھ لگے گی۔

معدنیات والے بھائی نے کہا کہ بہت خوب، میں ذرا دیگر تین بھائیوں سے مشورہ کر لوں! چوکیدار نے کہا نہیں، ایسا نہیں کرنا، اگر ایسا کیا تو ان تینوں کو بھی تمہیں حصہ دینا پڑے گا اور پھر تمہیں کیا بچے گا، لہذا تم رات کی تاریکی میں فصیل کی عقبی دیوار پھلانگ کر معدنیات کو باہر فروخت کیا کرو، میں ڈیوٹی کے دوران دیکھتا رہوں گا، اگر کوئی تمہاری طرف آیا تو سیٹی بجا کر تمیں چوکنا کر دوں گا۔ کچھ کاروبار بھی منافع بخش تھا اور کچھ چوکیدار بھی رطب اللسان، پس معاملہ طے ہوگیا اور رات کی تاریکی میں یہ دھندہ شروع ہوگیا۔ چوکیدار ڈیوٹی کے دوران چوری چھپے معدنیات کی فروخت کی تصاویر بناتا رہا اور دیگر شواہد بھی اکٹھے کرتا رہا۔ پھر اس نے جنگلات والے بھائی کو بلایا اور اسے بھی اسی طرح قائل کیا کہ اگر تم چوری چھپے جنگلات کی کٹائی کرکے درخت بیچو گئے تو بہت منافع ملے گا، یہ تیر بھی نشانے پر لگا اور جنگلات والے بھائی کے خلاف بھی شواہد اور ثبوت اکٹھے ہوگئے۔

اس کے بعد پانی والے بھائی صاحب کو بلایا اور اسے قائل کیا کہ وہ چھپ چھپا کر پانی فروخت کرے اور دولت سمیٹے، وہ بھی مان گیا اور اس کے خلاف بھی شواہد جمع ہوگئے، جس کے بعد باغات والے کو بلا کر پھلوں کو سمگل کرنے کی ترغیب دی گئی، جب وہ بھی مان گیا، تو پھر اس کی سمگلنگ کے شواہد بھی جمع کر لئے گئے۔ اس کے بعد اصلی کھیل شروع ہوا، چوکیدار نے معدنیات والے صاحب کے ہاتھ پاوں اور منہ باندھ کر سب کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ یہ شخص غداری کا مرتکب ہوا ہے، یہ اس منطقے سے معدنیات چوری کرکے بیچتا ہے، یہ اس کی تصویریں، دیگر شواہد اور گواہ موجود ہیں۔ سب نے چوکیدار کو شاباش دی، اس کی تنخواہ بڑھائی اور اسے کہا کہ غدار کو موت کی سزا دو۔

جب یہ کام بخوبی انجام پا گیا تو کچھ دنوں کے بعد جنگلات والے بھائی کے ہاتھ پاوں اور منہ کو باندھ کر چوکیدار نے لوگوں کے سامنے پیش کیا، ساتھ ہی لکڑی چوری کی تصاویر، شواہد اور گواہوں کو پیش کیا، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر جنگلات کے مالک کو غدار قرار دیا گیا اور چوکیدار کی خاطر مدارت کی گئی اور اسے شاباش دی گئی، یوں دوسرے بھائی کو بھی ٹھکانے لگا دیا گیا۔ پھر کچھ دنوں کے بعد پانی والے صاحب کے ہاتھ پاوں اور منہ باندھ کر پیش کیا گیا، تصاویر اور شواہد کے ڈھیر لگا دیئے گئے، اسے بھی غدار قرار دیا گیا اور پے در پے غداروں کو پکڑنے کے باعث لوگوں کی نگاہ میں چوکیدار کی اہمیت مزید بڑھ گئی، چنانچہ چوکیدار کی مراعات و اختیارات میں اور زیادہ اضافہ کیا گیا اور یوں تیسرے بھائی کو بھی غداری کے الزام میں لٹکا دیا گیا۔

ابھی تیسرے بھائی کو لوگ کوس ہی رہے تھے کہ چوتھے بھائی یعنی باغات والے صاحب کو بھی منہ ہاتھ اور زبان بند کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا اور سب کو آگاہ کیا گیا کہ یہ غدار کس طرح پھلوں کو چوری کرتا ہے، ساتھ ہی اس کی تصاویر، شواہد اور گواہ بھی پیش کر دیئے گئے۔ سب نے اسے بھی غدار کہا اور یوں اسے بھی راستے سے ہٹا دیا گیا۔ اب اکیلا چوکیدار رہ گیا اور اس کے سامنے ایک بہت بڑا منطقہ، چوکیدار نے منطقہ خریدنے والے چاروں بھائیوں کو راستے سے ہٹا دیا تھا، لیکن مشکل یہ پیدا ہوگئی کہ جن کے بڑوں کو منہ اور ہاتھ پاوں بند کر مار دیا گیا تھا، وہ بچے اب کہنے لگے تھے کہ اگر چوکیدار نہ چاہتا تو معدنیات، جنگلات، پانی اور باغات کی چوری نہ ہوتی، ان کارروائیوں میں تصاویر بنانے والے، شواہد اکٹھے کرنے اور گواہ پیش کرنے والے چوکیدار کا ہاتھ ہے۔

جب یہ بحث زیادہ ہوگئی تو چوکیدار نے سب کو بلایا اور کہا کہ ہاں ہم نے معدنیات کی چوری کی ترغیب دی، چونکہ معدنیات ضائع ہو رہی تھیں، ہم نے انہیں دولت میں تبدیل کرنے کی خاطر ایسا کیا اور جنگلات ۔۔۔ جنگلات تو منطقے کے لئے خطرہ تھے، ان میں چور اور ڈاکو چھپنے کا امکان تھا، لہذا آپ کی حفاظت کی خاطر ہم نے جنگلات کی کٹائی کا راستہ ہموار کیا، ہاں جہاں تک پانی کی بات ہے تو اگر اسے فروخت نہ کرتے تو یہ مفت میں خشک ہو جاتا اور یا پھر خراب ہو جاتا، چنانچہ ہم نے خشک اور خراب ہونے سے بچانے کے لئے اس بیچنے کا پروگرام بنایا، اس میں کوئی ہمارا ذاتی فائدہ نہیں تھا بلکہ پانی ضائع ہو رہا تھا اور جو لوگ باغات کی بات کرتے ہیں، انہیں پتہ ہونا چاہیئے کہ پھل کچھ عرصے کے بعد خراب ہو جاتے ہیں، چنانچہ ہم نے پھلوں کو کیڑا لگنے اور گلنے سڑنے سے بچانے کی خاطر پھلوں کی تجارت کا ایک خفیہ دروازہ کھولا، اس میں آپ لوگوں کی ہی بھلائی تھی، چونکہ پھلوں کی سڑاند سے جو بیماریاں پھیلتیں، وہ آپ سب کو موت کے گھاٹ اتار دیتیں۔

چوکیدار اگرچہ لوگوں کو مطمئن کر رہا تھا، لیکن وہ در اصل سب کے سامنے اعتراف جرم کر بیٹھا تھا۔ اس نے مان لیا تھا کہ یہ سب کچھ اسی کے منصوبے کے مطابق ہوا ہے، جس کے بعد غداروں کی اولاد نے چہ مہ گوئیاں شروع کر دیں، اب سنا ہے کہ وہ چہ مہ گوئیاں کرنے والی اولاد، یعنی غداروں کی غدار اولاد فصیل کے اندر سے لاپتہ ہو رہی ہے، اگرچہ ان کے لواحقین انہیں مسنگ پرسن کہتے ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ وہ غدار ہیں اور ان کے خلاف بھی ان کے اجداد کی طرح تصاویر، شواہد اور گواہ موجود ہیں۔ نوٹ: یہ ایک غیر سیاسی کالم ہے اور اس کالم میں چار بھائیوں سے چاروں صوبوں کے سیاستدان مراد نہیں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 793287
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب