3
Friday 10 May 2019 20:04

ایران کے ایسے چار مہلک ہتھیار جن سے امریکہ کو خوفزدہ ہونا چاہئے

ایران کے ایسے چار مہلک ہتھیار جن سے امریکہ کو خوفزدہ ہونا چاہئے
تحریر: فاطمہ حسنی

سرد جنگ اختتام پذیر ہونے کے بعد شمالی کوریا کے علاوہ دنیا میں ایران کے سوا کوئی ایسا ملک نہیں ہے جس نے امریکہ کو اس قدر چیلنجز سے روبرو کیا ہو۔ ایران نے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا سے لے کر لاطینی امریکہ تک امریکہ سے دشمنی اور اس کے اثرورسوخ کو محدود کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔ ایران کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی بذات خود خطرناک ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے نہ صرف خطے میں فوجی اڈے بنا کر تہران کا گھیراو کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ حالیہ چند سالوں میں امریکہ کے فوجی اخراجات ایران کی جی ڈی پی سے دو گنا زیادہ رہے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کا مقابلہ کرنے کیلئے روک تھام پر مبنی ڈاکٹرائن اختیار کر رکھی ہے جس کے تحت بیلسٹک میزائلوں کے وسیع ذخائر، ناہموار سمندری جنگ، آبنائے ہرمز بند کر دینا اور غیر ریاستی مسلح اسلامی مزاحمتی گروہوں سے تعلقات استوار کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔ ایران کے پاس چار ایسے ہتھیار موجود ہیں جو ضرورت پڑنے پر امریکہ کو انتہائی سنگین نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہذا امریکہ کو ان سے خوفزدہ ہونا چاہئے:
 
1)۔ سجیل بیلسٹک میزائل
ایران کی فوجی ڈاکٹرائن کا اہم ترین ہتھکنڈہ بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ ہے۔ ایرانی میزائلوں کی سب سے زیادہ جانی پہچانی سیریز "شہاب" ہے جن کی ڈیزائننگ شمالی کوریا کے میزائلوں سے ملتی جلتی ہے۔ "سجیل" بھی ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی ایک نسل ہے۔ یہ زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے جو دو مرحلے میں اپنے نشانے تک پہنچتا ہے اور ٹھوس ایندھن استعمال کرتا ہے۔ اس کی رینج 2500 کلومیٹر ہے اور ایران نے 2008ء میں پہلی بار اس کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ شہاب سیریز کے برعکس سجیل سیریز میں ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ کم مدت میں اپنے نشانے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکہ کے سابق وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے 2009ء میں کہا تھا: "سجیل میزائل کی رینج 2000 سے 2500 کلومیٹر کے درمیان ہے۔ یہ میزائل 750 کلوگرام وزن کے وارہیڈ کے ذریعے اسرائیل اور حتی جنوب مشرقی یورپ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس میزائل پر جوہری ہتھیار بھی نصب کئے جا سکتے ہیں۔" سجیل 2 میزائل کا کامیاب تجربہ پہلی بار 2009ء میں کیا گیا۔ گلوبل سکیورٹی اس میزائل کے بارے میں لکھتی ہے: "سجیل 2 میزائل 2510 کلومیٹر رینج رکھتا ہے اور 650 کلوگرام وار ہیڈ اٹھا سکتا ہے جسے بڑھا کر 1000 سے 2000 کلوگرام بھی کیا جا سکتا ہے۔"
 
2)۔ غدیر کلاس کی سب میرینز
آبنائے ہرمز میں خام تیل کی تجارت میں مصروف کشتیوں کیلئے خطرہ تصور کئے جانے والی غدیر کلاس کی سب میرینز کو روک تھام کیلئے ایران کے پاس سب سے بڑا پتھکنڈہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق امریکہ نے 1976ء سے لے کر آج تک آبنائے ہرمز میں اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر 8 کھرب ڈالر خرچ کئے ہیں۔ لہذا ایران کے پاس موجود غدیر کلاس کی سب میرینز آبنائے ہرمز بند کرنے کی صلاحیت رکھنے کے ناطے انتہائی اہم اور اسٹریٹجک ہیں۔ جنگ اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ اس بارے میں کہتا ہے: "سمندری راستوں کی حفاظت پر تعینات فورسز اور ایسی تجارتی کشتیاں جن کے روٹ پہلے سے طے ہیں سب میرینز کیلئے آسان اہداف ثابت ہو سکتے ہیں۔" ایران کی غدیر سب میرینز کی چوڑائی 2 میٹر اور 75 سنٹی میٹر ہے اور وہ اپنے سامنے سے دو تارپیڈو فائر کرنے کے قابل ہیں۔ اسی طرح ان کے ذریعے پانی میں مائنز بچھانے اور نیوی کے کمانڈوز منتقل کرنے کا کام بھی انجام پا سکتا ہے۔ ان سب میرینز میں پانی کے اندر غوطہ زن فورسز چھوڑنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ غدیر کلاس کا سب میرین فلیٹ کسی بھی جنگ کی صورت میں انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
 
3)۔ خلیج فارس بیلسٹک میزائل
یہ میزائل سمندری کشتیاں تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور ناہموار سمندری جنگ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی رینج 300 کلومیٹر ہے جبکہ یہ ایک ٹھوس ایندھن والا سپر سانک میزائل ہے۔ اس کی ڈیزائننگ فاتح 110 کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس میزائل پر 650 کلوگرام وزنی وار ہیڈ نصب کیا جا سکتا ہے اور اسے جی پی ایس کے ذریعے گائیڈ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے اس میزائل کو "سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کی نیوی کا ترقی یافتہ ترین اور اہم ترین میزائل" قرار دیا ہے۔ اس کی اہم ترین خصوصیت آواز کی رفتار سے زیادہ تیز ہونا ہے۔ یہ میزائل عمودی طور پر فائر کیا جاتا ہے اور اپنے نشانے پر لاک ہو کر اس کا پیچھا کرتے ہوئے اسے تباہ کرتا ہے۔ یہ میزائل سمندر میں دشمن کے جنگی جہازوں اور کشتیوں کو تباہ کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ اس بارے میں ایران کے نائب وزیر دفاع مجید باکوئی کہتے ہیں: "ہماری جانب سے خلیج فارس میزائل کے پہلے کامیاب تجربے کے بعد امریکی نیوی خلیج فارس میں پیچھے ہٹ گئی تھی۔"
 
4)۔ حزب اللہ لبنان
1980ء کے آغاز میں اسرائیل کے قبضے اور جارحانہ اقدامات کے مقابلے میں اسلامی مزاحمتی گروہ تشکیل دینے کیلئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے کمانڈرز لبنان بھیجے گئے۔ اس وقت لبنان میں ایران کا کوئی خاص اثرورسوخ نہیں تھا جبکہ ایران عراق کے ساتھ جنگ میں بھی مصروف تھا۔ لبنان میں اسلامی مزاحمتی گروہ تشکیل دینے کا فیصلہ اسٹریٹجک بنیادوں پر عمل میں آیا کیونکہ آج تک حزب اللہ لبنان ایران کیلئے خدا کا ایک تحفہ ثابت ہوا ہے۔ اس دوران حزب اللہ لبنان بارہا ثابت کر چکی ہے کہ وہ خطے میں ایران کا انتہائی طاقتور بازو ہے۔ 2003ء میں عراق پر امریکی فوجی حملے کے بعد حزب اللہ لبنان نے عراق کے شیعہ نوجوانوں کو فوجی تربیت کا آغاز کر دیا۔ 2011ء سے حزب اللہ لبنان کے مجاہد شام میں بھی تکفیری دہشت گرد عناصر کے خلاف نبرد آزما ہیں۔
 
خبر کا کوڈ : 793416
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب