0
Saturday 11 May 2019 09:03

پاکستان کے مسنگ پرسنز کس کے پاس ہیں؟

پاکستان کے مسنگ پرسنز کس کے پاس ہیں؟
اداریہ
پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل آصف غفور نے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکائونٹ پر لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے دل تمام لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ہم ان خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ ڈان نیوز کے مطابق پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوششوں میں مسنگ پرسنز کے اہل کے ساتھ ہیں۔ پاکستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ کئی برسوں سے چل رہا ہے، پاکستانی فوج اور حکومت نے کئی ہزار بلوچ اور پشتوں مسنگ برسنز کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ایک بڑی تعداد کے بارے میں لاعلمی کا بھی اظہار کیا ہے۔ شیعہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ کافی عرصے سے صرف ملک کی اندر زیر بحث رہا، لیکن صدر پاکستان کی رہائش پر دیئے گئے حالیہ دھرنے نے اس مسئلے کو عالمی شہرت دے دی۔ مظلوم شیعہ مسنگ پرسنز کی حمایت میں دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہوئے، جس سے پاکستان سے باہر بھی مختلف حلقوں کو اس بات سے آگاہی ہوئی کہ ایک مسلمان جمہوری ملک میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف سکیورٹی ادارے کس طرح کا غیر انسانی، غیر آئینی اور غیر قانونی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔

اگر دھرنے کو عالمی شہرت نہ ملی ہوتی تو نہ صرف یہ کہ پاکستانی حکومت کی دنیا بھر میں اتنی سبکی ہوتی بلکہ پاکستانی فوج کے ترجمان کے ٹوئٹر پر اتنی تشویش اور حیرانی کا اظہار بھی نہ کیا جاتا۔ پاکستانی فوج کو دنیا کی ایک انتہائی منظم اور مضبوط فوج نیز پاکستان میں ہمیشہ اقتدار کا سرچشمہ سمجھا جاتا ہے، اس کا ترجمان یہ کہہ رہا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کی کوششوں میں وہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ ان کے اس بیان سے بطاہر ایسا لگ رہا ہے کہ انہیں ان مسنگ پرسنز کی گمشدگی اور انہیں جہاں رکھا گیا ہے، کا کچھ علم نہیں اور وہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ مل کر انہیں ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔ اگر پاکستانی فوج کے ترجمان یعنی ٹوئٹر کے الفاظ میں پاکستانی فوج کو مسنگ پرسنز کے بارے میں کوئی علم نہیں تو اس فوج کی نااہلی پر پاکستانی قوم کو ماتم کرنا چاہیئے اور اگر سفید جھوٹ بولا جا رہا ہے تو جو فوج اپنی عوام کے ساتھ جھوٹ بولے کل عوام اس پر کیسے اعتماد کرے گی۔

اگر بالفرض اس بات کو مان لیا جائے کہ پاکستانی فوج کو لاپتہ افراد کے اغوا، ان پر ہونے والے مظالم اور ان کی لوکیشن کا واقعاً کوئی علم نہیں تو ایک ایسی تشویش سر اٹھاتی ہے، جس کا تصور بھی پاکستانی عوام کے لئے ناقابل یقین ہے۔ کیا پاکستان میں ایسا کوئی خود مختار ادارہ بھی موجود ہے، جو فوج کی مرضی اور اطلاع کے بغیر ہزاروں پاکستانی شہریوں کو اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیتا ہے؟ کیا یہ اداروں کی باہمی جنگ یا کسی بیرونی سازش کا شاخسانہ ہے؟ پاکستانی فوج نے اگر جلد اس بات کو واضح نہ کیا تو دشمن کے سامنے پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی ریت کی دیوار بن جائے گی، جس ملک کی سکیورٹی کے ادارے داخلی مسائل میں ایک پیج پر نہ ہوں، وہ دشمن کے مقابلے میں کس طرح ہم آہنگ و ایک صفحے پر ہوسکتے ہیں۔ خداوند عالم پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔آمین ثم آمین
خبر کا کوڈ : 793477
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب