0
Saturday 11 May 2019 10:45

پاکستان میں شیعہ زیر عتاب کیوں۔۔۔؟؟

پاکستان میں شیعہ زیر عتاب کیوں۔۔۔؟؟
تحریر: ابو فجر لاہوری

جنرل ضیاءالحق کے 1979ء میں نافذ کئے گئے زکواة و عشر آرڈیننس نے پاکستانی شیعہ کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑا دی، جس کے تحت زکوٰاة کی وصولی اور تقسیم، ریاست کا فریضہ قرار پائی اور تمام بینک اکاونٹس پر بھی اسے لاگو کر دیا گیا۔ حنفی اور شیعہ مذاہب میں زکواة کی وصولی اور تقسیم پر فقہی اختلافات موجود ہیں، لیکن ضیاءالحق نے یہ فرق نظر انداز کر دیا۔ اس پر احتجاج کرتے ہوئے شیعہ عالم دین مفتی جعفر حسین نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اور وفاق علماء شیعہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے حکومت کیخلاف تحریک کا آغاز کر دیا۔ اتفاق سے ہمسایہ ملک ایران میں آیت اللہ امام خمینی(رہ) شاہ ایران کا تخت الٹ کر اسلامی انقلاب برپا کرچکے تھے۔ پاکستان میں بھی شیعہ اس انقلاب سے تقویت محسوس کر رہے تھے۔ شیعہ طلباء تنظیم امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آئی ایس او) ایرانی انقلاب کو سپورٹ بھی کر رہی تھی۔ جب مفتی جعفر حسین نے 1979ء میں زکواة آرڈننس کو چیلنج کرنے کیلئے بھکر میں کنونشن بلایا تو آئی ایس او نے شیعہ کمیونٹی کو متحرک کرنے کیلئے نمایاں کردار ادا کیا۔

اسی کنونشن میں پاکستان میں شیعہ کمیونٹی کی نمائندہ جماعت "تحریک نفاذ فقہ جعفریہ" کی بنیاد رکھی گئی اور 5 جولائی 1980ء کو اپنے مطالبات کی منظوری کیلئے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے کنونشن کا اعلان کیا گیا۔ اس وقت تین شیعہ تنظیمیں آل پاکستان شیعہ کانفرنس، ادارہ تحفظ حقوق شیعہ اور شیعہ پولیٹیکل پارٹی بھی منظرِعام پر تھیں، لیکن یا تو یہ حکومت کیساتھ تھیں یا پھر زیادہ فعال نہیں تھیں۔ شیعہ قیادت کے خلا کو پُر کرنے کا یہ سنہری موقع تھا۔ خاص طور پر ایسے سیاسی ماحول میں جب دیگر مسالک کی مذہبی سیاسی جماعتیں سیاسی قومی منظر نامے پر اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔ 5 جولائی 1980ء کو اسلام آباد میں شیعہ کنونشن ہوا اور مطالبات منوانے کیلئے مرکزی سیکرٹریٹ کا گھیراو کر لیا گیا۔ حکومت مجبور ہوئی اور شیعہ طلباء کیلئے علیحدہ اسلامیات، زکواة و عشر سے چھوٹ اور دیگر مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔

اس دھرنے کو پاکستان میں شیعہ مخالف لابی کیلئے خطرے کی گھنٹی کے طور پر لیا گیا۔ تب سے ہی "خفیہ ہاتھ" فعال ہوگیا اور پاکستان میں تشیع کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے میں جُت گیا۔ خفیہ ہاتھ کو یہ کسی طور گوارا نہیں تھا کہ پاکستان میں شیعہ ایک قوت کے طور پر اُبھریں۔ اُس نے تشیع کی اس بڑھتی ہوئی قوت کو ایران کے انقلاب سے تعبیر کیا اور یہ سوچنے لگے کہ پاکستان میں شیعہ مضبوط ہوگئے تو ایران کا اسلامی انقلاب پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ انقلاب کا راستہ روکنے کیلئے اہل تشیع کے مدِمقابل فوری ردِعمل میں دیوبندی جماعت "جمعیت علمائے اسلام" اور بریلوی جماعت جمعیت علمائے پاکستان نے دو بڑی ''اہل سنت کانفرنسوں'' کا انعقاد کیا اور تشیع کی قوت کو ''سوادِ اعظم'' کیلئے بڑے خطرے کی گھنٹی کے طور پر پیش کیا۔ تین برس دیوبندی اور بریلوی جماعتیں اس مسئلے پر غور کرتی رہیں۔ آخر 1983ء میں کراچی سے مولانا سمیع اللہ اور مولانا اسفند یار نے دیوبندی تنظیم سواداعظم اہلِسنت کانفرنس کا ڈول ڈال دیا۔

سعودی عرب بھی پاکستان میں بڑھتی ہوئی شیعی قوت کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہا تھا۔ سعودی عرب نے بھی باقاعدہ ضیاء الحق کو ایران کے اسلامی انقلاب کے نفوذ کا خوف دلا کر شیعت کی سرکوبی کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ مالی امداد کی بھی یقین دہانی کروائی اور فراہم بھی کی۔ ادھر عراق کی ایران کیساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا تھا اور ''سواد اعظم اہلسُنت'' کی صورت میں اسے پاکستان میں مبینہ ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرنے کا موقع ملا۔ 1985ء میں پنجاب میں ابھرنے والی انجمن سپاہ صحابہ کے امیر مولانا حق نواز جھنگوی جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے نائب امیر تھے اور پنجاب میں ان کی شہرت بریلوی مسلک کیخلاف زبردست مقرر کی تھی۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ سپاہ صحابہ کی تشکیل کے وقت حق نواز جھنگوی جمعیت علمائے اسلام کے رکن کی حیثیت سے تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) میں بھی پیش پیش رہے اور ان کی فرقہ وارانہ حریف تحریک نفاذ فقہ جعفریہ بھی اس تحریک کا حصہ تھی۔

یوں سپاہ صحابہ خفیہ ہاتھ کی جانب سے شیعوں کے مدمقابل کھڑی کر دی گئی۔ انجمن سپاہ صحابہ نے صحابۂ کرام کی حرمت کو اپنا "ماٹو" بنایا۔ صحابہ مخالف فرضی شیعہ لڑیچر کیخلاف مہم اور پاکستان میں ایرانی طرز کے ''شیعہ انقلاب'' کا رستہ روکنے سمیت "پاکستان میں خلافت راشدہ کے نظام کا نفاذ، پاکستان کو سُنی سٹیٹ قرار دینا۔ جن کتب میں صحابہ کرام کی توہین کی گئی ان پر پابندی کا مطالبہ۔ جو شیعہ ذاکرین اور علماء صحابہ پر تبرا کرتے ہیں، ان کو سزا دینے کا مطالبہ" سامنے آیا۔ سپاہ صحابہ کی قیادت نے اس ماٹو کے تحت پورے ملک میں اہل تشیع کیخلاف بھرپور تحریک چلا دی۔ اس تحریک کو خفیہ ہاتھ کی ہر حوالے سے حمایت حاصل رہی اور ہنوز جاری ہے۔

سپاہ صحابہ کی تحریک نے مذکورہ بالا مقاصد کے تحت زور پکڑا اور ضلع جھنگ اس کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ جھنگ میں اس تحریک نے طبقاتی تصادم کی صورت اختیار کر لی، جہاں بڑے شیعہ زمینداروں اور سُنی کاروباری طبقے کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے تھے۔ دونوں طبقوں کے علاوہ جرائم پیشہ گروہوں کے بھی علاقے میں اپنے مفادات تھے اور ان کے تحفظ کیلئے انہوں نے فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا۔ کچھ تجزیہ نگار سپاہ صحابہ کی تشکیل کو جنرل ضیاء الحق کی ''پیپلز پارٹی مخالف'' پالیسی کا حصہ بھی قرار دیتے ہیں کہ اس نے پیپلز پارٹی کی قوت کو کمزور کرنے کیلئے سندھ میں لسانی اور پنجاب میں فرقہ وارانہ تنظیموں کی سرپرستی کی گئی۔ ضیاء الحق ایران میں اپنے ''امریکی پٹھو'' کے امیج، اسلام آباد معاہدے اور شیعہ تنظیموں کی مخالفت سے بھی پریشان تھا۔

اس کے علاوہ افغان سوویت جنگ نے بھی اہم عامل کا کردار ادا کیا، جہاں وہابی اور دیوبندی تنظیموں کو جہاد کیلئے سرکاری سرپرستی حاصل تھی، جس کے باعث دیوبندی اور وہابی فرقہ وارانہ تنظیموں کو بھی عسکری تربیت کے علاوہ سعودی عرب اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی مالی، اخلاقی اور سیاسی مدد حاصل ہوئی۔ جیسے جیسے فرقہ وارانہ تنظیموں کو اندرونی، بیرونی وسائل اور حمایت میسر آتی گئی، فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوتا گیا۔ شیعہ، سُنی علماء اور رہنمائوں کے قتل کے واقعات تیزی سے بڑھنے لگے۔ ضلع جھنگ فرقہ وارانہ فسادات کا مرکز بن گیا۔ جہاں 1986ء سے 1989ء کے دوران 3 سو افراد فرقہ وارانہ دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ یہاں تک کہ اگست 1988ء میں تحریک جعفریہ کے سربراہ علامہ عارف حسین الحسینی کو بھی پشاور میں شہید کر دیا گیا۔

فرقہ وارانہ کشیدگی میں اہم موڑ اس وقت آیا، جب دسمبر 1989ء میں حق نواز جھنگوی کو مبینہ طور پر ان کے ہی آدمیوں نے قتل کر دیا، اس قتل کا الزام بھی مخالف فرقے پر عائد کیا گیا، جس نے فرقہ وارانہ تشدد کی ایسی لہر کو جنم دیا، جو آج تک تھمنے میں نہیں آرہی۔ شیعہ تنظیموں نے علامہ عارف الحسینی کے قتل کی ذمہ داری امریکہ اور حکومتِ وقت پر ڈالی جبکہ سپاہ صحابہ نے اپنے رہنما کے قتل کا ذمہ دار ایران اور جھنگ کے شیعہ جاگیرداروں کو ٹھہرایا۔ اسلام آباد میں شیعہ کنونشن، سپاہ صحابہ کی تشکیل، افغان سوویت جنگ میں دیو بندی اور وہابی گروہوں کی سرکاری سرپرستی، ضیاء الحق کی پالیسیوں اور بیرونی قوتوں کی فرقہ وارانہ تنظیموں کی سرپرستی، یہ وہ چیدہ چیدہ فیکٹر ہیں، جو تشیع مخالف سوچ کو تحریک دینے کا سبب بنے۔

ابتداء میں اس کا مرکز پنجاب، لیکن آہستہ آہستہ اس کا پھیلائو بڑھتا گیا اور مقامی عوامل بھی اس میں شامل ہوتے گئے۔ 1986ء افغان مجاہدین کے چند گروہوں نے فوجی حکومت سے شکایت کی کہ انہیں کرم ایجنسی میں پارا چنار کے قبائلی علاقوں سے افغانستان میں آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے، یہاں شیعہ طوری قبائل آباد ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق فوجی حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ افغان مجاہدین کو کھلی اجازت دی جائے کہ وہ اپنے طور پر طوری قبائل سے معاملے کو حل کر لیں۔ اس کے نتیجے میں دونوں فریقین میں تصادم شروع ہوگیا، جس میں 500 سو سے زائد طوری قبائلی شہید کر دیئے گئے اور کروڑوں کا مالی نقصان الگ ہوا۔ اس دوران حکومت نے قطعی مداخلت نہیں کی۔ اِسی طرح 1988ء میں سُنی مظاہرین نے گلگت میں 150 شیعہ شہید کر دیئے۔ فرقہ وارانہ تنظیموں نے حکومت کی پشت پناہی پر دائرہ کار کو وسیع کیا اور کوئٹہ میں 100 سے زائد افراد کو شہید کر دیا گیا۔

پنجاب میں بھی سلسلہ دراز ہوا، جس میں اہلحدیث علماء علامہ احسان الہٰی ظہیر (1986ء) اور مولانا حبیب یزدانی(1987ء) قتل ہوئے۔ تحریک جعفریہ کے علامہ عارف الحسینی (1988ء) اور سپاہ صحابہ کے حق نواز جھنگوی (1989ء) اور 1990 میں ایرانی قونصل جنرل صادق گنجی کو قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق 1980ء کی دہائی کے وسط میں جو ٹارگٹ کلنگ ہوئی، ان کے مطابق 1987ء اور 1989 کے درمیانی 3 برسوں میں پنجاب میں تشدد کے 102 واقعات ہوئے، جن میں 22 افراد ہلاک اور 263 شدید زخمی ہوئے۔ لیکن 1990ء میں یہ رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا۔ 274 واقعات میں 32 افراد مارے گئے، جبکہ 528 شدید زخمی ہوئے۔ فرقہ واریت مسلسل بڑھتی رہی اور 1997ء تک پنجاب میں 2 سو افراد اس کا نشانہ بنے۔ ٹارگٹ کلنگ کا یہ سلسلہ ضیا دور سے شروع ہوا اور مختلف ادوار میں بھی جاری رہا اور ہنوز جاری ہے۔ اس تصادم کا سب سے زیادہ نقصان پاکستانی شیعوں کا ہوا۔ خفیہ ہاتھ مختلف حربوں سے اہل تشیع کو توڑنے میں مصروف رہا۔

ایک طرف سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کو ٹاسک دیا گیا تھا۔ اس مقصد کیلئے امریکہ براہ راست اس خفیہ ہاتھ کیساتھ مالی تعاون کر رہا تھا۔ ایرانی انقلاب کا راستہ روکنے کیلئے پاکستان میں امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں ایک بیج پر تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک جعفریہ کی قوت کو توڑنے کیلئے اس کا شیرازہ بکھیر دیا گیا۔ پاکستان میں تشیع کی مضبوط قوت شیعہ طلبہ تنظیم آئی ایس او اور تحریک جعفریہ میں اختلافات کروا دیئے گئے۔ یوں اہل تشیع کی مضبوط قوت کا شیرازہ ایسا بکھرا کہ قوم ابھی تک نہیں سنبھل پائی۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اب ولایت اور نصیرت و غالیت کے عنوانات سے تصادم کو ہوا دی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اہل تشیع کو خفیہ ہاتھ آج بھی مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے۔ اب بھی ضیاء کی باقیات یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان میں اہل تشیع مضبوط ہوگئے تو انقلاب اسلامی کا راستہ بن جائے گا۔ انہیں یہ خدشہ ہے کہ پاکستان ایک شیعہ سٹیٹ بن جائے گی۔ جس کیلئے آج تک پاکستان میں پاکستان بنانے والوں پر زمین تنگ رکھی ہوئی ہے۔ یہ قتل ہوں یہ اغواء کر لئے جائیں، سکیورٹی ادارے ٹس سے مَس نہیں ہوتے۔ اگر تھوڑا بہت ریلیف ملتا بھی ہے تو عالمی دباو پر ملتا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا میں ان کی آواز اٹھنے پر حکومت اور ادارے مجبور ہو جاتے ہیں، بصورت دیگر پاکستانی میڈیا بھی امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔ اس وقت ملت تشیع پاکستان تقسیم ہے۔ مختلف گروہوں میں بٹے ہونے کے باعث بھی یہ زیر عتاب ہیں۔ خفیہ ہاتھ انہیں متحد ہونے کا موقع ہی نہیں دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ ان کا باہمی انتشار ہی ان کی ناکامی کا سبب ہے۔ جس دن یہ قوم متحد ہوگئی پاکستان کی تاریخ بدل جائے گی، مگر خفیہ ہاتھ ایسے ہونے نہیں دے گا۔ یہ قوم اسی طرح ہی زیر عتاب رہے گی۔ جب تک امریکہ اور سعودی عرب کا ایران کیساتھ معاملہ حل نہیں ہوتا، پاکستان میں شیعہ ٹارگٹ ہوتے رہیں گے۔ کیونکہ امریکہ کی پالیسی ہی یہی ہے کہ ایران سے خوفزدہ کرکے سنی ریاستوں کو اپنا دستِ نگر بناتا ہے، یہ مشق سعودی عرب میں دوہرائی گئی اور یہی کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب کی طرح پاکستان بھی ایران کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی مفروضہ ملت جعفریہ پاکستان کیلئے خطرناک ہے۔
خبر کا کوڈ : 793511
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب