0
Saturday 11 May 2019 14:32

امریکہ کی سرد اور گرم پھونکیں

امریکہ کی سرد اور گرم پھونکیں
تحریر: ثاقب اکبر
 
ایران کے خلاف بے تحاشہ ہوش ربا روز افزوں پابندیاں ایک طرف، نئے نئے فوجی اقدامات دوسری طرف اور بات چیت کے لیے بے قراری کا اظہار تیسری طرف، ہاں یہ سب کچھ امریکہ کی طرف سے جاری ہے اور ایسی کرامات امریکہ ہی کرسکتا ہے اور وہ بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں۔ ایک سال پہلے امریکہ عالمی جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پر نکل گیا۔ جسے اقوام متحدہ کی بھی تائید و حمایت حاصل ہوچکی تھی اور جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی مسلسل یہ کہہ رہی تھی کہ ایران اس معاہدے پر پوری طرح سے عملدرآمد کر رہا ہے، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کو لگتا تھا کہ یہ معاہدہ ایران کے لیے زیادہ تقویت کا باعث بن گیا ہے۔ یہ بات کوئی ایسی غلط بھی نہ تھی، لیکن یہ تو وہی معاہدہ تھا، جس کے لیے ایران کو قائل کرنے کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور صدر اوباما خوشی کا اظہار کر رہے تھے کہ گویا انہوں نے ایران کی مُشکیں کس دی ہیں اور اُسے اس معاہدے کے ذریعے سے ہلنے جلنے سے محروم کر دیا ہے۔

دوسری طرف ایران کی جی ڈی پی میں اضافہ 12 فیصد سے زیادہ دیکھا گیا۔ ملٹی نیشنلز نے ایران میں سرمایہ کاری کا بے خوف آغاز کر دیا۔ اس دوران میں ایران اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو بھی ترقی دیتا رہا۔ خطے میں ایران کی تزویراتی پیشرفت بھی جاری رہی اور مشرق وسطیٰ میں اسرائیل، امریکہ اور اس کے حواریوں کے منصوبوں کو شکست دینے میں بھی ایران نمایاں کردار ادا کرتا رہا۔ اس ساری صورت حال کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان الفاظ میں بیان کیا کہ ’’ایران کے ساتھ کیا گیا جوہری معاہدہ امریکہ کی تاریخ کا بدترین معاہدہ تھا۔‘‘ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ کے یورپی اتحادی اب بھی اس معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں۔ روس اور چین کی بھی اس معاہدے کو حمایت حاصل ہے۔ البتہ امریکہ کے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران کے لیے معاشی مشکلات میں المناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کی تیل کی ترسیلات کم ہوگئی ہیں، ملکی آمدنی پر اس کی مہلک ضرب لگی ہے اور ملٹی نیشنلز نے ایران سے پَر پرزے سمیٹے شروع کر دیئے ہیں۔

امریکہ کی طرف سے تیل اور گیس کی خریداری کے سلسلے میں جو چند ملکوں کو استثناء دیا گیا تھا، وہ بھی چند روز پہلے امریکہ نے ختم کر دیا اور ایرانی معیشت پر ایک اور ضرب لگائی۔ اس موقع پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کے لیے وہ موقع آگیا ہے کہ جس کو ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کہتے ہیں۔ اس سوال کا جواب اگرچہ اتنا آسان نہیں، لیکن معاملہ اس کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ خود جس طرح کے جنگی اقدامات کر رہا ہے، وہ اس کی نیت کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہونا چاہیئے۔ اس سلسلے میں امریکہ کے چند جنگی اقدامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ اس نے 5 مئی کو امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہام لنکن کو آبنائے ہرمز کی طرف بھجوانے کا اعلان کر دیا۔ امریکی فوج کے ایک کمانڈر جیمز مالوی نے اعلان کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کی فوجیں آبنائے ہرمز سے گزریں گی اور امریکہ کے لیے مغربی ایشیاء میں کہیں بھی بحری بیڑا بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں۔

امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے بھی کہا ہے کہ واشنگٹن نے خلیج فارس میں اپنے مفادات کے لیے B-52 بمبار طیاروں کو بھی قطر کے العدید ایئر بیس کے لیے روانہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ خطے میں پہلے ہی امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا موجود ہے اور طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن اس کا حصہ بنے گا۔ یہ تو گرم پھونکوں کے نمونے ہیں، لیکن سرد پھونکوں کا سلسلہ بھی جاری ہے، چنانچہ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے ایران کے خلاف اپنے دعووں کو دہراتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا۔ صدر ٹرمپ نے بھی ایران سے مذاکرات کے لیے گذشتہ جمعرات (9مئی 2019ء) اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اس کے بعد وہ اس ملاقات کے لیے اتنا سنجیدہ اور بے چین دکھائی دیتے ہیں کہ CNN نے سفارتی ذرائع سے خبر دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی حکام سے ملاقات کی پیش کش کے بعد اب ان کی طرف سے ایک خصوصی ٹیلیفون نمبر سویٹزر لینڈ کے حوالے کیا گیا ہے، تاکہ وہ یہ نمبر تہران کو دے سکے۔

اس سفارتی ذریعے نے یہ بھی کہا ہے کہ توقع یہی ہے کہ سویٹزرلینڈ ایران کو یہ نمبر خود سے نہیں دے گا، مگر یہ کہ ایرانی حکام معین طور پر اس نمبر کے حصول کی خواہش  کریں، لیکن ظاہراً بہت بعید ہے کہ ایرانی ایسا کریں۔ یاد رہے کہ امریکہ کے ایران سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور اس کے مفادات کی تہران میں نگرانی سویٹزرلینڈ کا سفارتخانہ کرتا ہے۔ ایران کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندے مجید تخت روانچی نے صدر ٹرمپ کی ایران سے مذاکرات کی تجویز پر کہا ہے کہ امریکی صدر پہلے اس بات کا جواب دیں کہ اس سے پہلے انہوں نے مذاکرات کی راستہ کیوں ترک کیا۔ ثانیاً اس کی کیا ضمانت ہے کہ آئندہ ایران امریکہ مذاکرات کے بعد امریکہ وعدہ خلافی نہیں کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے بھی کہا ہے کہ مذاکرات کا راستہ ہم نے ترک نہیں کیا۔ ہم تو اب بھی دیگر اراکین کے ساتھ جوہری معاہدے پر باقی ہیں۔
 
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک عرصے سے یہ امید ہے کہ ان کے اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کے نتیجے میں ایک دن ایران کے عوام گلی، کوچوں، سڑکوں اور چوراہوں پر نکل کھڑے ہوں گے، موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، امریکہ کو مدد کے لیے پکاریں گے اور پھر اس وقت امریکہ ایرانی عوام کا نجات دہندہ بن کر آسمان، زمین اور پانیوں سے داخل ہو جائے گا اور خطے میں ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔ امریکہ اس سے پہلے کئی ملکوں میں نجات دہندہ بن کر داخل ہوچکا ہے، لیبیا اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ شام کی مثال بھی پیش کی جاسکتی ہے اور عراق بھی کوئی دور نہیں ہے۔ امریکہ یمن کے عوام کو نجات دلانے کے لیے ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سرپرستی کر رہا ہے۔ سوڈان کے لوگوں کو بھی ایک آمر سے نجات دلا کر دوسرے آمر کے حوالے کرنے میں امریکہ کی انسان دوستی شامل ہے۔ زیادہ دور کی بات نہیں، مصر میں بھی امریکہ منتخب حکومت سے مصری عوام کو نجات دلا کر فوجی جنتا کے حوالے کر چکا ہے اور علاقے کے ملوک کی طرف سے فوجی جنتا کی بڑے پیمانے پر مالی امداد بھی کروا چکا ہے:
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
 
دوسری طرف ایران ہے کہ جھکنے کو تیار نہیں۔ ابھی کل ہی بروز جمعہ ایران کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں عوام نے اپنی حکومت کی حمایت میں اور امریکہ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے۔ وہ مردہ باد امریکہ اور مردہ باد اسرائیل کے نعرے لگا رہے تھے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان نعروں سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خواب چکنا چور ہو رہے ہوں۔ ان کی خواہش تو یہ ہے کہ نعرے ایران کی حکومت کے خلاف لگنا شروع ہوں:
ہزاروں خواہشیں ایسی کے ہر خواہش پہ دم نکلے
ایران پہلے ہی اعلان کرچکا ہے کہ اگر اس کے پانیوں سے اس کا تیل نہ گزر سکا تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا، جہاں سے دنیا کا چالیس فیصد تیل برآمد کیا جاتا ہے۔ تمام تر نئی امریکی فوجی تعیناتیاں ایران کی اسی دھمکی کے پیش نظر ہیں۔
 
دنیا بھر کے ماہرین یہ سوچ رہے ہیں کہ ایران کس طرح سے امریکہ کا مقابلہ کرسکے گا، لیکن 1979ء کے کامیاب انقلاب کے بعد سے دنیا نے ایسا کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ امریکی طاغوت سرنگوں ہوا اور اس کے اقدامات رسوائی پر تمام ہوئے۔ جب امریکہ نے ایک خاص فضائی مشن کے ذریعے امام خمینی کی رہائش گاہ پر حملے کے لیے اپنے طیارے بھیجے تو وہ طبس کے صحرا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے اور آنکھوں والوں کے لیے سامان عبرت بن گئے، اس وقت کے امریکی صدر نے بے ساختہ کہا تھا کہ اس وقت خدا ایران کے ساتھ تھا۔ لگتا یہ ہے کہ اب پھر اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھ رہی ہے۔ امریکہ کے حال ہی میں عراق اور شام میں منصوبوں کا جو حشر ہوا، وہ بھی پوری دنیا کے سامنے ہے۔ امریکی خیموں سے نکلنے والا عفریت ’’داعش‘‘ عراق اور شام کے بہت بڑے رقبے پر اپنی حکومت قائم کر چکا تھا، لیکن یہ وحشت ناک عفریت سمٹ چکا ہے۔

مختلف ذرائع سے اسے پھر سے حوصلہ دے کر نکالنے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن جن قوتوں نے پہلے اس کی اتنی بڑی حکومت کا خاتمہ کیا ہے، وہ بیدار بھی ہیں اور میدان میں بھی۔ اگر عام حالات کے مطابق جمع و تفریق کی جائے تو ایران کا امریکہ سے ٹکرائو ممولے کا شہباز سے ٹکرائو ہی کہلا سکتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ دیکھنے میں شہباز ہے اور دل اس کا ممولے کا سا ہے، جبکہ ایران اگرچہ امریکہ کے مقابلے میں ایک کمزور ملک ہے، لیکن شہادت کی طلب رکھنے والوں کو کون شکست دے سکتا ہے۔ یہ صورت حال امریکہ کے بھی سامنے ہے اور امریکہ سے زیادہ خطے میں اس کے دوست ممالک کسی انہونی سے خوفزدہ ہیں۔ ڈرے ہوئے لوگ اور سہمی ہوئی قیادتیں شیر دل جانبازوں کا مقابلہ کیسے کریں گی کہ جو حق پر بھی ہوں اور سینے میں ایمان بھی رکھتے ہوں۔
خبر کا کوڈ : 793604
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب