0
Sunday 12 May 2019 04:44
ڈی ایس پی (ر) پرویز بٹ کا بیٹا نیٹ ورک کا سربراہ۔۔؟

چینی گروہ کے چنگل سے بھاگ نکلنے والی پاکستانی لڑکی کے ہوشربا انکشاف

ایک ہزار سے 1200 پاکستانی لڑکیاں چین منتقل، 300 سے زائد مسلمان
چینی گروہ کے چنگل سے بھاگ نکلنے والی پاکستانی لڑکی کے ہوشربا انکشاف
تدوین و ترتیب: آئی اے خان

چینی شہریوں کی جانب سے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کرنے اور ان پر ظلم ڈھانے کے کئی واقعات حال ہی میں سامنے آئے ہیں، جو باعث تشویش ہیں کہ کس طرح چینی باشندے پاکستانی لڑکیوں سے جعلی شادیاں کرکے انہیں اپنے ساتھ چین لے جاتے ہیں اور وہاں انہیں جسم فروشی اور اعضا فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اب تک لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد، پشاور سمیت ملک کے چند دیگر شہروں سے ایسے چینی افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، جو پاکستانی لڑکیوں کو شادی کے نام پہ چین منتقل کرنے کے بعد وہاں انہیں اعضاء اور جسم فروشی پہ مجبور کرتے تھے۔ ان میں سے متعدد لڑکیوں نے فرار ہوکر چین میں موجود پاکستانی سفارتخانے تک رسائی حاصل کی اور بعد ازاں قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد درجن بھر سے زائد لڑکیوں کو پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے واپس پاکستان منتقل کیا جا چکا ہے۔

یکے بعد دیگرے یہ واقعات سامنے آنے کے بعد ایف آئی اے نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ان گروہوں کے خلاف کریک ڈاون کیا۔ ایف آئی اے نے اسلام آباد سے جن چینی شہریوں کو گرفتار کیا، ان میں 2 خواتین بھی شامل تھیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ملزمان کو سیکٹر ای الیون سے گرفتار کیا گیا تھا، جن سے ایف آئی اے کی حراست کے دوران پوچھ گچھ کی گئی اور اس تفتیش میں کئی اہم انکشافات ہوئے۔ پولیس کے مطابق فیصل آباد میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے والا چینی باشندہ شادیاں کرانے کے نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق چینی شخص مسٹر زیون کی بیوی اور والد نے چین میں میرج بیورو بنایا ہوا ہے، شادی کے عوض یہ گروہ چینی افراد سے 18 سے 35 لاکھ روپے وصول کرتا ہے۔ زیون مقامی ایجنٹوں کو 50 ہزار روپے تک دیتا تھا، اس گروہ نے فیصل آباد کی رہائشی 18 لڑکیوں کی شادی چینی لڑکوں سے کرائی، جبکہ ان اٹھارہ لڑکیوں سے رابطے کیلئے ادارے کوشش کر رہے ہیں۔

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے کارروائی کرتے ہوئے فیصل آباد کے علاقے ایڈن گارڈن میں کرائے کی کوٹھی میں مقیم غیر قانونی شادیوں میں ملوث گینگ کے مزید دو ارکان گرفتار کیے۔ میڈیا ذرائع  کے مطابق گرفتار دونوں چینی باشندوں کو ایف آئی اے کی حوالات میں منتقل کیا گیا۔ ایف آئی اے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار چینی باشندوں سے تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات بھی سامنے  آنے کی توقع ہے۔ قبل ازیں ایف آئی اے نے اسلام آباد انٹر نیشنل ائیرپورٹ سے 2 چینی لڑکے اور 3 پاکستانی لڑکیاں بھی گرفتار کیں۔ گرفتار افراد خود کو شادی شدہ ظاہر کرکے چین جا رہے تھے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق دو چینی لڑکوں اور تین پاکستانیوں لڑکیوں سے تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ گرفتار چینی پاکستانی خواتین کو سمگل کرکے چین لے جا رہے تھے۔ گرفتار افراد میں دو چینی لڑکے اور تین پاکستانی لڑکیاں شامل ہیں۔ تمام ملزمان کو ایف آئی اے نے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل منتقل کیا گیا۔ دوسری طرف فیصل آباد سے گرفتار کئے گئے 22 چینی باشندوں کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

فیصل آباد کی مقامی عدالت نے گرفتار چینی باشندوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ 22 چائینیز 2 پاکستانی افراد کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔ چین نے پاکستانی لڑکیوں سے شادی کے معاملے پر گرفتار افراد کے خلاف کارروائی کی حمایت کی تھی۔ چینی سفارتخانے نے کہا ہے کہ کسی کو بھی کراس بارڈر شادی کے لبادے میں جرائم کے ارتکاب کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے۔ چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ چین قانونی شادیوں کے تحفظ اور جرائم کے خاتمے کا حامی ہے۔ چین میں ان خواتین میں سے کسی سے جبری غیر اخلاقی کام نہیں کرائے گئے۔ خواتین کے جسمانی اعضاء کی سمگلنگ سے متعلق میڈیا پر آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام افواہوں پر کان نہ دھریں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارت پبلک سکیورٹی نے پاکستانی حکام سے تعاون کیلئے ٹاسک فورس پاکستانی بھیجی ہے۔ چین دوطرفہ تعلقات اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں پاکستان کیساتھ تعاون کو مزید وسیع کرے گا۔

شادی کے نام پہ چین منتقل کی جانے والی پاکستانی لڑکیوں کو کن مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے، اس حوالے سے چینی باشندے کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہونے والی فیصل آباد کی رہائشی ایک لڑکی مہک نے ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔ میڈیا سے خصوصی گفتگو میں مہک نے بتایا کہ میرے خاندان میں ایک لڑکی کی چینی باشندے سے شادی ہوئی تھی، وہاں کافی زیادہ چینی لوگ آئے ہوئے تھے، اُن میں سے ایک نے مجھے وہیں پسند کیا۔ انس بٹ نامی ایک لڑکے نے رشتہ داروں سے ہی ہمارا نمبر لے کر میرے والدین کو کال کی۔ مہک نے بتایا کہ انس نے ہمیں پوری یقین دہانی کروائی کہ چینی باشندہ کرسچن ہے اور وہ کاروبار کرتا ہے۔ ہمیں ان کی تصاویر بھی دکھائی گئیں۔ میرے والدین نے رشتہ داروں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی فراڈ نہیں ہے، کیونکہ ہم نے بھی اپنی بیٹیوں کی شادیاں کی ہیں۔ انس نے ہی مجھے میڈیکل کے لیے بلایا اور کہا کہ ہمیں جلد از جلد شادی کروانا ہوگی، کیونکہ پھر چینی باشندے واپس چلے جائیں گے۔

میرے گھر والوں نے مزاحمت کی کہ اتنی جلدی شادی نہیں ہوسکتی، جس پر انس نے یہ کہہ کر میرے اہل خانہ کو یقین دہانی کروائی کہ آپ کسی بات کی ٹینشن نہ لیں۔ سب اخراجات ہم برداشت کریں گے، جس پر میں نے بھی اپنے گھر والوں سے کہا کہ آپ شادی کرنے دیں، میرے گھر والوں نے مجھ پر کوئی زبردستی نہیں کی، جو کچھ بھی ہوا میری اپنی مرضی سے ہوا۔ مجھے شادی کے بعد پتہ چلا کہ جس شخص سے میری شادی ہوئی، وہ فالج کا شکار تھا اور اس کا بایاں ہاتھ بالکل کام نہیں کرتا تھا، جبکہ اس کی دماغی حالت بھی ٹھیک نہیں تھی۔ میرے شوہر کے جسمانی نقص کے بارے میں بھی مجھ سے جھوٹ بولا گیا تھا۔ شادی کے بعد میں لاہور آگئی، جس کے بعد میرے چینی شوہر نے مجھے بھٹی چوک میں ایک گھر میں رکھا، جہاں مجھ سمیت آٹھ لڑکیاں رہتی تھیں۔ انہوں نے تین گھر لے رکھے تھے۔ شادی کے بعد مجھے پتہ چلا کہ یہ کرسچن بھی نہیں ہے، کیونکہ وہ ایسی کوئی عبادت نہیں کرتا تھا جو ہم کرتے ہیں۔

میں نے اس سے اس بارے میں سوال کیا، جس پر اُس نے کہا کہ مجھے صرف اتنا پتہ ہے کہ میں نے بائبل پر ہاتھ رکھ کر تم سے شادی کی ہے، اس کے علاوہ مجھے کچھ نہیں پتہ۔ مہک نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں اس کے ساتھ ناشتے کے لیے گئی تو پیسے مانگنے پر اس نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔ چین میں موجود میری سہیلیوں نے مجھے بتایا کہ یہاں مت آنا، یہ لوگ لڑکیوں کا غلط استعمال کرتے ہیں اور انہیں جسم فروشی پر مجبور کرتے ہیں۔ سماجی رہنما سلیم اقبال نے اس حوالے سے انکشاف کیا کہ مہک نے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ اس کام میں ریٹائرڈ ڈی ایس پی پرویز بٹ کا بیٹا انس بٹ اس گینگ کا سرغنہ تھا۔ چونکہ اس میں بہت پیسہ ہے، اسی لیے کافی لوگ اس میں شامل ہوتے گئے۔ اب تک تقریباً ایک ہزار سے 1200 لڑکیوں کی شادی ہوچکی ہے، جس میں سے 300 کے قریب لڑکیاں مسلمان تھیں۔

ملک کے مختلف شہروں سے جتنی تعداد کے ساتھ یہ کیسز سامنے آرہے ہیں، ان سے پاکستان کی چین سے متعلق ویزہ پالیسی پہ کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ اس سے قبل یہ انکشاف ہوا کہ سی پیک کی تعمیر کے سلسلے میں چینی لیبر درحقیقت چینی قیدیوں پہ مشتمل ہے۔ پھر آن لائن ڈکیتی بالخصوص موبائل فون کے ذریعے لوگوں سے معلومات لیکر ان کے بینک اکاونٹس سے رقم چرانے کے معاملات میں بھی چینی افراد ملوث پائے گئے، جبکہ مساج سنٹرز اور دیگر شعبوں میں بھی ان کی منفی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ چین سے متعلق اپنی ویزہ پالیسی پہ نظرثانی کرے اور ویزے جاری کرنے سے قبل یہ اطمینان کرے کہ متعلقہ درخواستگزار کن مقاصد کے تحت ملک میں وارد ہو رہا ہے اور پھر پاکستان آمد کے بعد ان کی سرگرمیوں پہ نظر رکھے۔
خبر کا کوڈ : 793700
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب