1
Monday 13 May 2019 01:43

مدارس دینیہ کی اہمیت، موجودہ صورتحال اور ایک اتمام حجت

مدارس دینیہ کی اہمیت، موجودہ صورتحال اور ایک اتمام حجت
تحریر: ملک محمد اشرف
malikashraf110@gmail.com

دین اسلام کی تعلیم اور مساجد
پیغمبر اکرم (ص) نے عرب کے مشرک معاشرہ کے اندر اللہ کی توحید، اپنی نبوت و رسالت اور آخرت کے عقیدہ سے لوگوں کے دلوں کو منور کیا، قرآن مجید کی نورانی آیات نے لوگوں کے کردار و عادات کو بدل کر رکھ دیا۔ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد ان کی عترت اہلبیت اور اصحاب کرام نے بھی لوگوں تک دین مبین اسلام کے سنہری اصول پہنچائے۔ دین مبین اسلام کی تعلیم کا یہ سلسلہ پیغمبر اکرم (ص) اور معصومین (ع) کے زمانے میں زیادہ تر مساجد میں ہوا کرتا تھا۔ بعد میں مساجد کے ساتھ ساتھ علیحدہ طور پر مدارس میں معارف دینیہ کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔

دین اسلام کی تعلیم اور مدارس دینیہ
ماضی میں دین اسلام کی تعلیمات (قرآن مجید اور احادیث معصومین) کا مرکز مدارس دینیہ رہے ہیں اور اب بھی اگر دین اسلام کی روشنی کی کرنیں اگر جہان کو منور کر رہی ہیں تو وہ ان مدارس دینیہ ہی کی بدولت ہے۔ ان مدارس کی بقاء کا سبب علماء دین ہیں، جنہوں نے ہر قسم کی قربانی اور ایثار کا ثبوت دے کر ان میں تعلیم دین کا سلسلہ باقی رکھا ہوا ہے۔ مختلف ادوار کے اندر شیطان اور اس کے چیلے دین اسلام میں مختلف فتنے ایجاد کرتے رہے لیکن مدارس اور علماء کرام نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، قرآن مجید کی آیات، پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث اور معصومین (ع) کی سیرت سے حاصل ہونے والی تعلیمات کی صحیح ترجمانی کرکے حقائق کو من و عن ہر زمانے کے لوگوں تک پہنچایا۔ یہ مدارس دینیہ ہی ہیںو جن سے علماء اعلام تعلیم حاصل کرکے معاشرہ سے ہر قسم کے الحاد و انحراف کا مقابلہ کرتے ہیں۔

مدارس کے ہی تعلیم یافتہ علماء ہوتے ہیں، جو صرف سطحی حد تک نہیں بلکہ گہرائی کی حد تک معارف دین سے آشنائی حاصل کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کو دین اسلام اپنی جان سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ مدارس سے تعلیم یافتہ علماء ہی ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ فرماتا ہے کہ یہ سوائے اس کے کسی سے ڈرتے نہیں ہیں۔ ان مدارس سے ہی تعلیم یافتہ علماء ہی ہیں کہ جن کی شان اور فضیلت کو ہر انسان کے وجدان اور ضمیر کے اندر رکھ کر یہ بتایا ہے کہ علماء اور غیر علماء آپس میں برابر نہیں ہیں۔ ان لوگوں کو اسلام اور اسلام کے قوانین سے بی پناہ محبت ہوتی ہے، جب بھی باطل قوتوں نے اسلامی اصولوں پر وار کیا یا قرآن و احادیث کی غلط تشریح کی تو یہی مدارس اور علماء ہی ہیں، جنہوں نے ان کے باطل پروگراموں کو ناکام اور قوم و ملت کو دشمن کی سازشوں سے آگاہ کیا۔

مدارس دینیہ کی اہمیت
اگر مدارس دینیہ نہ ہوتے تو قرآن اور احادیث کو سمجھنا تو کجا ان کو کوئی پڑھنے والا نہ ہوتا، اسلام کا کلمہ پڑھنے والے تو ہوتے لیکن عقائد حقہ سے اپنے قلوب کو منور کرنے والے اور اعمال صالحہ جو قرآن و حدیث میں ذکر ہوئے ہیں، ان کو بجا لانے والا کوئی نہ ہوتا۔ اگر مدارس دینیہ نہ ہوتے تو لوگ مختلف قسم کی غلط رسوم اور من گھڑت بدعات کو اپنا دین بنا لیتے۔ جو لوگ مدارس اور علماء حقہ سے دور ہیں، ان کے عقائد اور اعمال کو، زمانہ معاصر میں دیکھا جا سکتا ہے، خصوصاً برصغیر میں چاہے مکتب تشیع ہو یا مکتب تسنن، اس میں بعض افراد بلکہ ایک اچھی خاصی تعداد کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان کے عقائد و اعمال اور جو عقائد و اعمال معصومین (ع) اور قرآن مجید کی آیات میں بیان ہوئے ہیں، ان میں بعد المشرقین کا فاصلہ پایا جاتا ہے۔

مدارس دینیہ اور علماء حقہ
مدارس دینیہ اور علماء کرام اسلامی سرحدوں کے محافظ کے طور پر ہیں، یہ ایسے ہی ہیں جیسے کسی ملک کی سرحدوں کی محافظ افواج ہوا کرتی ہیں۔ علماء اور مدارس دینیہ کلمہ گویاں اسلام کو ہر قسم کے فتنہ سے محفوظ رکھتے ہیں، لوگوں کو اللہ اور اس کی بھیجی ہوئی شریعت کے قریب اور تمام باطل عقائد کے سامنے آہنی دیوار اور حصار کا کام کرتے ہیں۔ اگر کسی ملک کی بقا اور تحفظ کے لئے افواج نہ ہوں یا افواج تو ہوں لیکن سستی اور غفلت کا شکار ہوں تو دشمن ملک کے اندر داخل ہو کر ملک کی اساس اور بنیاد کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوسکتا ہے اور ملک کے امن و سکون ہو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہ مدارس دینیہ اور علماء حقہ نہ ہوں تو باطل فرقے اپنے باطل عقائد کے ساتھ سادہ لوح مسلمین کے عقائد کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔

پاکستان کے مدارس دینیہ کی موجودہ صورتحال
مندرجہ بالا سطور میں مدارس اور علماء کی اہمیت کے بارے میں جتنا کچھ ذکر کیا ہے، یہ سب اس صورت میں ہے کہ جب مدارس دینیہ اور علماء اپنے فرائض منصبی کو اپنی زندگیوں کا مقصد و ہدف بنا لیں۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ زمانہ معاصر میں اکثر مدارس اور اکثر علماء اپنی ذمہ داری اور فریضہ سے تغافل اور تساہل کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مدارس کا مطلب بہترین سے بہترین عمارت کا بنانا رہ گیا ہے، تعلیم و تربیت کا کام بہت حد تک کم رنگ ہوگیا ہے، ان مدارس میں رجال الہیٰ بنانا اور ایسے کردار جو معاشرہ میں اسوہ اور الگو قرار پائیں، یہ کام تو نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے۔ اگر بعض مدارس میں تعلیم نام کی کوئی چیز ہے تو وہ بھی کیفیت سے عاری اور مقصد سے دور نظر آرہی ہے۔ اب مدارس میں عقائد حقہ کی تعلیم تو ناپید ہوتی نظر آرہی ہے اور اخلاق کے حوالے سے تو کام کی صورت پریشان کن ہے۔ اب تو ان مدارس سے ہی خاطر خواہ تعداد ایسی باہر آرہی ہے کہ جو عقائد حقہ کی بجائے شرک پر مبنی عقائد کو بیان کرتے ہیں اور اعمال صالحہ سے لوگ کو دور کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ معاشرے اور سوسائٹی میں روز بروز لوگ قرآن اور عترت طیبہ کے معارف سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہ مبارک رمضان میں کس قدر انسانی قلوب کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے مزین کرنے کا معصومین(ع) نے بتایا ہے، کس قدر قرآن مجید سے متمسک ہونے کا شوق دلایا ہے، یہاں تک فرمایا گیا کہ جو ایک آیت کی تلاوت کرے، اسے ختم قرآن کا ثواب ملے گا، یہ سب کچھ اس لئے کہ انسان اپنا عقیدہ اپنے اعمال و کردار اور اطوار و عادات کو قرآن مجید سے لے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو اپنا خالق، مالک، رب اور رازق قرار دے۔ لیکن افسوس کے آج بعض مدارس سے نکلے ہوئے یا یوں کہنا شاید بہتر ہو کہ خارج کئے ہوئے افراد اخلاق سے گری ہوئی گفتگو ممبر رسول اور ممبر حسینی سے کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسے افراد کی تقاریر و تحریر اور ان کا کردار و اخلاق ایسا ہوتا ہے کہ جو عوام کی گمراہی اور اسلام سے دوری کا سبب بنتا ہے۔

پاکستان کے مدارس دینیہ کا شاندار ماضی
کاش آج مدارس سے ایسے ہی افراد باہر آتے، جیسے پاکستان کی مقدس سرزمین سے کسی زمانہ کے اندر استاذ العلماء علامہ محمد یار شاہ یا استاذ العلماء گلاب علی شاہ آئے یا ان بزرگواروں کے شاگرد رشید علامہ صفدر حسین نجفی جو اپنی ہی زندگی کے اندر محسن ملت کہلائے، ان جیسے افراد بایر آتے۔ کاش آج مدارس علمیہ سے مفسر قرآن، متکلم زمان، محقق دوران مرجع عالیقدر آیت اللہ محمد حسین نجفی مدظلہ العالیٰ جیسی شخصیات باہر آتیں۔ کاش آج حوزہ علمیہ نجف سے مرجع عالیقدر آیت اللہ حافظ بشیر مدظلہ العالیٰ کی طرح برصغیر کے اور فضلاء بھی مسند اجتہاد پر پہنچتے، کاش حوزہ علمیہ قم سے رہبر کبیر آیت اللہ امام خمینی کی طرح برصغیر کے بھی کئی رجال صرف نام کی حد تک نہیں بلکہ امام خمینی رہ علیہ کی طرح امت مسلمہ کا درد رکھ کر میدان عمل میں اترتے۔

پاکستان کے مدارس اور نجف و قم کے حوزہ ہای علمیہ میں محصلان علم سے یہ گزارش ہے کہ ان بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اللہ پر توکل کرکے عزم کریں تو وہ اللہ، جو ان شخصیات کو اس مقام عظمت تک پہنچا سکتا ہے تو وہ موجودہ طلاب کو بھی یہ مقام عظمت نصیب کرسکتا ہے۔ آج پاکستان میں نصیریت اور غلو سادہ لوح شیعیان کو شیعیت کا نام لیکر پیش کیا جا رہا ہے، جس شیخیت کا پاکستان کے رجال علم نے مقابلہ کیا، آج وہی شیخیت دوبارہ استعمار اور mi6 کی کوششوں سے میدان میں ہے، عقائدی سرحدوں پر حملے ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں مدارس دینیہ اور علماء حقہ کی ذمہ داریوں میں پہلے سے کئی گنا زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایک اتمام حجت
ان حالات میں مدارس دینیہ کے موجودہ نصاب کا، ایک بار دقت نظری سے تجزیہ و تحلیل کرنے کی ضرورت ہے، نصاب میں عصری تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی ضرورت ہے، نصاب بنانے والی ایسی ٹیم ہو کہ جو دینی تعلیم میں سطوحات عالیہ پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں سے بھی کماحقہ آگاہی رکھتی ہو، نصاب میں قرآن مجید اور حدیث پر طلاب کی علمی استعداد بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے عواطف و احساسات کو بھی اسی رنگ میں ڈھالنے کی منصوبہ بندی ہو، ایسی ترکیب بنائی جائے کہ یہ معارف ذہن و احساس سے گزر کر وجود کا جزو بن کر طلاب کے کردار و ان کی سیرت کو بھی بدلیں، تاکہ وہ معاشرہ میں اپنا فعال کردار ادا کرسکیں۔ مدارس دینیہ کو کسی زمانہ میں بھی حکومت سے منفعلانہ پالیسی نہیں بلکہ اپنی دانائی اور دانش سے، اپنے کردار اور استدلال سے فعالانہ کردار اپناتے ہوئے زمانہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینی چاہیئے، نہ کہ اپنی باگ ڈور بھی حکومت کے ہاتھ میں دے دینی چاہیئے۔

نصاب ایسا ہو کہ نقل اقوال کے بعد ابتکار اور تولید علم کے مرحلہ تک نئی نسل کو پہنچایا جاسکے، موجودہ صورت حال سے نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اب تو حال یہ ہے کہ عربی متون کو پڑھ کر ان کی چھان بین کرکے تولید علم تک پہنچنا تو کجا بیس بیس سال تک مدارس اور حوزات علمیہ میں رہنے کے باوجود صحیح عربی عبارت پڑھنے تک کی استعداد اکثریت کو حاصل نہیں ہو رہی، کیا مستقبل میں مدارس دینیہ پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج نہیں ہے؟ یہ تبدیلی صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ جب واقعاً درد دین رکھتے ہوئے اور اپنی آخرت کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے مدارس دینیہ سے شخصی اور وراثتی اجارہ داری کی بجائے اس امام زمانہ کی امانت سمجھتے ہوئے واقعاً صاحبان استعداد کا انتخاب کرکے ان کی استعداد کے مطابق تعلیمی، تربیتی اور ملی امور میں ان کی استعداد کے مطابق ان سے کام لیا جائے۔

اس حوالے سے جو ادارہ، جو شخصیات بھی ہمت کرکے قدم اٹھائیں گے یقیناً ان کی یہ کوشش ملک و ملت پر بہت بڑا احسان ہوگا، ہم اپنے طور پر اتمام حجت کے طور پر اتنا عرض کرتے ہیں کہ اس حوالے سے جو بھی ادارہ یا شخصیت قدم اٹھائے، ہم اس حوالے سے ہر خدمت انجام دینے کے لئے تیار ہیں۔ البتہ اس حوالے سے ہم ایک حد تک ایک ٹیم کی صورت میں کچھ کام ایجام دے چکے ہیں، اگر کوئی ہم سے کام لینا چاہے تو پھر بھی یا کوئی ہمارا ساتھ دینا چاہے تو اس حولے سے بھی اتمام حجت کے طور پر دعوت عام دے رہے ہیں۔ آخر پر دعا ہے کہ خدایا اس عظیم کام کے لئے ملت تشیع کے درد دین رکھنے والوں لوگوں تک ہمیں پہنچنے یا ان کو ہم تک پہنچنے کی توفیق عطا فرما۔
خبر کا کوڈ : 793847
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب