1
Monday 13 May 2019 08:54

شیشے کے گھروں میں رہنے والے ہوشیار ہو جائیں

شیشے کے گھروں میں رہنے والے ہوشیار ہو جائیں
اداریہ
متحدہ عرب امارات میں فجیرہ کی بندرگاہ کے قریب ایک کارروائی میں کم از کم چار جہازوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اماراتی وزیر خارجہ نے اس حملے یا کارروائی کی نوعیت یا ذمہ داروں کے بارے میں تفصیل نہیں بتائی۔ روزنامہ جنگ پاکستان کی خبر کے مطابق یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے نزدیک پیش آیا ہے، جو تیل و گیس کی ترسیل کرنے والے جہازون کا اہم ترین راستہ ہے۔ لبنان کے معروف ٹی وین چینل اور اسلامی استقامت و مقاومت کی خبریں دینے میں پیش پیش ٹی وی چینل المیادین نے خبر دی تھی کہ فجیرہ کے قریب دھماکے ہوئے ہیں، جس سے کئی آئل ٹینکروں میں آگ بھڑک اٹھی۔ المیادین ٹی وی چینل نے مثاترہ پانچ آئل ٹینکروں کے نام بھی جاری کئے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے قریب ہونے والے اس واقعہ نے خلیج فارس کے ممالک کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ سوشل میڈیا میں تو اسے یمنی مجاہدین کا حملہ تک کہا جا رہا ہے۔ یمن کے بے گناہ افراد پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات گذشتہ چار سالوں سے ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یمن میں جاں بحق ہونے والے افراد کی کم از کم تعداد آٹھ ہزار ہے جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق سعودی اماراتی حملوں میں مرنے والے یمن کے عام شہریوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ زخمی اور بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد کے صحیح اعداد و شمار تو سامنے ہی نہیں آئے۔ بہرحال اگر یہ حملہ یمن کے مجاہدین کی طرف سے بھی ہوا ہو تو اسے مسترد نہیں کیا جا سکتا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ایسے عالم میں انجام پایا ہے کہ امریکی جنگی بیڑہ "اہراہم لنکن" ایران کو ڈرانے اور اپنے اتحادیوں کو حوصلہ دینے کے لئے خیلج فارس کیلئے روانہ ہوچکا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران کا تیل برآمد نہیں ہوگا تو کسی کا بھی تیل خلیج فارس بالخصوص آبنائے ہرمز سے عبور نہیں کرسکے گا۔

آبنائے ہرمز وہ اسٹریٹجک سمندری راستہ ہے، جس پر ایران کا مکمل تسلط ہے اور ایران کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ بھی وہاں پر نہیں مار سکتا۔ متحدہ عرب امارات کے علاقے فجیرہ میں ہونے والے اس واقعہ نے ثابت کر دیا ہے کہ یو اے ای اور دوسرے امریکی اتحادی خطے میں محفوظ نہیں ہیں۔ خلیج فارس میں کسی بھی طرح کی ناامنی کا پہلا شکار خلیج فارس کے امریکی اتحادی ہوں گے۔ شام، عراق، لبنان، بحرین اور یمن میں استقامی بلاک ماضی کی نسبت بہت مضبوط ہوچکا ہے۔ دوسری طرف ایران کی دفاعی اور میزائل ٹیکنالوجی جارحین کے لیے موت کا پیغام دے رہی ہے۔ ایسے میں خلیج فارس کے امریکہ نواز حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئں۔ شیشوں میں رہنے والوں کو سنگ باری سے پرہیز کرنا چاہیئے، کیونکہ معمولی سے جوابی حملے میں ان کے شیشے کے گھر لمحوں میں ریزہ ریزہ ہو جائیں گے۔ "دشمنی سنگ سے اور کانچ کا پیکر رکھنا"
خبر کا کوڈ : 793855
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے