0
Monday 13 May 2019 11:46

آخر امریکہ ایران سے چاہتا کیا ہے؟

آخر امریکہ ایران سے چاہتا کیا ہے؟
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

امریکہ کی خارجہ پالیسی ہمیشہ دشمنوں سے زیادہ دوستوں کے لیے خطرناک رہی ہے۔ امریکہ مشکل مواقع پر چھوڑ جانے والا، ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرنے والا اور بعد میں دہشتگرد قرار دے کر تعاقب کرنے والی خارجہ پالیسی رکھتا ہے۔ ہم قیام پاکستان کے بعد سے امریکی کیمپ میں رہے، ہر وہ مصیبت ہم پر نازل ہوئی، جو  دراصل اس کیمپ کی وجہ سے تھی، مگر جب ہماری مدد کا وقت آیا اور وطن عزیز کی مسلح افواج بنگال میں مشکلات کا شکار ہوئیں تو امریکی بحری بیڑے کے چلنے کی خبریں ہی آتی رہیں، وہ نہ آنا تھا اور نہ ہی آیا۔ اسی طرح اسی دور میں اقوام متحدہ  کی سکیورٹی کونسل میں جو ڈیبیٹس ہوئیں، اس میں بھی امریکی رویہ نیم دشمنی کا ہی ہے۔ افغانستان میں لڑنے والوں کا وائٹ ہاوس میں استقبال کیا جاتا تھا، ان کے ناز و نخرے اٹھائے جاتے تھے، مگر پچھلے بیس سالوں میں ایک تباہی ہے، جو ان پر مسلط کی گئی، یہ شائد زیادہ پرانی بات ہوگئی ہو، ابھی داعش کی تخلیق کو ہی دیکھ لیں؟ کس انداز میں صدامی فوج کو جس کی تربیت ایک کیمونسٹ سخت گیر فوج کے طور پر ہوئی تھی، انہی کو چند ماہ میں داڑھیاں رکھوا کر مذہبی لبادہ پہنوا کر کھڑا کر دیا گیا۔ اسی طرح  شام  و عراق کی تو اینٹ سے اینٹ بجائی ہی گئی اور بھی بہت سے ممالک کو اس ٹریلر سے ڈرایا گیا کہ اگر ہمارے خلاف ہوئے تو ایسا ہوگا۔

ایران کا امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتوں سے ہونے والا معاہدہ ایک تاریخی معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کو سفارتی دنیا کی بڑی کامیابی قرار دیا گیا کہ گفتگو کی طاقت  سے ایک الجھتے مسئلے کو سلجھا لیا گیا، جو مسئلہ بڑی تباہی کا باعث بن سکتا تھا، اس سے جان چھڑا لی گئی۔ یورپی طاقتیں اور ظاہری طور پر امریکہ یہ چاہتے تھے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنا ہے اور ان کے بقول انہوں نے اس  معاہدے سے وہ مقصد حاصل کر لیا، اس کی تصدیق ایٹمی پھیلاو کو روکنے کی تنظیم نے بھی کر دی کہ ایران مسلسل اس معاہدے پر عمل کر رہا ہے۔ اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس معاہدے کو آگے بڑھنے دیا جاتا اور اس کے نتائج سے فائدہ اٹھایا جاتا، مگر نئے امریکی صدر نے  اس کو مسترد کر دیا اور اپنی ہی ریاست کی لگائی مہر کو بے توقیر کر دیا۔ اب کون امریکہ پر اعتماد کرے گا؟ سفارتی طور پر ہر ملک یہ سمجھنے میں  حق بجانب ہوگا کہ امریکہ کسی بھی وقت، کسی بھی وجہ کو بنیاد بنا کر اپنا ہی کیا گیا معاہدہ مسترد کرسکتا ہے۔

امریکہ کی خارجہ پالیسی کا غور سے مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اگر کوئی ریاست امریکی دباو کا شکار ہو کر ایک قدم  پیچھے ہٹتی ہے تو یہ اس پر چڑھائی کر دیتا ہے اور اس کو تہس نہس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ کی نظر میں جو ہماری ایک بات مان سکتا ہے، وہ ایک سو بات بھی مان سکتا ہے۔ ایران اور بین الاقوامی قوتوں کے درمیان ہوئے معاہدے سے بھی امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ اب درست وقت ہے ایران پر مزید پابندیوں کا بوجھ ڈال کر اس سے اپنی مرضی کی شرائط منوانے کا۔ عملی طور پر عراق و شام میں امریکہ کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ اس کو کسی طرح مذاکرات کی میز پر، دھونس  کرکے یا ڈرا دھمکا کر اس کا ازالہ کرے۔ ایسے حالات میں کہ جب بین الاقوامی قوتیں مطمئن ہیں، بین الاقوامی ادارے سب اچھا ہے کی رپورٹس دے رہے ہیں،فقط اور فقط احساس برتری میں مبتلا ہو کر معاہدے نکلنا سفارتی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔ ایک اہم چیز جو اس معاہدے سے نکلنے کا باعث بنی، وہ اسرائیل کا اس پر مسلسل عدم اطمنان تھا۔ اسرائیلی قیادت مسلسل اس کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہی تھی۔ امریکہ میں اسرائیلی لابی بہت متحرک تھی۔ انہوں نے ٹرمپ کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا اور جب وہ جیت گیا تو اس پر اتنا دباو ڈالا کہ وہ کسی بھی طرح اس معاہدے سے دستبردار ہو جائے۔

اسرائیلی لابی کی طاقت کا اندازہ لگایئے کہ ایک طرف پورا یورپ، روس اور چین کھڑے ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ اس معاہدے پر عمل در آمد ہونا چاہیئے اور دوسری طرف اسرائیل اور اس کے حواری ہیں، جو اس معاہدے کے خلاف تھے۔ امریکی ریاست اسرائیلی لابی کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے اور اپنی ہی ریاست کا کیا گیا معاہدہ بے توقیر کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ کو ایران سے بنیادی مسئلہ ایران کی فلسطین پالیسی سے ہے۔ ایران مسلسل مظلوم فلسطینیوں کے لیے آواز بلند کرتا ہے اور عملی طور پر ان کا خیال رکھتا ہے، یہی بات امریکہ کو کھٹکتی ہے کہ جب سارے عرب ممالک کہ جن کا مسلک بھی اہل فلسطین کے ساتھ مشترک ہے، وہ اسرائیل کے دوست بن گئے، وہ اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم پر خاموش رہتے ہیں تو ایران کیوں  فلسطینوں کی حمایت کرتا ہے؟ مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کو اگر کوئی چیلنج کر رہا ہے تو وہ فقط اور فقط ایران ہے، جو ان کے ہر بڑے منصوبے پر پانی پھیر دیتا ہے۔

یہاں تیل کی سیاست  ھی کارفرما ہے، امریکہ چاہتا ہے کہ وہ ایران پر اتنی شدید پابندیاں لگائے کہ اس سے جو بھی تیل لے رہا ہے، وہ ان کی زد میں آجائے۔ ابھی کے حالات میں یہی ہوا ہے، فقط چین اور ترکی نے انکار کیا ہے، باقی تمام بڑے ممالک جن میں ہندوستان بھی شامل ہے، مشکل کی اس گھڑی میں ایران سے تیل در آمد نہ کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں تیل کی ڈیمانڈ تو موجود ہے،  لوگوں کو گاڑی چلانے اور دیگر امور کے لیے تیل کی ضرورت ہے، اس لیے وہ تیل لینے پر مجبور رہیں گے، اب ایران کے تیل کی کمی کو  یہ عرب ممالک پورا کریں گے۔ انہیں  اربوں ڈالر کے نئے سودے ملیں گے، اس لیے یہ ممالک چاہتے ہیں کہ ہر صورت میں ایران اور دیگر ممالک کی چپقلش جاری رہے اور وہ اس کا فائدہ اٹھاتے رہیں۔

پچھلے کچھ عرصے کا برآمدات کا چارٹ اٹھا کر دیکھ لیجئے، جیسے جیسے ایران کی تیل کی برآمدات نیچے جا رہی ہیں، ان عرب ممالک کی برآمدات کو پر لگے ہوئے ہیں، یہ ممالک اس ٹنشن کو اپنے لیے کاروبار بڑھانے کا ذریعے سمجھ رہے ہیں۔ ان کی یہی خواہش ہوگی کہ یہ لمبا عرصہ جاری رہے، تاکہ ان کی جیبیں ڈالروں سے بھرتی رہیں۔ پچھلے کچھ عرصہ میں تیل کی قیمتیں بہت بلند ہوگئی ہیں، ستر اسی کے درمیان ملنے والا پٹرول اب ایک سو آٹھ روپے کا ہوگیا ہے، جس سے غریب کی زندگی  دوبھر ہو رہی ہے، اس کے پیچھے تیل بیچنے والوں کی یہی سوچ ہے۔ امریکہ ایران سے یہی چاہے گا کہ وہ فلسطین کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کرے، اسی طرح اقتصادی اور سیاسی محاذوں پر بالخصوص شام میں تباہ ہوتے امریکی مفادات کا تحفظ کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 794012
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے