1
Tuesday 14 May 2019 02:09

جی بی اور فاٹا۔۔۔۔ احساس محرومی کے الگ الگ پیمانے

جی بی اور فاٹا۔۔۔۔ احساس محرومی کے الگ الگ پیمانے
تحریر: لیاقت علی انجم

قومی اسمبلی نے 26 ویں آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دیدی ہے، جس کے تحت اب فاٹا مکمل طور پر قومی دھارے میں شامل ہوگیا ہے، سینیٹ میں 6 سے بڑھ کر 12 اور قومی اسمبلی میں 16 کی بجائے 24 سیٹیں ملیں گی۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کا احساس محرومی بہت گہرا ہے اور اس احساس محرومی کو دشمن کیش کرسکتا ہے، اپنے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ پورے پاکستان کو اس سے سبق سیکھنا چاہیئے اور کسی علاقے کو یہ محسوس نہیں ہونا چاہیئے کہ پاکستان انہیں اپناتا نہیں ہے، ان کا یہاں حصہ نہیں ہے، یہ احساس محرومی بہت خطرناک ہے اور پاکستان کے دشمن اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ اس لیے فاٹا کا احساس محرومی ختم کرنا ضروری ہے، وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کی مالی مشکلات کا احساس ہے، فیصلہ ہوا ہے کہ تمام صوبے این ایف سی میں اپنے حصے کا تین فیصد فاٹا کو دینگے۔ دوسری جانب اسی روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک اور احساس محرومی کا شکار خطے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث رہا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے جی بی کے آئینی حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کی گئی تھی، وزارت امور کشمیر کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست کی قائم مقام چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی اور ایک ہفتے میں فریقین سے جواب طلب کر لیا۔ سپریم کورٹ نے جی بی کی آئینی حیثیت کیس کا فیصلہ 17 جنوری 2019ء کو جاری کیا تھا اور وفاق کو دو ہفتے میں عملدرآمد کی ڈیڈ لائن دی تھی، عدالتی ڈیڈ لائن 2 فروری کو ختم ہوگئی لیکن فیصلے پر عمل پھر بھی نہ ہوا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے دو ہفتے بعد وفاقی حکومت نے فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کر دی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو پورے چار ماہ گزر چکے ہیں، لیکن عمل تو کجا عدالتی فیصلے میں نقص تلاش کیا جا رہا ہے اور مزید وقت مانگا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کی اہم ترین شقوں میں ترمیم چاہتی ہے، جس کے تحت گلگت بلتستان میں سپریم کورٹ کے دائرہ کار کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جی بی کی اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تقرری کیلئے مجوزہ جوڈیشل کمیشن کے حکم کو بھی واپس لینا چاہتی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہاں پاکستان میں احساس محرومی کے پیمانے بھی الگ الگ ہیں، ایک ایسا خطہ جو گذشتہ بہتر سالوں سے بنیادی آئینی و قانونی حقوق سے محروم ہے، اس کا احساس محرومی ادارہ جاتی، حکومتی اور سیاسی بے حسی کی بھینٹ چڑھا ہوا ہے۔ وزیراعظم کو یہ تو احساس ہے کہ ملک کے کسی بھی خطے میں احساس محرومی بہت خطرناک ہے تو پھر گلگت بلتستان کا احساس محرومی خطرناک کیوں نہیں؟ کیا جی بی کا احساس محرومی فاٹا کے احساس محرومی کے پیمانے پر نہیں اترتا؟ گلگت بلتستان کا احساس محرومی اس دن سے شروع ہوا، جب یہاں کے لوگوں نے خطے کو آزاد کرکے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، پاکستان کی آزادی کے بعد اگست سے یکم نومبر تک گلگت بلتستان ڈوگروں کے قبضے میں تھا، یکم نومبر کو یہاں آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور مقامی لوگوں نے جذبہ ایمانی کے ذریعے پہلے گلگت پھر 14 اگست 1948ء کو بلتستان کو ڈوگروں سے آزاد کروا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کروا دیا۔ لیکن حکومت پاکستان نے یہاں کے لوگوں کے جذبات، احساسات اور حب الوطنی کو روندتے ہوئے مقامی باشندوں کی مرضی پوچھے بغیر اس علاقے کی قسمت کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ ملا دیا، تب سے آج تک اس بدقسمت خطے کی قسمت میں احساس محرومی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔

اپریل 1949ء میں معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کا انتظام حکومت پاکستان کے سپرد کر دیا گیا، اس معاہدے میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔ پاکستان کے گورنر جنرل کے حکم پر جی بی کو صوبہ سرحد (کے پی کے) کے گورنر کے ماتحت رکھا گیا، پھر یہاں ایجنسی قائم کرنے کے بعد دوسری ایجنسیوں کی طرح ایف سی آر کا کالا قانون نافذ کر دیا گیا، جس کے ساتھ ہی یہاں کے باشندے تنظیم، تحریر اور تقریر کی آزادی کے بنیادی حقوق سے محروم ہوگئے۔ جی بی کا پہلا پولیٹیکل ایجنٹ سردار عالم پورے خطے کے سیاہ و سفید کا مالک تھا، پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس مروجہ اختیارات کے علاوہ، کلکٹر برائے ریونیو، ڈسٹرکٹ و سیشن جج، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ڈی آئی جی پولیس، ڈائریکٹر تعلیم اور آفیسر موسیمات کے اختیارات بھی تھے، بعد میں فاریسٹ، زراعت، ڈسٹرکٹ کونسل، محکمہ دیہی ترقی کے اختیارات بھی دیئے گئے، اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کو اسسٹنٹ کلکٹر، سب ڈویژنل مجسٹریٹ، سب جج اور ایس پی کے اختیارات حاصل تھے، نائب تحصیلدار کے پاس مجسٹریٹ درجہ سوم، سول جج اور ایس پی کے اختیارات ہوتے تھے، یوں یہاں مضبوط نوکر شاہی مسلط ہوگئی، عدالتی اور انتظامی اختیارات کے ایک ہی فرد میں ارتکاز سے انصاف کا حصول ناممکن ہو کر رہ گیا۔

یہاں کے لوگوں کیلئے کسی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کا دروازہ کھلا نہ تھا، آزادی کے بعد یہاں کے باسیوں نے جو خواب دیکھا تھا، وہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا، بلکہ ایف سی آر اور ایجنسی کی صورت میں انتہائی ظالمانہ نظام مسلط ہوگیا۔ 1950ء میں گلگت بلتستان کو گورنر کے پی کے سے اٹھا کر وزارت امور کشمیر کے حوالے کر دیا گیا۔ نومبر 1970ء میں جنرل یحییٰ خان نے جی بی کیلئے چودہ ممبروں پر مشتمل ایڈوائزری کونسل فار ناردرن ایریاز قائم کی، گلگت سے آٹھ اور بلتستان سے چھ ممبر بالغ رائے دہی کے ذریعے منتخب ہوئے۔ دسمبر 1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو برسر اقتدار آگئے، انہوں نے 1972ء میں جی بی سے ایف سی آر کا قانون ہٹا دیا، ایجنسی نظام کو ختم کرکے گلگت اور بلتستان کے نام سے دو اضلاع بنا دیئے، اسی سال دیامر کا نیا ضلع قائم کیا گیا، نقد مالیہ اور لگان معاف کر دیئے، بیگار لئے جانے پر پابندی عائد کر دی، گندم پر سبسڈی دی گئی، جو آج تک برقرار ہے۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں بھٹو دور کو بہت یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے خطے کی محرومی کے خاتمے کیلئے اہم اقدامات اٹھائے۔ 5 جولائی 1977ء کو ملک کے دوسرے حصوں کی طرح جی بی میں بھی مارشل لاء نافذ کیا گیا اور اسے ای زون قرار دیکر بریگیڈیئر کو بلتستان کا ڈپٹی مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بنا دیا گیا، اس سے قبل 1958ء اور 1969ء کے دوران ان علاقوں کو مارشل لاء کے نفاذ سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔

بینظیر بھٹو دور میں جی بی کے آئینی حقوق کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے تین بار کمیٹیاں بنائی گئیں، لیکن یہ مسئلہ وہیں پھنسا رہ گیا، جہاں پہلے تھا۔ صورتحال سے تنگ آکر 1990ء میں ناردرن ایریاز کونسل کے ممبران نے متفقہ طور پر ایک قرارداد پاس کرکے حکومت کو پیش کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا جائے یا آزاد کشمیر طرز پر اسمبلی، عدالت اور حکومت بنائی جائے، طاقتور نوکر شاہی نے اس قرارداد کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر دیا، جنرل مشرف کی حکومت نے 2000ء میں لیگل فریم ورک آرڈر 1994ء میں مزید ترمیم کرکے ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل کیلئے سپیکر کی ایک سیٹ نکالی، نومبر 2002ء کو جنرل مشرف نے مزید اصلاحات عمل میں لاتے ہوئے ڈپٹی سپیکر اور خاتون ایڈوائزر کے نئے عہدوں کی منظوری کا اعلان کیا۔ 20 اکتوبر 2007 کو صدر مشرف نے آئینی اصلاحات پیکج کا اعلان کیا، جس کے تحت کونسل کا نام بدل کر اسمبلی رکھ دیا گیا، چیف ایگزیکٹو کو چیئرمین اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کو چیف ایگزیکٹو بنا دیا گیا۔ بعد میں جب زرداری کی حکومت آئی تو انہوں نے 2009ء میں گورننس آرڈر 2009ء کے نام سے اہم اصلاحاتی پیکج کا اعلان کیا، جس کے ذریعے گلگت بلتستان نیم صوبہ بن گیا، پہلی مرتبہ وزیراعلیٰ اور گورنر کے عہدے متعارف کرائے گئے، اسمبلی کے ساتھ کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔

زرداری کا یہ پیکج جی بی کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ خطے کو شناخت مل گئی، پہلے یہ علاقہ شمالی علاقہ جات کے نام سے جانا جاتا تھا، گورننس آرڈر کے نتیجے میں شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان بن گیا۔ زرداری کے پیکج سے جہاں صوبے کے لوگوں میں سیاسی شعور بیدار ہونا شروع ہوا وہاں جی بی کو قومی اور عالمی سطح پر نئی شناخت مل گئی۔ 2013ء کے انتخابات میں جب نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو دو سال بعد انہوں نے اپنے دورہ گلگت کے دوران جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جی بی کی آئینی حیثیت کے تعین کیلئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا، اس کمیٹی میں وزارت خارجہ، داخلہ، دفاع اور عسکری حکام کے ساتھ حساس اداروں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

کمیٹی نے دو سال کی محنت کے بعد جامع سفارشات تیار کیں، جس میں گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے تصفیہ تک عبوری آئینی صوبہ بناتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی دینے کی تجویز دی۔ بعد میں جب پاناما کا ہنگامہ ہوا تو یہ سفارشات بھی نامعلوم ہنگاموں کی نذر ہوگئیں، اب اس کو مکمل طور پر دبا دیا گیا ہے۔ سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات کے برعکس ایک نیا آرڈر 2018ء جاری کیا گیا، جس کیخلاف جی بی کے وکلاء سپریم کورٹ گئے، پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں یہ کیس چلتا رہا،17 جنوری 2019ء کو آئینی حیثیت سے متعلق کیس کا فیصلہ آیا اس فیصلے میں عبوری صوبہ اور متنازعہ حیثیت دونوں کی گنجائش رکھی گئی۔ تادم تحریر سپریم کورٹ کے فیصلے کو چار ماہ گزر گئے ہیں، ابھی تک عملدرآمد کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آرہا۔ یہاں ہر چھوٹے سے بڑا مسئلہ اکثر سڑکوں پر ہی حل ہوتا ہے، یا پھر ناگوار نعروں سے، مقتدر حلقے شاید اسی کا انتظار کر رہے ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مآخذ
تاریخ بلتستان: محمد یوسف حسین آبادی
خبر کا کوڈ : 794062
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب