1
Tuesday 14 May 2019 08:24

ان کے غم کا قصہ جن پر سب خاموش ہیں

ان کے غم کا قصہ جن پر سب خاموش ہیں
اداریہ
عالمی اور سیاسی سطح پر واقعات اتنی تیزی سے اور پے درپے انجام پا رہے ہیں کہ بعض انتہائی دردناک اور تکلیف دہ سانحات پر کسی کی نظر نہیں پڑتی۔ نظر انداز کرنے کا یہ عمل طے شدہ منصوبے کی تحت بھی ہوسکتا ہے اور غیر ارادی طور پر خبروں کی کثرت بھی اس بات کا باعث بن سکتی ہے کہ ظم و جبر کی بعض داستانیں پس منظر میں رہنے کی وجہ سے عوام کے ہمدردانہ رویوں سے محروم رہتی ہیں۔ سعودی عرب میں شیعہ آبادی کی مظلومیت کی داستانیں بھی ہمیشہ پس منظر میں رہیں اور ان پر ہونے والا ظلم و تشدد کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آسکا۔ سعودی عرب کا آمرانہ شاہی نطام اور شدید سیاسی و تشہیراتی گھٹن بھی ردعمل نہ ہونے اور خاموشی کی ایک وجہ ہے۔ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی جو پامالی ہو رہی ہے، وہ شاید دنیا کے کسی بھی اور ملک میں نہیں ہے۔ انسانی حقوق کی تنظمیں اول تو خاموش ہیں یا پیٹرو ڈالر سے ان کے منہ بند کر دیئے جاتے ہیں، رہی سہی کسر جانبدار میڈیا پوری کر دیتا ہے۔

کسی بھی ملک میں اتنی بڑی تعداد میں ایک دن میں دی جانے والی پھانسیوں کی سزا ایک ریکارڈ سے کم نہیں۔ 37 شیعہ مسلمانوں کی گردنیں کاٹنے پر اتنا بھی شور نہیں اٹھا، جتنا کسی یورپی ملک میں کتے بلی کے کسی گٹر میں گر جانے سے اٹھتا ہے۔ مغربی میڈیا کی لاتعداد بریکنگ نیوز پالتو جانوروں اور کیڑے مکوڑوں کی مشکلات و مصائب پر ہوتی ہیں، لیکن عالمی میڈیا کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں کہ آزاد اور غیر جانبدار میڈیا ہونے کا دعویٰ کرنے والے کتنے میڈیا سینٹروں نے سعودی عرب کے مظلوم 37 افراد کے سر کاٹنے کی خبروں کو بریکنگ نیوز یا اپنے اہم پروگرام میں تجزیہ کے قابل سمجھا ہو۔ جہاں جیتے جاگتے انسانوں کے سر کاٹنے کی خبریں غیر اہم ہوں، وہاں گھروں کی مسماری اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کیا حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال سعودی عرب کے علاقے قطیف میں سعودی سکیورٹی فورسز کی وحشیانہ کارروائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آل سعود کے خونخوار درندہ صفت کارندوں نے مشرقی علاقے القطیف میں الحراک الشعبی نامی تنظیم کے ارکان کے گھروں کو بلڈوزر کے ذریعے تباہ اور مسمار کرکے ان گھروں میں موجود کم از کم آٹھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ تین کے بارے میں کسی قسم کی اطلاعات نہیں۔ آل سعود کے جرائم عرصے سے جاری ہیں، لیکن ولی عہد محمد بن سلمان نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، محمد بن سلمان کے مظالم کی داستانیں جمال خاشقچی سے شروع ہو کر سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں موجود ٹارچر سیلوں اور کال کوٹھڑیوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق محمد بن سلمان کو نڈر اور جری کرنے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرامپ کا داماد جرڈ کوشنر پیش پیش ہے۔ قطیف کی شیعہ آبادی کو کچلنا اور سعودی عرب کو اسرائیل نواز بنانا امریکی صدر کے صہیونی داماد کا ترجیحی ایجنڈا ہے۔ عالم اسلام خاموش، انسانی حقوق کی تنظمیں ساکت، عالمی میڈیا جانبدار، سعودی عرب کے ان مظلوموں کی آواز کون اٹھائے گا؟ جبر کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔؟
خبر کا کوڈ : 794080
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب