0
Tuesday 14 May 2019 10:44

دنیا کی نظروں میں کھٹکتا ہوا پاک ایران گیس منصوبہ

دنیا کی نظروں میں کھٹکتا ہوا پاک ایران گیس منصوبہ
تحریر: شبیر احمد شگری

پاک ایران گیس پائپ لائن ایک اہم نوعیت کا منصوبہ ہے، پاکستان اور ایران دونوں ممالک نے اس منصوبے پر دستخظ کر رکھے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا کی نظریں اس منصوبے پر لگی ہیں۔ پاکستان اور ایران نے 16 مارچ 2010ء کو انقرہ میں پاک ایران گیس معاہدے پر حتمی دستخط کیے تھے۔ دو طرفہ معاہدے کی رو سے یہ طے کیا گیا کہ اگر پاکستان اس منصوبے کو 2014ء کے آخر تک مکمل نہیں کرتا تو اس پر یومیہ 10 لاکھ ڈالر جرمانہ عائد ہو جائے گا، جو تب تک لاگو رہے گا جب تک پاکستان اس منصوبے کو مکمل نہیں کر دیتا۔ ایران نے اپنے حصے کا کام وقت پر مکمل کر دیا تھا لیکن ہمارے سابقہ حکمرانوں کی جانب سے سستی دکھائی گئی اور کہا گیا کہ نجی کاروباری لوگ اس منصوبے میں دلچسپی نہیں لے رہے اور پاکستان کے پاس اتنے فنڈز نہیں۔ بعد میں امریکہ کی جانب سے ایران سے برآمدات اور درآمدات پر پابندیاں لگنے کی وجہ سے پاکستان نے مزید ہاتھ روک لیا۔

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت پاکستان کو 750 ملین مکعب کیوبک فٹ یومیہ گیس ایران سے برآمد کی جائے گی۔ 1931 کلو میٹر طویل اس گیس پائپ لائن کا منصوبہ 1.5 ارب ڈالر لاگت کا ہے۔ اس گیس پائپ لائن کا 1150 کلو میٹر حصہ ایران میں بچھایا جا چکا ہے جبکہ پاکستان میں 781 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائے جانے کا کام مکمل نہیں ہوسکا اور پاکستانی علاقے میں یہ منصوبہ ابھی تک زیر تکمیل ہے۔ منصوبے کے مطابق یہ گیس پائپ لائن ایرانی بندرگاہ عسلویہ، صوبہ بوشہر، بندر عباس، ایران شہر، خضدار، سوئی سے ہوتی ہوئی ملتان سے پنجاب میں پہنچے گی۔ شروع میں اس منصوبے میں پاکستان، ایران اور بھارت شامل تھے لیکن پھر بھارت اس سے نکل گیا۔ اس منصوبے میں ایرانین نیشنل آئل کمپنی، گیس پروم جے ایس سی، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی ساوتھرن گیس پائپ لائینز کمپنیاں شراکت دار ہیں۔ یہ ایک قدرتی گیس منصوبہ ہے، جس کے آمیزے میں بنیادی طور پر میتھین شامل ہے۔

پاکستان میں صنعت، ٹرانسپورٹ اور گھریلو ضرورت کیلئے بجلی اور گیس دونوں استعمال ہوتی ہیں، جو کہ پاکستان میں ناکافی ہونے کی وجہ سے انتہائی مہنگی ہیں اور عوام کو مہنگے بل ادا کرنے پڑتے ہیں۔ کمی کی وجہ سے پاکستان میں لوڈ شیڈنگ بھی زیادہ ہوتی ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان صنعتوں کو پہنچتا ہے۔ ان کی کارکردگی متاثر ہونے سے پاکستان کی معیشت پر اثر پڑ رہا ہے۔ بجلی اور گیس میں کمی کی وجہ سے برآمدات میں بھی اضافہ نہیں ہوتا، جس کا خمیازہ ہمیں قرضوں کی شکل میں بھگتنا پڑتا ہے اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنا اور اس کی شرائط بھی مانا پڑتی ہیں اور جب سعودی عرب اور چین سے قرضہ لینا پڑتا ہے تو پھر ظاہر ہے قرضہ دینے والے کی مرضی اور شرائط بھی ماننا پڑتی ہیں۔ اس گیس پائپ لائن منصوبے کی رو سے پاکستان کسی طرح سے اس منصوبے کو انجام تک پہنچانے میں ناکام ہو جاتا ہے تو اسے جنوری 2015ء سے یومیہ 10 لاکھ ڈالر دینے ہوں گے۔ پاکستانی قوم تو پیٹ پر پتھر باندھ کر بھی گزارا کرنیوالی قوم ہے، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم کب تک اس طرح کے رحم و کرم پر رہیں گے، ہم اس حد تک قرضوں اور مجبوریوں میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ اپنے ملکی مفاد میں فیصلے بھی نہیں کرسکتے۔ حالانکہ ہمارے ملک میں وسائل کی کوئی کمی نہ تھی بلکہ کسی چیز کی کمی نہ تھی۔

گذشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران کے دوران ایرانی صدر سے ملاقات میں پاکستان تک گیس پائپ لائن کے منصوبہ پر دوبارہ کام شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا اور یہ بات خوش آئند تھی کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک عرصے سے التوا کے شکار پاک ایران گیس پائپ منصوبے کے سلسلے میں اجلاس بلایا اور اس اجلاس میں وزیراعظم نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے ضروری احکامات بھی جاری کئے۔ ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ، امریکہ، یورپین یونین سمیت دیگر فورمز کو قانونی یادداشت بھیجنے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ عالمی اداروں سے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر واضح پوزیشن لی جائے۔ دوسری جانب وزیراعظم کی جانب سے وزارت خارجہ کو ایران کیساتھ تناؤ ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ہدایت بھی کی گئی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کیساتھ آئی پی گیس منصوبے کیلئے مفاہمتی طریقہ اختیار کیا جائے۔ وزیراعظم نے یہ بھی حکم دیا کہ ایران کیساتھ مل کر منصوبے پر عملدرآمد کے امکانات تلاش کئے جائیں، جبکہ ایران سے گیس کی قیمت خرید پر بھی نظرثانی کا عمل شروع کیا جائے۔ کیونکہ پاکستان اور ایران اس معاہدے کی وجہ سے پابند ہیں کہ اس کو مکمل کیا جائے۔

ایران کی جانب سے کئی سال پہلے ہی ایران کی حدود کے اندر اور پاکستانی سرحد تک اس پائپ لائین کو بچھانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے اور اب تک وہ پاکستان کی طرف سے اس منصوبے کی تکمیل کے انتظار میں ہے، لیکن کچھ سابقہ حکومتوں کی سستیوں اور بیرونی دباو کی وجہ سے پاکستان اب تک اسے مکمل نہیں کر پایا۔ معاہدے کی رو سے منصوبہ مکمل نہ کرنے پر پاکستان کو اس کا ہرجانہ ادا کرنا پڑے گا لیکن برادر اسلامی ملک ایران نے ہمیشہ پاکستان کیساتھ دوستانہ رویہ ہی رکھا ہے۔ بلکہ ایران نے برادر ملک میں بجلی کی کمی کو دیکھتے ہوئے پاکستانی عوام سے ہمدردی کرتے ہوئے اس کی بھی پیشکش کی کہ وہ پاکستان میں گیس سمیت بجلی کی کمی کو بھی پورا کرسکتا ہے اور اس کا اظہار پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کئی مرتبہ کرچکے ہیں۔

لگتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی اور بے باک ہو کر حل کرنے کی کوشش میں ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ایک معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری ہے بلکہ عوام کو گیس کی کمی اور بلوں کی زیادتی کی وجہ سے بھی بہت پریشانی کا سامنا ہے۔ شاید اسی لئے عمران خان اس پر ضرور توجہ بھی دیں گے اور انھیں سینہ سپر ہوکر اس منصوبے کی تکمیل پر زور لگانا ہوگا۔ عمران خان صاحب سے ایک امید اس لئے بنتی ہے کہ یہ نڈر اور بیباک لیڈر ہیں اور بین الاقوامی طور پر اس مسئلے کا شاید حل نکل آئے۔ جہاں بھی ہو یہ بات کی جاسکتی ہے کہ یہ صرف ایران اور پابندیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ گیس ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اس وقت ہمیں اس کی اشد ضرورت ہے اور بیرونی پابندیوں کی وجہ سے جرمانہ بھی ہم ادا کریں۔؟ اگر عمران خان اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستانی قوم پر ایک بڑا احسان ہوگا۔ کم از کم گیس جیسی توانائی میں عوام کو کافی ریلیف ملے گا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران سے آنیوالی گیس کم قیمت اور وافر مقدار میں ہوگی۔ جس سے ایک طرف عوام پر بوجھ کم پڑے گا اور دوسری طرف گیس کی کمی کی پریشانی سے بھی عوام نجات پاسکیں گے اور اس کیساتھ ساتھ برادر ملک ایران کے ساتھ برادرانہ تعلق میں مزید استحکام آئے گا۔ ایران 28 فروری 2019ء کو اس سلسلے میں حکومت ِ پاکستان کو پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنے کیلئے نوٹس بھجوا چکا ہے اور اس کا جواب پاکستان کی وزارت پیٹرولیم کی جانب سے دیا گیا ہے۔ پاکستانی وزارتِ پٹرولیم نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایران پر عالمی پابندیاں منصوبہ کی تکمیل میں رکاوٹ ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے اپنے ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات نہیں رہے ہیں، کیونکہ ہماری خارجہ پالیسی کمزور ہے، جس پر امریکہ اور سعودی عرب کا دباؤ ہے۔ حالانکہ ایران کیساتھ تعلقات میں پاکستان کو بہت زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان کو نہ صرف وافر مقدار میں 30 سال کیلئے قدرتی گیس مل جاتی، جس سے پاکستان، افغانستان اور بھارت میں ڈیڑھ ارب لوگ مستفید ہوتے، بلکہ ایران میں تیل کے بہت بڑے ذخائر سے بھی فائدہ مل جاتا۔

ایران تو یہ تک کہہ چکا کہ وہ سرحد پر آباد علاقوں کو مفت بجلی بھی دے گا اور اس کی لائنیں بچھانے میں بھی مدد کرے گا۔ کچھ دن پہلے ایک دوست نے ایک پوسٹ بھیجی جو ضمیر کو جھنجوڑنے والی ہے۔ کہتے ہیں پرانے زمانے میں کسی جگہ پہاڑی کے دامن میں ایک گاؤں آباد تھا۔ جب بھی کوئی مسافر گاڑی حادثے کا شکار ہوکر پہاڑ سے گر جاتی، یہ لوگ جاکر ان کا سامان لوٹتے۔ یہی ان کا ذریعہ معاش تھا۔ ان کا امام مسجد نماز کے بعد کچھ یوں دعا پڑھتا۔ "اے پروردگار بہت عرصہ ہوا ہے، کوئی گاڑی نہیں گری۔ کوئی باراتیوں سے بھری بس گرا دے، جن کی عورتیں سونے سے لدی ہوئی ہوں۔ رب کریم کسی برطانیہ پلٹ کی گاڑی گرا دے، جس کا بیگ سامان سے اور جیب پاونڈ سے بھری ہو۔ ہم تیرے نادان بندے ہیں، اگر ہم سے کوئی بھول ہوئی ہو تو رحم کا معاملہ کر، ورنہ ہمارے بچے بھوکے مر جائیں گے۔" پیچھے سے مقتدی آمین ثم آمین کی صدا لگاتے۔

قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم نے دوسروں کے شر میں اپنی خیر منائی ہے۔ ہم نے خود سے کچھ زیادہ نہیں کیا، نہ اپنے ادارے مضبوط کئے نہ انڈسٹریز بنائیں، نہ برآمدات بڑھائیں۔ تعلیم صحت اور انصاف غرض کسی شعبے پر سنجیدگی سے محنت نہیں کی۔ پچاس کی دہائی میں ہم نے "سیٹو" اور "سینٹو" کے مزے اڑائے۔ ساٹھ کی دہائی میں سرد جنگ میں یوٹو طیاروں کو اڈے دیکر ڈالر بٹورے۔ ستر کی دہائی میں ہم نے عرب اسرائیل جنگوں میں مفت تیل کے مزے اڑائے۔ اسی کی دہائی میں روس افغانستان والے کھاتے میں ہم نے خوب "ریمبو تھری" بنا کر باکس آفس پر پیسے بنوائے۔ نوے کی دہائی میں کسی کا شر ہمارے ہاتھ نہیں آیا اور ہماری حالت بہت پتلی ہوگئی۔ دو ہزار کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس شر کا جام لیکر ہم خوب جھومے، اسلحے اور ڈالروں کی برسات ہوئی۔ اس کے بعد کئی سالوں سے ہمارے اردگرد کوئی شر نہیں ہو رہا۔ کیا ہم کسی شر کے انتظار میں ہیں۔ حالت بہت خراب ہے ڈالر تگڑا ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں کا معیار زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا ہے۔ مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔

ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے آئیں دعا کریں کہ خدا عمران خان صاحب کو ہمت دے کہ وہ ملک کو ان مشکلات سے نکال سکیں، کیونکہ قوم نے بڑی امیدوں سے ان کو ووٹ دیا اور کامیاب کروایا۔ اب ذرا ان کو کوشش کرنے دیں۔ ہماری سیاست کا خاصا رہا ہے کہ ابھی حکومت شروع نہیں ہوتی اور مخالفتیں شروع ہو جاتی ہیں، ہر پچھلی حکومت ایسے شریف بن جاتی ہے، جیسے ان کے دور میں پتہ نہیں کیا کچھ معاشی انقلابات رونما ہو رہے تھے۔ خدارا اپنی سیاست چمکانے کی بجائے حکومت کا ساتھ دیں اور اس حکومت کو بھی کچھ وقت دیں۔ آخر میں عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پر مثبت حکمت عملی اپنائیں اور دوسروں کے دباو میں آکر کسی طرح بھی اس منصوبے کو ناکام نہ ہونے دیں۔ یہ سب سے بڑھ کر ہمارے ملک، ہماری معیشت کیلئے بہت ضروری ہے۔ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں تھی، ہم نے اپنی پیداوار چھوڑ کر دوسروں پر بھروسہ کیا، جس کا خمیازہ ہم بھگت رہے ہیں۔ باقی پارٹیوں کو ہم آزما چکے، اب آپ پر نظریں ہیں۔ اللہ پاک آپ کو اس کام میں سرخرو فرمائے۔آمین
خبر کا کوڈ : 794093
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب