0
Tuesday 14 May 2019 17:49

ماہ رمضان وحدت و مساوات کا متقاضی

ماہ رمضان وحدت و مساوات کا متقاضی
تحریر: جاوید عباس رضوی

رمضان المبارک کا مہینہ بہت ہی اہمیت و افادیت کا حامل مہینہ ہے۔ یہ ماہ مقدس ہمیں  وحدت و اخوت، یکجہتی و ہمدلی کا درس دیتا ہے۔ ماہ مبارک رمضان خود احتسابی کا مہینہ ہے، فرامین الہی و فرامین رسول اللہ (ص) پر عمل پیرا ہونے کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ پستیوں سے نکل کر بلندیوں کی جانب پرواز کا مہینہ ہے۔ ماہ مبارک رمضان مسلمانوں کی صف بندی کا مہینہ ہے، اسلام کی عملی تبلیغ کا مہینہ ہے، وحدت و اخوت کا مہینہ ہے۔ معراج و سربلندی کا مہینہ ہے۔ ماہ مبارک رمضان قرآن و سنت کو اپنانے کا مہینہ ہے، خدا کی طرف پلٹ آنے کا مہینہ ہے۔ بے شمار رحمتوں کو دامن میں سمیٹنے کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ امت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کا مہینہ ہے۔ اسلام دشمن عناصر کی عزائم کو خاک میں ملانے کا مہینہ ہے۔ ماہ مبارک رمضان مسلمانوں کو وحدت و اخوت و مساوات کا درس دیتا ہے۔ ماہ مبارک رمضان مسلمانوں کو انکی کھوئی ہوئی پہچان و وقار واپس دلانے کا مہینہ ہے۔ یہ ماہ مسلمانوں کے اعلٰی اقدار و منزلت کی بازیابی کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ جوانمردی و قیام کا مہینہ ہے۔ ماہ مبارک رمضان مسلمانوں کے قبلہ اول کی بازیابی و آزادی کا مہینہ ہے۔
 
یہ مہینہ کیسے مسلمانوں کے لئے سربلندی و سرخروئی اور اخوت و مساوات کا مہینہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ہم اس ماہ مقدس میں وحدت و مساوات کے لئے کیا کچھ کرسکتے ہیں۔ لازمی ہے کہ اس ماہ مبارک میں مسلمانوں کے تمام مسالک و مشارب ایک دوسرے کی مساجد میں زیادہ سے زیادہ نماز جماعتوں کا اہتمام کریں۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ دیگر مسالک کے ساتھ مشترکہ افطاریوں کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ دیگر مسالک کے ساتھ تلاوت قرآن، معرفتِ قرآن و تفکرِ قرآن کی محافل کا انعقاد عمل میں لانا چاہیئے۔ ہمیں اس پورے مہینے ’’یوم القدس‘‘ کی آمادگی کے لئے نشستیں، پروگرامز اور برنامے مرتب کرنے چاہیئے۔ ہمیں اس ماہ مقدس کی شبہائے قدر میں مشترکہ محافل و شب بیداریوں کا اہتمام کرنا چاہیئے۔ یہ تراویح، یہ تہجد، یہ نوافل اور سنتیں ہمیں ایک دوسرے کو قریب لانے کے لئے ہیں نہ کہ باعث تفرقہ و نزاع۔ رحمتوں کے اس مہینے میں ہر کلمہ گو کو رب العزت کی بارگاہ میں مسلمانوں کی یکجہتی اور اتحاد کے لئے دعائیں کرنی چاہیئے اور اپنے قلب و نظر و فکر کو اتحاد و یکجہتی کے لئے ہمیشہ کے لئے وقف کرنا چاہیئے۔
 
اس ماہ مقدس میں وحدتِ امت کے جو مواقع مسلمانوں کے ہاتھ آتے ہیں دیگر مہینیوں میں میسر نہیں آتے۔ اس ماہ مقدس میں قرآن کریم نازل ہوا ہے جو کتاب ہے اور کتاب وحدت بھی۔ اگر ہم قرآن کریم سے واقعی معنوں میں مانوس ہوتے ہیں اور قرآنی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہیں گے تو قرآن کا مسلمانوں سے تقاضا ہے کہ ایک امت بن جاؤ اور مسلمان متحد ہوکر اسلام ناب محمدی (ص) کی خدمت کے لئے آگے بڑھیں۔ قرآن ہمیں ہرگز فرقہ واریت، تفرقہ، شدت پسندی، منافرت و تضاد و قتل و غارتگری کی اجازت نہیں دیتا۔ ان شبہائے قدر اور شبہائے قرآنی کے نتیجے میں ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے الفت، محبت و انسیت و اخوت پیدا ہونی چاہیئے۔ ان عظیم ایام اور ان با برکت راتوں کے نتیجے میں ہمیں وحدت اسلامی کے قرآنی اہداف کی جانب پرواز کرنی ہوگی۔ یہ تلاوت قرآنی کی آوازیں ہمارے دلوں میں اتحاد امت کے لئے طلاطم پیدا کرنی چاہیئے۔ ہمیں رب العزت سے دعاگو ہونا چاہیئے کہ ہمیں ان مقدس ایام کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور ہمیں قرآن کریم کی تعلیمات پر چلنے کی توفیقات عطا ہو۔
خبر کا کوڈ : 794205
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب