0
Tuesday 14 May 2019 18:41

عقیدہ یعنی سب سے قیمتی اثاثہ

عقیدہ یعنی سب سے قیمتی اثاثہ
تحریر: نذر حافی
nazarhaffi@gmail.com

عقیدے کو موروثی ہونا چاہیئے یا تحقیقی!؟ یعنی پیدائش کے بعد انسان کو وہی عقیدہ اختیار کرنا چاہیئے، جو اس کے باپ دادا سے چلا آرہا ہے یا انسان خود تحقیق کرکے اپنا عقیدہ خود بنائے؟ ہر عاقل انسان یہ چاہتا ہے کہ وہ آنکھیں بند کرکے کسی عقیدے کو نہ اپنائے بلکہ اپنا عقیدہ خود بنائے۔ انسان کائنات کی وہ واحد مخلوق ہے، جو اپنے عقیدے کو اتنی اہمیت دیتی ہے کہ انسان اپنے عقائد کی تبلیغ بھی کرتے ہیں اور اپنے عقائد کے مخالفین کو برا بھلا کہنے نیز قتل کرنے پر بھی اتر آتے ہیں۔ گویا انسانی زندگی میں عقیدہ محور ہے، انسان ساری زندگی اپنے عقیدے کے گرد گھومتا ہے اور بالآخر اپنے عقیدے پر ہی مر جاتا ہے، کئی مرتبہ تو انسان اپنے عقیدے پر قربان بھی ہو جاتا ہے۔ لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا عقیدہ ہے۔ گذشتہ دنوں مجھے بھی اپنے عقائد پر نظرثانی کی دعوت دی گئی۔ دعوت دینے والے صاحب کا دعویٰ تھا کہ وہ نہ ہی تو عالم دین ہیں، نہ کسی مولوی یا مدرسے کے شاگرد ہیں، بلکہ جس کی طرف وہ دعوت دے رہے تھے، وہ ان کے مطابق ان کی اپنی تحقیق تھی اور ان کے پتہ نہیں کتنے تبلیغی وٹس اپ گروپس اور فیس بک پیجز بھی چل رہے تھے۔

چنانچہ انہوں نے راقم الحروف کے سامنے ایک مقدمہ باندھا اور درد بھری گفتگو شروع کر دی۔ سب سے پہلے تو انہوں نے مجھے اپنا عقیدہ بتایا، ان کے مطابق وہ شیعہ تھے اور شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے، حضرت محمد ﷺ اس کے آخری نبی اور خاتم النبیین ہیں، دینِ اسلام اللہ کا آخری دین اور قرآن مجید ہر طرح کی تحریف سے محفوظ اور منزہ اللہ کی آخری کتاب ہے، اللہ کے آخری نبی ﷺ کے بعد حضرت امام علیؑ بلا فصل خلیفہ ہیں اور مسلمانوں کی نجات کے لئے قرآن مجید کے ہمراہ چودہ معصومین ؑ(نبی اکرمﷺ اور حضرت فاطمہ کے سمیت بارہ اماموں) کی اطاعت ضروری ہے۔ اس پر انہوں نے حدیث ثقلین بھی پیش کی۔ میں نے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کے عقیدے کو خلاصہ کر دوں، انہوں کہا ضرور کیجئے، میں نے کہا جو بندہ ناچیز کو سمجھ آئی ہے، وہ یہ ہے کہ  اہل تشیع کے نزدیک دینِ اسلام صرف قرآن مجید اور چودہ معصومینؑ کی تعلیمات کا نام ہے، اس کے علاوہ کسی کی کوئی رائے اہمیت نہیں رکھتی، یعنی کوئی غیر معصوم چاہے شیعہ ہو یا سنی، اس کی ذاتی رائے کی کوئی حیثیت نہیں۔ انہوں نے کہا بالکل سو فیصد ٹھیک کہا آپ نے۔

میں نے کہا کہ کیا یہ بھی سچی بات ہے کہ اہل تشیع کے نزدیک صرف قرآن مجید کو تھام لینا اور چودہ معصومین ؑ کو چھوڑ دینا یا صرف چودہ معصومینؑ کو لے لینا اور قرآن مجید کو چھوڑ دینا یہ بھی گمراہی کا باعث ہے، انہوں نے کہا بالکل ایسے ہی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ لی اور آل محمدﷺ کی مظلومیت کا ذکر شروع کیا، کہنے لگے کیا آپ کو پتہ ہے کہ سورہ البقرہ کی پہلی آیت میں جو الم ہے، اس سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا جی نہیں۔ اس پر وہ کہنے لگے کہ اگر میں آپ کو بتاوں تو آپ مانیں گے نہیں! میں نے کہا آپ بتائیں، میں آپ سے سیکھنے ہی تو بیٹھا ہوں۔ کہنے لگے اس سے مراد آِ ل محمد ﷺ ہیں۔(انہوں نے جب سورہ بقرہ کی پہلی دو آیات کی ہی تلاوت کی تو ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے قرآن مجید پنجابی میں نازل ہوا ہو، اعراب، کلمات، مخارج سب خلط ملط کر دیئے تھے)

میں نے مخارج اور لہجے سے صرف نظر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ آپ شیعہ ہیں اور شیعوں کے نزدیک قرآن اور معصوم ؑ کے علاوہ غیر معصوم چاہے شیعہ ہو یا سنی اس کی رائے کوئی اہمیت نہیں رکھتی، آپ نے یہ جو الم سے مراد لی ہے، اگر یہ معصومین ؑ نے کہا ہے اور صحیح السند ہونے کے ساتھ ساتھ، علم الحدیث، فقہ الحدیث اور درایۃ الحدیث کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے تو سر آنکھوں پر، لیکن اگر کسی غیر معصوم کی من گھڑت اختراع ہے تو خود شیعہ عقائد کے مطابق اس طرح کی باتوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ شیعہ غیر معصوم کی بات کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ تھوڑے سے سکوت کے بعد کہنے لگے کہ یہ جو الم کے بعد ذالک الکتاب ہے، اس میں الکتاب سے مراد آل محمد ﷺ ہیں، میں نے کہا اہل تشیع کے ہاں صرف معصوم ؑ کو ہی قرآن مجید کے سارے علم کا احاطہ ہے، لہذا اگر کسی معصوم نے یہاں پر ذالک الکتاب سے مراد آل محمد ﷺ لی ہے تو قبول ہے اور اگر آپ کی شخصی رائے ہے تو خود آپ کے اپنے عقیدے میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

دوبارہ کچھ دیر انہوں نے سکوت کیا تو میں نے عرض کیا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ذالک الکتاب کی تھوڑی سی وضاحت کروں، انہوں نے بادل نخواستہ اجازت دی، جس کے بعد میں نے عرض کیا کہ
1۔ ذالک اسم اشارہ بعید ہے اور جب یہ قریب کے لئے استعمال ہوتا ہے تو یہ مشار الیہ کی عظمت و جلالت کو بیان کرتا ہے۔ ہم اردو زبان میں بھی کسی کی عظمت کو بیان کرنے کے لئے اسی طرح اسم اشارہ بعید کو استعمال میں لاتے ہیں، مثلاً اگر کوئی عظیم شخصیت کسی محفل میں موجود ہو تو ہم اس کے تعارف کے لئے اس طرح کہتے ہیں کہ یہ وہ ہیں، جنہوں نے اتنی کتابیں لکھیں، اتنے حج کئے، اتنی مساجد بنوائیں۔ تو ذالک الکتاب سے مراد یہ ہے کہ یہ وہ عظیم کتاب ہے کہ جس میں۔۔۔۔۔
2۔ ذالک اسم اشارہ ہے اور اس کے فوراً بعد مشار الیہ لایا جاتا ہے، جو کہ الکتاب کی صورت میں موجود ہے، الکتاب پر ال معرفہ ہونے پر دلالت کرتا ہے، یعنی یہ وہ عظیم کتاب ہے، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے اور جسے آپ اچھی طرح پہچانتے ہیں۔ یہ کتاب نکرہ نہیں ہے کہ آپ کوئی اور احتمال دیں اور سرگرداں پھریں کہ اس کتاب سے کیا مراد ہے، یہ کتاب معرفہ ہے، شناخت شدہ ہے، لاریب فیہ اس میں کوئی شک بھی نہیں اور ہدایت بھی ہے۔۔۔

3۔ الکتاب کو ذالک کے لئے عطف بیان یا بدل بھی لیا جا سکتا ہے۔۔۔ میں نے بات جاری رکھنے کی کوشش کی تو دیکھا کہ موصوف بور ہو رہے ہیں، جس پر میں نے کہا کہ  خیر چھوڑیئے، جب آپ نے معصومینؑ کی ہی پیروی کرنی ہے تو پھر آپ خود اپنی رائے تو نہ دیں۔ اگر کسی امام معصوم ؑ نے یہاں الکتاب سے آل محمد مراد لئے ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ آپ کی رائے کی کیا اہمیت ہے! انہوں نے کہا فی الحال اس موضوع کو چھوڑیں اور تشہد ثالثہ پر بات کرتے ہیں، میں نے کہا جی وہ کیا ہوتا ہے، آپ بات کیجئے اور مجھے بھی سمجھایئے، کہنے لگے اس سے مراد یہ ہے کہ نماز میں جو تشھد پڑھتے ہیں، اس میں یہ اضافہ بھی ہونا چاہیئے کہ اشھد ان علیا ولی اللہ۔۔۔۔ میں نے کہا کہ آپ ایک مرتبہ پھر اپنے عقیدے کی طرف پلٹیئے، نماز ایک توقیفی عبادت ہے، جو نبی اکرمﷺ اور چودہ معصومینؑ نے قائم کرکے اور پڑھ کر بتا دی ہے، اگر اس کے بعد میں اور آپ کچھ اضافہ کریں گے تو وہ نبی پاکﷺ اور معصومین والی نماز تو نہیں رہے گی۔

کہنے لگے کہ نہیں آپ مجھے قرآن میں شھادتین کا صیغہ دکھا دیں کہ جہاں دو شہادتیں پڑھنے کا حکم ہوا ہو، میں نے کہا میرے اور آپ کے صیغے ڈھونڈنے سے نماز پڑھنے کا طریقہ پتہ نہیں چلے گا بلکہ جس ہستی پر قرآن نازل ہوا ہے، اس نے اور اس کے گھر والوں نے نماز پڑھ کر سمجھا دیا ہے کہ ایسے نماز پڑھنی ہے۔ میں نے کہا جناب عالی! اگر آپ کو یقین ہے کہ نبی اکرمﷺ اور ان کے بعد حضرت فاطمہ ؑ اور بارہ امام ؑ، اپنی نمازوں میں یہ شھادت پڑھتے تھے، جو آپ کہہ رہے ہیں تو اس میں کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے، لیکن اگر آپ کو یقین ہے کہ وہ تو نہیں پڑھتے تھے اور آپ اس میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو جناب آپ غیر معصوم ہیں اور نماز جیسی عظیم عبادت کو آپ کی ننھی منھی خواہشوں کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ کہنے لگے میں اس پر سوچوں گا، لیکن تقلید جیسے احمقانہ فعل کو میں کبھی بھی قبول نہیں کرسکتا، میں نے کہا بہت اچھی بات ہے، لیکن آپ خود بھی اسی عمل کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ کہنے لگے کیسے!؟ میں نے کہا یہ جو آپ وٹس اپ اور فیس بک پر دن رات لگے رہتے ہیں، میرے جیسے مسکینوں کو پکڑ کر لیکچر دیتے ہیں کہ نماز اس طرح پڑھو اور نماز میں فلاں فلاں چیز پڑھو، یہ آپ دوسروں کو اپنی تقلید کی دعوت دے رہے ہیں، اسی عمل کو تو تقلید کہتے ہیں۔

میں نے کہا کہ آخری بات عرض کرکے آپ سے اجازت چاہوں گا اور وہ یہ ہے کہ آپ جس تقلید کی دعوت دیتے ہیں، اس میں خود آپ کے بارے میں سب جانتے ہیں اور آپ خود بھی جانتے ہیں کہ آپ نے کہیں علم دین حاصل نہیں کیا، آپ کی باتیں اپنی گھڑی ہوئی ہیں، جبکہ دوسری طرف جو لوگ تقلید کی دعوت دیتے ہیں، وہاں مجتھد یا مرجع کہلانے والا چالیس و پچاس سال سے علمی دنیا میں غرق ہوتا ہے، اس کا اوڑھنا اور بچھونا ہی دین ہوتا ہے، اس کا اٹھنا بیٹھنا ہی قرآن و سنت ہوتا ہے اور علم و معرفت کے ساتھ ساتھ  اسکے عمل اور تقویٰ کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ   بڑھاپے، تھکاوٹ اور بیماری کے باوجود اس کی کبھی تہجد کی نماز بھی قضا نہیں ہوتی۔۔۔ میں کہا کہ اگر آپ برا نہ منائیں تو ایک سوال پوچھوں! کہنے لگے، جی پوچھئے! سوال ان کے مزاج کے مطابق تھا، میں نے پوچھا کہ کیا عالم اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں؟ یا کیا غیر معصوم اور معصوم مساوی ہوسکتے ہیں؟ کہنے لگے نہیں، ہرگز نہیں، میں نے دست بستہ عرض کیا کہ بس پھر اپنے عقیدے کو مضبوطی سے تھامئے اور قرآن و معصومینؑ کے مقابلے میں جو بھی غیر معصوم ہو اور اپنی جیب سے چٹکلے پیش کرے، اسے اہمیت نہ دیجئے۔

بات تھوڑی سی کڑوی تھی، میں نے ماحول کو تبدیل کرنا چاہا لیکن موصوف کچھ رنجیدہ سے نظر آرہے تھے، میں نے کہا آپ یقین مانیئے اب میں آپ سے صرف آخری سوال کر رہا ہوں اور وہ یہ ہے کہ تفسیر بالرائے کسے کہتے ہیں؟ کہنے لگے ایسی تفسیر جس میں مفسر اپنی رائے بیان کرے، میں نے کہا تفسیر تو ہوتی ہی مفسر کی رائے ہے، کہنے لگے پھر آپ بتایئے، میں نے کہا آسان لفظوں میں تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آپ کسی چیز کے بارے میں پہلے ایک رائے قائم کرتے ہیں اور ایک فیصلہ کر لیتے ہیں اور اس کے بعد اپنے فیصلے اور اپنی رائے کے حق میں قرآن مجید سے آیات اکٹھی کرتے ہیں۔ یعنی اپنی رائے کو زبردستی قرآن مجید پر ٹھونستے ہیں اور اپنے من گھڑت خیالات کو قرآن مجید سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ قرآن فہمی نہیں بلکہ تفسیرب الرائے ہے اور حرام ہے، جبکہ قرآن فہمی یہ ہے کہ انسان اپنے عقیدے کو قرآن مجید پر تھوپنے کے بجائے قرآن مجید سے اپنے لئے ہدایت، نظریہ اور عقیدہ لے۔ ہم قارئین کو ایک مرتبہ پھر یاد دلانا چاہتے ہیں کہ انسانی زندگی میں عقیدہ محور ہے، انسان ساری زندگی اپنے عقیدے کے گرد گھومتا ہے اور بالآخر اپنے عقیدے پر ہی مر جاتا ہے، کئی مرتبہ تو انسان اپنے عقیدے پر قربان بھی ہو جاتا ہے، لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کا عقیدہ ہے۔ چنانچہ اپنے سب سے قیمتی اثاثے کی حفاظت کیجئے۔
خبر کا کوڈ : 794262
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب