0
Wednesday 15 May 2019 14:15

گوادر سے لاہور تک دہشتگردی کی نئی لہر

گوادر سے لاہور تک دہشتگردی کی نئی لہر
تحریر: طاہر یاسین طاہر

ملکوں کے تعلقات جذباتیت کے بجائے مفادات پر ہوتے ہیں۔ بلا کسی عنوان کے ہم سب جانتے ہیں کہ گوادر پورٹ کی تکلیف کون کون سے ممالک کو کتنی ہے۔ اس گنجلک کھیل میں تو ان ملکوں کو بھی تکلیف ہے، جن کے سروں پر روایتی قبائلی لباس کا نشان مذہبی استعارے میں بدل چکا ہے۔ چاہ بہار ایران کا بھارت کے ساتھ  ایک بڑا ساحلی منصوبہ ہے۔ ظاہر ہے ایران کے اپنے مفادات ہیں اور وہ ضرور اپنے مفادات کو دیکھے گا۔ اسی طرح پاکستان کے اپنے مفادات ہیں، جن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ دبئی کی فری پورٹ کو گوادر پورٹ سے کوئی معاشی و سیاحتی نقصان ہوگا؟ یا نہیں؟ ماہرین اس حوالے سے لب بستہ ہیں، لیکن حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والے زیر لب یہ بھی کہتے ہیں کہ گوادر پورٹ منصوبہ عرب بھائیوں کو بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔

جو ملک معاشی ابتری کے ساتھ سماجی ہیجان اور خلفشار کا شکار ہوں، انھیں سنبھلنے اور یکجا و یک جان ہونے میں وقت لگتا ہے۔ سماجی انصاف وہ عظیم علامت ہے، جو کسی قوم یا معاشرے کو متحد و یکجا کیے رکھتی ہے۔ بلائیں خود بخود آسمان سے نازل نہیں ہوتیں، ان کے اسباب ہوتے ہیں اور ان بلائوں کو ٹالنے کے نسخہ جات بھی ہیں۔ خود احتسابی کامیابی کی کنجی ہے۔ شکست خوردہ اقوام ہمیشہ خود احتسابی سے ڈرتی ہیں۔ ایک انجانا خوف ان کے سر یر میں سرایت کرچکا ہوتا ہے۔ ہم مگر الحمد اللہ شکست خوردہ نہیں، زخم خوردہ ہیں، مگر رویہ ہمارا شکست خوردگان جیسا ہے۔ ایسے ایسے زخم جن کو مندمل ہونے میں آدھی سے زائد صدی لگے گی، وہ بھی اس صورت، اگر ہم نے ابھی اور اسی وقت درست سمت اور علاج کا تہیہ کر لیا تو۔ بہ صورت دگر جز وقتی اقدامات سے بخار اتر تو جاتا ہے مگر جراثیم مرتے نہیں بلکہ جز وقتی ادویاتی استعمال یا انجکشن کے اثر سے ایک سائیڈ پر ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور موسم آتے ہی پلٹ کر وار کرتے ہیں۔

اس امر میں کوئی کلام ہی نہیں کہ پاکستان گذشتہ چار عشروں سے حالت جنگ میں ہے۔ جی ہاں چار عشروں سے، جب سے روس نے افغانستان پر چڑھائی کی، اس وقت سے۔ مہاجرین کو پناہیں دینے سے لر کر ان نام نہاد مجاہدین کی مالی و تکنیکی اعانت تک۔ یہ سب ایک تھکا دینے والی پریکٹس تھی۔ اس سے سنبھلے نہیں تھے کہ نائن الیون نے آن لیا۔ اس جملے نے افغانوں کی زیادہ تباہی کی کہ"کہسار باقی، افغان باقی" کہسار تو باقی ہیں مگر افغانوں کا کوئی اتا پتا نہیں۔ جو بچ گئے وہ زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنے اردگرد پھیلے افغان قبیلوں کی ہیجان انگیزی اور بیزارگی کا مشاہدہ کیجیے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان نےجو فیصلہ کیا، وہ بالکل پاکستان کے مفاد میں تھا۔ اس وقت اگر کوئی بڑا "جمہوری چیمپئیین" ملک کا وزیراعظم اور صدر ہوتا تو اس نے بھی یہی فیصلہ کرنا تھا۔

زمینی حقائق تلخ ہوتے ہیں مگر ہم اپنے سماجی رویئے کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ ہم زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجاے جذباتیت کے کوٹھے پر چڑھ کر آسمان کو سر پر اٹھاتے ہیں۔ نائن الیون کی جنگ کے بعد جبکہ پاکستان اس جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا تو پاکستان کے اندر سے اس جنگ کے خلاف ایک خاص طبقہ ہائے فکر نے آوزیں بلند کیں۔ یہاں تک کہ پاکستانی عوام، پاک فورسز اور مساجد و امام بارگاہوں میں ہونے والے خودکش حملوں کو بھی ہمارے مذہبی حضرات نائن الیون کی جنگ کا ردعمل قرار دینے لگے، کچھ تو ابھی تک یہی کہہ رہے ہیں۔ تاریخ ایسی سخت اور جابر بلا کا نام ہے، جو کسی سے رشتہ داری نہیں بناتی۔ اگرچہ اس میں تبدیلی کی بھی جائے، تب بھی محنت کش محقق نقطہ اعتدال تک پہنچ ہی جاتا ہے۔

 گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ ایک وقت اسلام آباد کی مسجد کے "خدائی فدائیں" نے غیر ملکیوں اور پولیس وال ں تک کو اغوا کر لیا تھا۔ بہارہ کہو اور آبپارہ میں ویڈیو سینٹرز اور سی ڈیز کی دکانیں بند کر وا دی گئیں، ریاست کے پاس اپنی رٹ قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ پروپیگنڈا کرنے والوں نے ریاست مخالف پروپیگنڈا بھی کیا، مگر تاریخ اپنے سینے میں سچ سمیٹے مناسب وقت کے انتظار میں ہے۔ جنوبی و شمالی وزیرستان اور بالخصوص سوات، مینگورہ مالا کنڈ میں کالعدم تحریک طالبان، صوفی محمد کی کالعدم شریعتِ محمدی نے ریاستی رٹ کو تقریباً ختم کر دیا تھا۔ یہ کوئی دو صدی پرانی بات نہیں، یہی کوئی آٹھ دس سال پہلے کی بات ہے۔ پاک فورسز نے محب وطن گروہوں، اہل دانش کی حوصلہ افزائی اور اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتیوں سے دہشت گردی کے ہر گروہ اور ہر ٹھکانے کو ختم کیا۔یہاں تک کہ دہشت گرد افغانستان میں پناہ گزین ہوئے۔

پاکستان مخالف قوتوں کی محفوظ پناہ گاہ افغانستان ہی رہا۔ بلوچ علیحدگی پسند ہوں یا ریاض بسرا جیسے فرقہ وارانہ دہشت گردی کے رکھوالے، ملا فضل اللہ ہو یا کوئی اور۔ افغان سرزمین نے ہمیشہ پاکستان مخالف قوتوں کو خوش آمدید کہا۔ پاک فورسز نے جب دہشت گردوں کی چھوٹی بڑی تمام تنظیموں کو شکست فاش دی تو ان تنظیموں کی بچھی کچھی قیادت یا فدائین نے اپنا رخ اپنے عالمی آقائوں کی طرف کیا۔ کچھ دن قبل یعنی دو رمضان المبارک کو لاہور داتا دربار کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری کالعدم دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار نے قبول کی، اس تنظیم کی قیادت افغانستان میں ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کی قیادت افغانستان میں ہے، بلوچ علیحدگی پسندوں کی چھوٹی بڑی قیادت افغانستان میں ہے، جہاں سے یہ لوگ اپنے "فدائین" یعنی دہشت گردوں کو احکامات جاری کرتے ہیں۔

گوادر میں فائیو سٹار ہوٹل پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند کالعدم دہشت گرد تنظیم بی ایل اے نے قبول کی۔ بی ایل اے نے اپنے جن چار دہشت گردوں کی تصویریں جاری کیں، ان میں سے حمل یا ہمل نامی ایک شخص کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ یہ جو پرسنز ِ"مس" ہوتے ہیں، یہ بلاوجہ "مس" نہیں ہوتے۔ آخری تجزیئے میں تتر بتر ہوئے دہشت گردوں کو ان کے عالمی سرپرستوں نے مجتمع کرنا شروع کر دیا ہے۔ خطے میں خدا نخواستہ ایک نئی جنگ کی تیاریاں عروج پر ہیں، امریکی جنگی جنون کا رخ ایران کی طرف مڑتا دکھاتی ہے۔ سعودی آئل ٹینکر پر متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں حملہ کسی نئے اندیشے کا عنوان بھی ہوسکتا ہے۔ ایسے میں ہمیں بالخصوص گوادر اور بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ ہونا ہی ہے، ہمیں اپنی حکمت عملی کو از سرِ نو دیکھنا ہو گا۔

کئی باتوں کی ایک بات کہ یہ جو "سہولتکار" ہیں، ان پر کڑی نظر رکھی جائے۔ ان کی سرگرمیوں کو ذرا ٹھنڈا کیا جائے۔ دشمن عالمی ہے یا مقامی، یہ بات زیادہ اہم نہیں، کیونکہ اب سب آشکار ہوچکا ہے۔ دشمن عالمی و مقامی ہیں، جن کا باہم گٹھ جوڑ ہے۔ فکری رویئے ان کے خواہ کچھ بھی ہوں، مگر ریاست پاکستان کو کمزور کرنے کے "یک نکاتی" ایجنڈے پر امریکہ، فغانستان اور بھارت کلی متفق ہیں۔ جوں جوں گوادر پورٹ فعال ہوگی اور سی پیک پر سرگرمیاں بڑھیں گی، علیحدگی پسند، دہشت گرد اور ان کے سہولت کار بھی "فعال" ہوں گے۔ دہشت گردوں کی حکمت عملی سکیورٹی فورسز کو پہلے نشانے پر لینا ہے، یعنی سکیورٹی کی پہلی "لیئر" کو ٹوڑنا یا اس میں ہراس پیدا کرنا ہے۔ یہ مگر بزدل دشمن اور دہشت گرد قوتوں کی خام خیالی ہے۔ ہمارے عام جوان سے لے کر سکیورٹی فورسز کے مسلح جوانوں تک، سب یکجا و یکجان ہیں، وطن کی حفاظت کے لیے۔ دہشت گرد جان لیں، ہم مسلح محاذ پر ان سے بڑے مارجن کے ساتھ جیت چکے ہیں۔ اب وہ آسان ہدف کے طرف منہ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں، ان شاء اللہ اس کوشش میں بھی انہیں شکست فاش ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 794433
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب