0
Wednesday 15 May 2019 22:22

مہاتیر محمد کے ملائیشیا کی ترقی کا راز!!!

مہاتیر محمد کے ملائیشیا کی ترقی کا راز!!!
تحریر: نادر بلوچ

قدرتی حسن سے مالا مال اسلامی ملک ملائیشیا مختلف حوالوں سے اہم مقام رکھتا ہے، آپ فضائی سفر کے ذریعے جیسے ہی ملائیشیا کی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو پام آئل کے درخت آپ کا استقبال کرتے ہیں، کشادہ سڑکیں، جدید طرز تعمیر کی عمارتیں اور دیو قامت ہوٹلز کی عمارتیں اس بات کی علامت ہیں کہ ملائیشیا ترقی میں دیگر اسلامی ممالک سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ ملائیشیا ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جنہوں نے مختصر مدت میں عدیم المثال ترقی کی۔ آج ملائیشیا کو دنیا کی تیز رفتاری سے بڑھتی ہوئی معاشی طاقت تصور کیا جا رہا ہے، جس کا اقرار عالمی مالیاتی ادارے اپنی رپوٹس میں بھی کرچکے ہیں۔ آئی ایم ایف کے 2018ء کی رپورٹ کے مطابق ملائیشیا ایشیاء میں بہترین اقتصادی ریکارڈ رکھتا ہے، جس کی شرح نمو یعنی جی ڈی پی کی شرح اوسطاً 5.8 فیصد سالانہ ہے۔

ملائیشیا کی اقتصادیات کی بنیاد قدرتی وسائل پر ہے، ملائیشیا دوسرے ملکوں کو ربڑ اور پام آئل کی برآمدات کرتا ہے، اس کے علاوہ الیکٹرانکس کی چیزیں بھی ملک سے باہر بھیجواتا ہے، لیکن اب یہ سائنس، سیاحت، تجارت اور ٹور ازم کے شعبوں میں بھی بہت آگے بڑھ رہا ہے۔ آج ملائیشیا جنوبی ایشیاء کی تیسری اور دنیا کی 29ویں پوزیشن کے ساتھ ایک بڑی انڈسٹریل مارکیٹ اکانومی کے طور پر دنیا کے منظر نامے پر ظاہر ہوا ہے۔ ملائیشیا دنیا کے اُن 19 ممالک میں بھی شامل ہے، جنہیں پُرامن تصور کیا جاتا ہے۔ ملائیشیا کی معاشی ترقی اور مضبوط و مستحکم نظام کے پیچھے ایک بڑی وجہ معیار تعلیم اور بہتر شرح خواندگی ہے۔

ملائیشیا کل زمینی علاقے لحاظ سے 67واں سب سے بڑا ملک ہے۔ مغرب میں اس کی زمینی سرحد تھائی لینڈ کے ساتھ ملتی ہے جبکہ انڈونیشیا اور برونائی اس کے مشرق میں واقع ہیں، جنوب میں براستہ پل سنگاپور سے منسلک ہے، ویتنام کے ساتھ اس کی سمندری حدود ملتی ہیں۔ ملائیشیا کے دو جدا حصے ہیں، جن کے درميان جنوبی چین سمندر ہے۔ ملائیشیا کی تیرہ ریاستیں ہیں اور ان سب ریاستوں میں رسمی طور پر آج بھی بادشاہ کا علامتی عہدہ موجود ہے، ہر ریاست کی ایک حد بندی ہے، جہاں سے اس کی حدود شروع ہوتی ہے۔ ملائیشیا ایک کثیر النسلی، کثیر ثقافتی سماج ہے، اس کی آبادی میں مسلمانوں 61 اعشاریہ 8 فیصد، بدھ مت 19 اعشاریہ 8 فیصد، عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی تعداد 9 اعشاریہ 2 فیصد، ہندو مذہب کے ماننے والوں کی تعداد 6 اعشاریہ 3 فیصد اور چائنز 1 اعشاریہ 3 فیصد رہ رہے ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے اس کی آبادی تین لاکھ 30 ہزار آٹھ سو تین کلومیٹر ہے، 2017ء کے اعداد و شمار کے مطابق اس کی کل انسانی آبادی تین کروڑ 20 لاکھ سے زائد ہے۔ ملائیشیا کی کرنسی رنگٹ کہلاتی ہے۔

اگر کسی نے جنوبی ایشیاء کے تمام ملکوں کی ثقافت کو ایک ساتھ دیکھنا ہو تو وہ ملائیشیا آکر یہ حسین اتفاق دیکھ سکتا ہے، دارالحکومت کوالالمپور میں آپ کو لٹل انڈیا مارکیٹ مل جائے گی، جہاں آپ کو بھارت سے جوڑی ہر شئے آسانی سے مل سکتی ہے، اسی طرح پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی بھی مارکیٹیں اور ان ملکوں کے پکوان تک دستیاب ہیں۔ ملائیشیا میں لوگ مذہب اور عبادات کے معاملے میں آزاد تصور کیے جاتے ہیں، ریاست کو فرد کے مذہب اور فکر سے کوئی تعلق نہیں، کون کیا پہنتا ہے، اس سے بھی ریاست بالکل لاتعلق ہے، کوئی ہاف سکرٹ پہنتی ہے تو اس کی مرضی اور کوئی چادر اوڑھ کر گومتی ہے تو وہ بھی آزاد ہے، ملائیشیا حکومت نے حال میں ہی ایک قانون بھی پاس کیا ہے، جس کے مطابق دین کی دعوت فقط مساجد کی حدود تک ہی دی جاسکتی ہے، باہر جا کر اجتماع کرنا، دعوتی پروگرام کا احیا کرنا، جلسے جلوس کرنا، ان سب پر پابندی ہے۔

بتایا گیا گیا ہے کہ یہاں ہر تہوار سرکاری سطح پر بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے، حتیٰ بدھ مت کے ماننے والوں کا دن بھی سرکاری سطح پر منایا جاتا ہے اور اس دن عام تعطیل ہوتی ہے، البتہ یوم عاشور کے روز عام تعطیل نہیں ہوتی اور لوگ اپنی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔ دارالحکومت سے ہٹ کر سیاحتی مقامات پر بھی بڑے بڑے ہوٹلز قائم ہیں، جن میں ہر سہولت دستیاب ہے، تالاب تک قائم ہیں، جہاں مرد و خواتین نیکر پہن بےفکر ہوکر نہا سکتے ہیں، کسینو سنٹرز (جوئے کے اڈے) بھی قائم ہیں، جہاں سکون سے جوا کھیلا جاتا ہے اور سرکار اس کی مکمل طور پر سرپرستی کرتی ہے، مساج سنٹرز تک دستیاب ہیں۔

یہاں کا ٹریفک کا نظام لاجواب ہے، کہیں بھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دے گی، نہ ہی کوئی اوور ٹیک کرتا ہوا نظر آتا ہے، تریفک سگنل پر لوگ سکون کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں، جسے ہی اشارہ کھلتا ہے، گاڑیاں چل پڑتی ہیں، شام کے اوقات میں دارالحکومت میں بدترین ٹریفک جام ہو جاتا ہے اور یہ ملائیشین حکومت کے لیے اس وقت ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ تعمیراتی کام زور و شور سے جاری ہیں، موسم کے اعتبار سے یہاں سال کے 365 میں 255 دن بارش رہتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ملائیشیا میں دو ہی موسم ہیں، یا تو بارش ہے یا پھر بارش نہیں ہے، تیسرا کوئی موسم نہیں۔ بقول ایک دوست کے کہ بارش کا پانی ہی جمع کرکے شہری آبادی کو دیا جاتا ہے اور حتیٰ پینے کے لیے بھی یہی پانی استعمال کیا جاتا ہے، سال بھر درجہ حرارت تقریباً ایک ہی رہتا ہے، تاہم گنتنگ جیسے سیاحتی علاقوں میں بعض اوقات خنکی پیدا ہو جاتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 794443
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب