0
Thursday 16 May 2019 00:40

یوم مردہ باد امریکہ بفرمان شہید قائد

یوم مردہ باد امریکہ بفرمان شہید قائد
تحریر: ارشاد حسین ناصر
 
اگر کسی کو امام خمینی و انقلاب کا حقیقی فرزند کہا جا سکتا ہے تو وہ شخصیت قائد شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی کی ہے، وہ پاکستان میں بلاشبہ کسی ڈر، خوف، لالچ اور طمع یا مفاد کے بغیر امام خمینی کی حقیقی نمائندگی کا فریضہ اس طرح ادا کرتے رہے جیسے پنجگانہ نماز کا فریضہ ادا کیا جاتا ہے۔ اگر آپ ان کی صرف ساڑھے چار سالہ قیادت کے دور کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ایک دن بھی سانس نہیں لیا یعنی ایک دن کیلئے بھی خود کو آرام کیلئے وقف نہیں کیا، وہ پاراچنار کے بلند و بالا پہاڑوں سے طلوع ہوئے اور ارض پاک کے طول و عرض میں چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک امام خمینی کی فکر کو راسخ کرنے اور ملت اسلامیہ پاکستان کے مسائل کا حقیقی حل پیش کرنے کیلئے چمکتے دکھائی دیئے۔
 
شہید قائد کے دور میں آئی ایس او کے جوان ان کا دست و بازو ہوتے تھے اور جہاں بھی انہیں تشریف لے جانا ہوتا تھا، یہ سربازان ان کے استقبال اور پروگراموں کو منظم کرنے کیلئے ہر طرح سے فعال دکھائی دیتے تھے، پاکستان میں جس طرح شہید قائد نے امام خٰمینی کی فکر کو پھیلانے کا کام کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے، بالخصوص جوانوں میں ان کی تبلیغ و تعلیمات سے نظریاتی نوجوانوں کی بڑی تعداد تیار ہوگئی اور ایران اسلامی کی طرز پہ پاکستان کے دیرینہ سیاسی و سماجی مسائل حل کرنے کی جدوجہد کرنے لگے اور اس پاک وطن کو استعمار جہاں بالخصوص امریکہ کے خونی و نجس پنجوں سے آزاد کروانے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کرنے لگے۔
 
امام خمینی نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کے تمام تر مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہے اور تم ظلم کے خلاف جتنی دیر سے قیام کرو گے، تمہیں اتنی زیادہ قربانیاں دینا پڑیں گی، اس حوالے سے اہل عراق کی مثال پیش کی جاتی تھی کہ جس طرح ایران کی نسبت عراق کی مرجعیت نے صدام کے خلاف قیام نہیں کیا تو اس کے مظالم کا غروب نہ ہونے والا سورج دیکھتے ہیں اور روزانہ ان کی جان و مال اور عزتوں کو لوٹا جاتا ہے، پاکستان میں بھی اس دور میں امریکہ اپنے پنجے گاڑ چکا تھا۔ جنرل ضیاء الحق امریکی ایجنٹ کے طور پہ افغانستان سے روس کو نکالنے کے نام پہ امریکی سی آئی اے کی غلامی کرتے ہوئے ڈالرز کا شکار بنا ہوا تھا، اسی دور میں امریکہ اپنی بدمعاشی اور طاقت کے گھمنڈ میں کئی کمزور حکومتوں کو پلٹا دیتا تھا اور اس کا سب سے بڑا دشمن اس دور میں بھی اسلامی جمہوری ایران اور اس کی قیادت و رہبری جو امام خمینی کی شکل میں امت کو ایک نعمت کے طور پہ عطا ہوئی تھی، کر رہے تھے۔

ایران کے خلاف امریکہ کی جارحانہ اننگز اور بیانات کا جو سلسلہ آج نظر آ رہا ہے، یہ کوئی نیا نہیں، یہ اسی کے عشرے کے آغاز میں ہی شروع ہوگیا تھا، جب صدام کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے نوزائیدہ انقلاب کو ختم کرنے کیلئے جنگ مسلط کی گئی اور ایران میں تخریب کاریاں کروا کر ایران کی انقلابی و نظریاتی قیادت کو شہید کروایا گیا، مگر اللہ کی خاص مدد اور وقت کے امام کی نظر کرم سے یہ انقلاب امریکہ کے مقابلے میں اس وقت تن تنہا کھڑا رہا، ڈٹا رہا، اس وقت تو بے دست و پا تھا، اب تو اس نے سائنسی میدان میں بے پناہ ترقی کرتے ہوئے اپنی کمزوریوں اور دشمن کی طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا اسلحہ بنا لیا ہے کہ امریکہ کو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں اور اس کے کئی مظاہر انہوں نے کیئے بھی ہیں۔ بات ہو رہی تھی قائد شہید کی امام خمینی کے افکار کی ترویج اور تبلیغ کیلئے جہد مسلسل کی، امریکہ جو امت مسلمہ کا ازلی دشمن تھا، اس کے جرائم کی فہرست بہت طویل تھی اور آج بھی ہے۔

شہید قائد نے اپنی زندگی میں امریکہ کے جرائم کا جتنا مظاہرہ دیکھا، وہ کافی تھا کہ اسے مردہ باد کہا جائے، پکارا جائے اور اس کا دن منایا جائے، بیت المقدس اور القدس شریف پر صیہونیوں کا قبضہ اور ملت فلسطین کے خلاف ان کی جارحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی، وہ امریکہ کو اس سرزمین پر کھل کر للکارتے تھے اور دنیا بھر کے مسلمانوں چاہے ان کا تعلق فلسطین سے ہو یا لبنان سے، افغانستان سے ہو یا فلسطین سے، شہید قائد نے کھل کر مسلمان خائن حکمرانوں اور امریکہ کو للکارا۔ ایک جگہ فرمایا کہ اسی طرح ہم امریکہ کی خلیج میں مداخلت کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر امریکہ نے خلیج میں کسی قسم کی کوئی کارروائی کی تو امریکہ کے مفادات کو دوسری جگہوں پر بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ہو یا کسی اور جگہ پر۔ یعنی کھل کر دھمکی دی کہ ہم پاکستان میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان دنوں بھی آج کی طرح امریکی بحری بیڑہ خلیج میں مسلسل رہتا تھا اور اس نے ایک ایرانی مسافر طیارہ کو نشانہ بھی بنایا تھا۔
 
امام خمینی کے فرمان پر رمضان المبارک کا آخری جمعہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بعنوان عالمی یوم القدس کے طور پہ منایا جاتا تھا، مگر شہید قائد نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے جس روز اہل فلسطین سے ان کا وطن زبردستی چھین لیا گیا اور ایک جعلی ریاست کا وجود سامنے لایا گیا، ایک ایسی ریاست جس کی کوئی سرحد نہیں تھی اور وہ روز بروز امریکی و برطانوی مدد سے ملحق مسلمان ممالک کی زمینوں پر قبضہ کر رہی تھی، اس روز کو یوم مردہ باد کے طور پہ منانے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ اہل فلسطین پندرہ مئی کو جب اسرائیل کا وجود سامنے آیا، اس روز یوم نکبہ مناتے ہیں، مگر شہید قائد نے پاکستان میں یہ شعور بیدار کرنے کیلئے کہ اس کام میں اقوام متحدہ، امریکہ اور برطانیہ بھی شامل ہیں، جنہوں نے آگے بڑھ کے اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اس کے جارحانہ اقدامات کی بھرپور تائید کی، ان کے خلاف 16 مئی کو یوم مردہ باد امریکہ کی بنیاد رکھی۔

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے جوان جو شہید قائد کے فرمان پر جان چھڑکتے تھے، انہوں نے اسے پورے پاکستان میں رواج دیا، کئی ایک مقامات پر انتظامیہ اور پٹھو حکمرانوں کے ظلم کا شکار بھی ہوئے اور بے پناہ قربانیاں پیش کیں۔ لاٹھیاں، گولیاں، اسارتیں، شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات بھی ہوتے رہے مگر ان جوانوں نے شہید کے فرمان پر ہمیشہ لبیک کہا اور کبھی بھی کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ چند سال پیشتر ہی ہمارے ایک دوست علی رضا کراچی امریکی ایمبیسی کے سامنے سولہ مئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے تھے۔ اب بھی اس روز پاکستان بھر میں امریکہ سے اپنی نفرت کا اظہار کیا جاتا ہے اور امت کو امریکی جرائم سے آگاہ کیا جاتا ہے، یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک غلط پروپیگنڈہ کے ذریعے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی سازش کر رہا ہے، تاکہ تقسیم کرو اور قبضہ کرو، کی پرانی پالیسی کے تحت اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

مگر اب امریکہ کو دنیا بھر میں بہت سی مخالفت کا سامنے ہے، خود اس کے اندر داخلی مسائل میں الجھائو پایا جاتا ہے، جبکہ ٹرمپ کی شکل میں ایک مسخرہ اس کا صدر بن کے دنیا کو خطرناک صورتحال سے دوچار کرنے کی دھمکیاں لگا رہا ہے، ایسے میں مزید اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم امریکی جرائم کو سامنے لاتے ہوئے اسے مردہ باد کہتے رہیں، جب تک کہ یہ شکست سے دوچار ہو کر، ذلیل و رسوا ہو کر اپنے گھر لوٹ نہیں جاتا۔ شہید قائد کے جانشینوں کو کبھی بھی یہ فراموش نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ یہ ان کا شروع کردہ دن ہے، ہم تو اسے جاری و ساری رکھیں گے، چونکہ شہید قائد امام خمینی کی فکر و کردار کا عملی نمونہ تھے، ان کا فرمانا بلاشبہ تائید امام ہے، لہذا یوم مردہ باد امریکہ اسی زور و شور اور جذبہ و گرج کے ساتھ منایا جائے۔
خبر کا کوڈ : 794464
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب